رسائی کے لنکس

logo-print

آسٹریلیا کا ہانگ کانگ کے شہریوں کو قبول کرنے پر غور


برطانیہ سے چین کو ہانگ کانگ کی منتقلی کی سالگرہ کے موقع پر ہانگ کانگ میں مظاہرہن اپنے پانچ مطالبے تسلیم کیے جانے پر زور دے رہے ہیں۔ یکم جولائی 2020

آسٹریلیا کی حکومت اس تجویز پر غور کر رہی ہے کہ وہ ہانگ کانگ کے شہریوں کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہے۔ برطانیہ نے آسڑیلیا سے درخواست کی ہے کہ اگر اچانک کثیر تعداد میں ہانگ کانگ سے لوگ ترک مکانی کر کے آنا چاہیں تو وہ انہیں اپنے ملک میں آباد کرنے پر غور کرے۔

برطانیہ نے آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ، اور امریکہ سے درخواست کی ہے کہ وہ ہانگ کانگ سے مجبوراً بے دخل ہونے والوں کو اپنے ملکوں میں پناہ دیں۔ برطانیہ پہلے ہی انہیں سیاسی پناہ دینے کی پیش کش کر چکا ہے۔

سڈنی سے وائس آف امریکہ کے نامہ نگار فل مرسر نے خبر دی ہے کہ آسٹریلیا کی حکومت اس تجویز پر غور کر رہی ہے۔

ہانگ کانگ کے بہت سے شہریوں کو اندیشہ ہے کہ وہ چین کے نئے قانون کی زد میں آ سکتے ہیں اور پیش بندی کے طور پر وہ آسٹریلیا کے انسانی ہمدردی کے پروگرام کے تحت آسٹریلیا آنے کی درخواستیں دے رہے ہیں۔

آسٹریلیا کے بہت سے حکومتی اراکین پارلیمنٹ ہانگ کانگ کے شہریوں کے خلاف چین کی کارروائیوں پر برافروختہ ہیں اور حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اس کے خلاف کوئی قدم اٹھائے۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے کہا ہے کہ نئی آبادکاری کے منصوبوں کے بارے میں مسودہ قانون تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کئی ہفتے قبل ان تجاویز کو مرتب کرنے کے احکامات دے دیے تھے اور اب ان تجاویز کی نوک پلک درست کی جا رہی ہے۔ جو جلد ہی کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کر دی جائیں گی۔

2015 میں آسٹریلیا نے شام کے بحران کے پیش نظر وہاں سے فرار ہونے والے تقریباً 12000 ہزار شامیوں کو پناہ دی تھی۔ یونیورسٹی آف سڈنی میں چینی قوانین کے پروفیسر بن لن کہتے ہیں کہ ہانگ کانگ کے شہریوں پر بھی اسی قسم کے قانون کا اطلاق ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کا یہ اقدام بین الاقوامی سطح پر ہانگ کانگ کے شہریوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار ہو گا۔

چین نے آسٹریلیا کے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے اسے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔

ہانگ کانگ کے شہریوں کو آباد کرنے کے اس خصوصی انتظام سے چین اور آسٹریلیا کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو جائیں گے۔ اس سے پیشتر آسٹریلیا نے کرونا وائرس کی آغاز کے بارے میں بین الاقوامی تفتیش کا مطالبہ کیا تھا جس پر چین ناراض تھا۔ واضح رہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے بہت بڑے تجارتی حلیف ہیں۔

ہانگ کانگ میں حال ہے میں جو سیکیورٹی قانون نافذ کیا ہے، اس کی وجہ سے وہاں کے شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں اور دوسرے ملکوں میں سکونت اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ مگر اس سلسلے میں وہ مغربی ملکوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جب کہ تائیوان نے اس ہفتے ایک نیا دفتر کھولا ہے، جو ہانگ کانگ کے ان شہریوں کی درخواستیں وصول کرے گا جو تائیوان میں پناہ لینا چاہتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ہانگ کانگ کے بہت کم شہری تائیوان آنا چاہیں گے۔ ان کے خیال میں تائیوان بھی ہانگ کانگ جیسا ہے اور اس کا مستقبل خاصا غیر محفوظ ہے۔ اس کے علاوہ ہانگ کانگ کے بڑے سرمایہ دار مغربی ملکوں میں جا کر سرمایہ کاری کو ترجیح دیں گے۔

پچھلے سال ہانگ کانگ کے پانچ ہزار کے لگ بھگ شہریوں کو تائیوان میں رہائشی اجازت نامہ ملا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG