رسائی کے لنکس

logo-print

حزب اللہ کی مبینہ سرنگوں کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائی


اسرائیل نے غزہ کی طرح لبنان کے ساتھ اپنی سرحد پر بھی کئی مقامات پر دیوار تعمیر کی ہے۔ (فائل فوٹو)

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ سرنگیں اسرائیلی شہریوں اور ملکی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ تھیں جن کا استعمال کیے جانے سے قبل ہی فوج نے سراغ لگالیا ہے۔

اسرائیل کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساتھ اپنی سرحد پر ان سرنگوں کو تلاش کرکے تباہ کرنے کا ایک بڑا آپریشن شروع کر رہی ہے جو اس کے بقول شیعہ تنظیم حزب اللہ نے سرحد پار حملوں کے لیے کھودی ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان لیفٹننٹ کرنل جوناتھن کون ریکس نے واضح کیا ہے کہ کارروائی صرف اسرائیلی سرحد کے اندر کی جائے گی اور فوج سرحد پار کرکے لبنان میں داخل نہیں ہوگی۔

منگل کو جاری ایک بیان میں فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ فوج کو ایسی کئی سرنگوں کے بارے میں علم ہوا ہے جو لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ نے سرحد کے آر پار کھودی ہوئی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ سرنگیں اسرائیلی شہریوں اور ملکی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ تھیں جن کا استعمال کیے جانے سے قبل ہی فوج نے سراغ لگالیا ہے۔

بیان کے مطابق آپریشن کے پیشِ نظر کسی بھی غیر متوقع صورتِ حال سے نبٹنے کے لیے اسرائیلی فوج نے اپنی شمالی کمانڈ کو چوکنا کردیا ہے اور سرحد پر نفری بڑھادی ہے۔

تاہم اسرائیلی فوج کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے سرحد کے آر پار ایسی کتنی سرنگیں ملی ہیں اور یہ آپریشن کتنا عرصہ جاری رہے گا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف جارح منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن کے نتیجے میں "میدانِ جنگ اسرائیل کے اندر ہی منتقل ہوجائے گا۔"

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کی ممکنہ سرنگوں کا سراغ لگانے کا کام 2013ء میں شروع کیا تھا اور دو سال قبل اس بارے میں ایک ٹاسک فورس بھی قائم کی تھی جس نے سخت محنت کے بعد سرنگوں کا سراغ لگا لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے آپریشن سے قبل سرحد کے ساتھ کئی مقامات بھی بند کردیے ہیں اور عینی شاہدین کے مطابق سرحد کے نزدیک اسرائیلی فوج کی غیر معمولی نقل و حرکت دیکھی جا رہی ہے۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سرحد کے نزدیک اسرائیلی فوج کی کوئی بڑی کارروائی یا نقل و حرکت سرحد پار حزب اللہ کو مشتعل کرسکتی ہے اور نتیجتاً دونوں کے درمیان پھر کوئی تنازع جنم لے سکتا ہے۔

ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان 2006ء میں ایک جنگ بھی ہوچکی ہے جو ایک ماہ جاری رہی تھی۔

اس جنگ کے بعد سے دونوں ممالک کی سرحد پر عموماً امن رہا ہے۔ لیکن حالیہ چند ماہ کے دوران اسرائیل شام میں حزب اللہ کے کئی ٹھکانوں پر بمباری کرچکا ہے جہاں لبنانی تنظیم کے ہزاروں جنگجو صدر بشار الاسد کی حامی فوج کے ہمراہ باغیوں سے برسرِ پیکار ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG