رسائی کے لنکس

فلمی سرگرمیوں کی مکمل بحالی کے لیے ہالی وڈ یونینز اور فلم اسٹوڈیوز میں معاہدہ


ہالی وڈ کی سرِ فہرست تمام بڑی یونینز اور فلم اسٹوڈیوز کے مابین کرونا وائرس سے متعلق حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے۔

کرونا وائرس کے سبب ہالی وڈ انڈسٹری کو بڑے پیمانے پر نقصانات اور مشکلات کا سامنا ہے۔ فلمی سرگرمیاں اب تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکیں۔ پروڈکشن تاحال معطل ہے اور تیار شدہ فلموں کی ریلیز بھی التوا کا شکار ہے۔

اس صورتِ حال میں ایک خوش کُن خبر یہ ہے کہ ہالی وڈ کی سرِ فہرست تمام بڑی یونینز اور فلم اسٹوڈیوز کے مابین کرونا وائرس سے متعلق حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے۔

اس اقدام سے نہ صرف یونینز کی دوبارہ کام پر واپسی کا امکان ہے بلکہ پروڈکشن بھی شروع ہو سکے گی۔

ہالی وڈ یونینز اور اسٹوڈیوز کے درمیان کئی ماہ سے کرونا وائرس ٹیسٹ، اس سے متعلق آلات اور دیگر ساز و سامان کی فراہمی اور تنخواہوں سے متعلق معاملات تعطل کا شکار تھے تاہم امید کی جا رہی ہے کہ اس معاہدے کے بعد یہ تعطل دور ہو جائے گا۔

معاہدے سے قبل ہالی ووڈ کی پانچ سرفہرست اور بڑی یونینز نے مشترکہ طور پر طے شدہ قواعد و ضوابط پر مذاکرات کیے تھے۔ ان مذاکرات میں اداکار، ہدایت کار اور متعلقہ ماہرین شامل ہیں۔ ان یونینز کے اراکین کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 50 ہزار ہے۔

مذاکرات میں ڈزنی، یونیورسل، پیرا ماؤنٹ اور وارنر برادرز کے ساتھ ساتھ مشہور ٹی وی نیٹ ورکس سمیت بڑے اسٹوڈیوز کی نمائندہ تنظیم الائنس آف موشن پکچر اینڈ ٹیلی ویژن پروڈیوسرز شریک تھے۔

ہالی وڈ ٹیم سیٹرز یونین کے ڈائریکٹر تھامس او ڈونل نے 'اے ایف پی' کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ مجھے کامل یقین ہے کہ طے شدہ پروٹوکولز یا معاہدے پر عمل درآمد سے عملے اور کاسٹ کو محفوظ رکھنے میں پوری طرح مدد ملے گی۔

رواں سال مارچ میں کرونا وائرس کے آغاز کے ساتھ ہی ہالی وڈ انڈسٹری میں تمام سرگرمیاں روک دی گئی تھیں۔ جنہیں جزوی طور پر جون کے آخر میں دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملا لیکن یہ سرگرمیاں تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی ہیں۔

دوسری جانب معاہدے کے باوجود کرونا وائرس کی موجودگی میں انشورنس میں کمی، مقامی پابندیوں اور لوکیشنز پر انفیکشنز کا رسک اپنی جگہ برقرار رہے گا۔ یہ معاملات بھی فلمی سرگرمیوں میں رکاوٹ کا سبب ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG