رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس پاکستان کے کن علاقوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے؟


فائل فوٹو

پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بعض شہروں میں کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث کچھ علاقوں کو 'ہاٹ اسپاٹ' قرار دیا جا رہا ہے۔ یعنی وہ علاقے کرونا وائرس کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔

منگل کی صبح تک ملک بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9200 سے زائد ہو چکی ہے جب کہ 192 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ کرونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض پنجاب میں ہیں جہاں 4195 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ سندھ میں 2764، خیبر پختونخوا میں 1276، بلوچستان میں 465، اسلام آباد میں 185، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 50 اور گلگت بلتستان کے علاقوں میں 281 افراد کرونا وائرس کے مریض پائے گئے ہیں۔

کرونا وائرس کا شکار ہونے والے دو ہزار سے زائد افراد اس وبا کو شکست دے کر صحت یاب ہو چکے ہیں۔

دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ لاہور، راولپنڈی، گجرات، کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، کوئٹہ اور پشاور سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں کو کرونا وائرس کے 'ہاٹ اسپاٹس' قرار دیا جا رہا ہے۔

ملک کے مختلف حصوں میں یہ 'ہاٹ اسپاٹس' کہاں کہاں ہیں؟ جانتے ہیں اس رپورٹ میں۔

اسلام آباد

اسلام آباد کے بعض علاقوں میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث نقل و حرکت محدود کی گئی ہے۔ دارالحکومت میں اب تک کرونا کے 185 مریض سامنے آ چکے ہیں جن سے تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ کرونا وائرس کو شکست دے کر صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 20 ہے۔

اسلام آباد میں 24 مارچ کو کرونا وائرس کا پہلا کیس بھارہ کہو کے علاقے میں رپورٹ ہوا تھا۔ یہاں ایک مسجد میں مقیم تبلیغی جماعت کے رکن کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے دو روز بعد اسی علاقے میں مزید نو افراد کرونا وائرس کے مریض پائے گئے تھے۔ متعدد کیسز سامنے آنے کے بعد اس علاقے کو فوج کی مدد سے سیل کر کے 'ہاٹ اسپاٹ' قرار دیا گیا تھا۔

بعد ازاں شہزاد ٹاؤن، ایچ نائن، سیکٹر جی سیون اور جی سکس کے علاقوں میں مزید کیسز سامنے آئے۔ اسلام آباد کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی 'پی ڈبلیو ڈی' میں ایک ہی گھر سے کرونا وائرس کے چھ کیسز سامنے آنے کے بعد اس علاقے کی گلی نمبر 44 کو مکمل سیل کر دیا گیا تھا۔

اسلام آباد کے نواحی علاقے ترامڑی میں بھی ایک ہی گلی میں 16 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ اس علاقے کو بھی مکمل سیل کیا گیا تھا۔

بیرون ممالک سے اسلام آباد پہنچنے والے پاکستانیوں کو بھی دارالحکومت کے مختلف ہوٹلوں میں ہی قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔ اب تک بیرون ملک سے آنے والے 30 پاکستانیوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے وائس آف امریکہ کے نمائندے عاصم علی رانا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں بیرون ملک سے دو ہزار پاکستانی اسلام آباد پہنچے ہیں۔ بیرون ملک سے آنے والے 30 مریضوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

اسلام آباد میں ہاٹ اسپاٹس سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس وقت لوہی بھیر، سیکٹر جی ٹین اور ترامڑی چوک کے علاقے ہاٹ اسپاٹ قرار دیے گئے ہیں۔ ان علاقوں میں کرونا وائرس کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں۔ آئی ٹین کے علاقے میں ایک ہی گھر سے نو کیسز سامنے آئے ہیں۔ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ان علاقوں کو مکمل سیل کیا گیا ہے۔

پنجاب میں ہاٹ اسپاٹس

کرونا وائرس سے پنجاب کے پانچ شہر سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ محکمۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور، راولپنڈی، گجرات، گوجرانوالہ اور جہلم میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ان شہروں میں کرونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

وزیرِ صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے وائس آف امریکہ کے نمائندے ضیاء الرحمٰن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں یہی پانچ شہر کرونا وائرس کا مرکز بن سکتے ہیں۔ جس سے نمٹنے کے لیے حکومتِ پنجاب نے مکمل تیاری کی ہوئی ہے۔

ڈاکٹر یاسمین کے مطابق جہلم اور گوجرانوالہ میں کرونا وائرس بیرونِ ملک سے آنے والے پاکستانیوں کے ذریعے پھیلا ہے۔ یہاں سامنے آنے والے مریضوں میں سے اکثریت ان افراد کی ہے جو روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک گئے ہوئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں 10 ہزار بیڈز کو کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے مختص کیا گیا ہے اور ضرورت پڑنے پر یہ تعداد 22 سے 25 ہزار بیڈز تک بڑھائی جا سکتی ہے۔

محکمۂ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ پنجاب کے مطابق لاہور میں کرونا وائرس زیادہ تر لوکل ٹرانسمیشن کے ذریعے پھیلا ہے۔

محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ پنجاب کے سیکریٹری کیپٹن ریٹائرڈ عثمان یونس نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ رائے ونڈ کے علاوہ کسی بھی جگہ کے رہائشیوں کی کوئی ٹریول ہسٹری سامنے نہیں آئی ہے۔

عثمان یونس کے مطابق لاہور کے علاقوں شاہدرہ، اسکندریہ کالونی، شالامار اور مکھن پورہ میں یہ وائرس مقامی طور پر پھیلا ہے۔

سندھ کی صورتِ حال

سندھ کے صوبائی محکمۂ صحت نے 18 سے زائد ایسے مقامات کا تعین کیا ہے جہاں کرونا وائرس انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

کراچی سے وائس آف امریکہ کے نمائندے محمد ثاقب کے مطابق سندھ حکومت کے مطابق کرونا وائرس کے زیادہ تر 'ہاٹ اسپاٹس' کراچی میں ہیں جن میں ضلع شرقی کے گلشن اقبال کی بعض یونین کمیٹیاں، گلزارِ ہجری، منظور کالونی، جیکب لائن اور ڈالمیا کا علاقہ شانتی نگر شامل ہیں۔

اسی طرح ضلع غربی میں افغان بستی اور اس کے اطراف میں قائم کچی آبادی کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا مرکز قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق لیاری کا علاقہ بھی 'ہاٹ اسپاٹ' بن رہا ہے جہاں اب تک 74 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ کئی افراد کی رپورٹ آنا ابھی باقی ہے۔

اسی طرح حیدرآباد، نواب شاہ، میرپور خاص، گھوٹکی اور لاڑکانہ کے مختلف علاقوں کو بھی 'ہاٹ اسپاٹس' قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک درجن ایسے علاقے یا یونین کمیٹیاں ہیں جنہیں حکام نے سیل کیا ہوا ہے۔

سندھ بھر میں تبلیغی جماعت سے وابستہ 4955 افراد میں سے 658 افراد میں کرونا وائرس مثبت پایا گیا ہے جب کہ 162 افراد کے ٹیسٹ کے نتائج آنا باقی ہیں۔

بلوچستان کی صورتِ حال

پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ شروع ہوا تو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا بلوچستان کو کرنا پڑا۔ ایران سے آنے والے ہزاروں زائرین کو تفتان میں روکا گیا اور ان کے لیے قرنطینہ مراکز بنائے گئے۔ لیکن ناقص انتظامات کے باعث یہ وائرس تیزی سے لوگوں میں پھیلا اور جب ان قرنطینہ مراکز میں مقیم لوگوں کی بڑی تعداد اس سے متاثر ہوئی۔

بلوچستان کا مرکزی شہر کوئٹہ کرونا وائرس کا 'ہاٹ اسپاٹ' ہے جہاں ملک بھر کے مجموعی کیسز کی 2.49 فی صد تعداد ہے۔ اس کے ساتھ مستونگ، جعفر آباد، پشین، لورالائی، نوشکی، بولان، قلعہ عبداللہ اور چاغی میں بھی کرونا وائرس کے متعدد مریض پائے گئے ہیں۔

اسلام آباد کی نواحی بستیوں میں کرونا وائرس کا خطرہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:34 0:00

گلگت بلتستان اور پاکستانی کشمیر

گلگت بلتستان میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض نگر کے علاقے سے سامنے آئے ہیں۔ یہاں کرونا وائرس کے مریضوں میں سے زیادہ تر تعداد ان افراد کی ہے جو زیارتوں کے لیے ایران گئے تھے۔

نگر کے علاوہ گلگت، استور، دیامر اور اسکردو میں بھی کرونا وائرس کے مریض سامنے آ چکے ہیں۔

گلگت بلتستان میں کرونا وائرس کے مرض میں مبتلا ہو کر پہلا ڈاکٹر بھی ہلاک ہوا تھا جس کے بعد حفاظتی سامان کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ چین کی حکومت نے بھی گلگت بلتستان کے لیے خصوصی طور پر زمینی راستے سے طبّی سامان بھجوایا ہے۔

ادھر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی کرونا وائرس کے 50 مریض سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ بیرون ملک سے کشمیر پہنچے تھے۔

خیبر پختونخوا کی صورتِ حال

خیبر پختونخوا کا مرکزی شہر پشاور کرونا وائرس کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے زیادہ تر متاثرہ مریضوں کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔ اور صوبے میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں پشاور میں ہوئی ہیں۔

پشاور سے وائس آف امریکہ کے نمائندے شمیم شاہد کے مطابق ڈاکٹروں کی ایک تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر رضوان کنڈی نے بتایا ہے کہ صوبے کی زیادہ تر آبادی کا انحصار پشاور کے اسپتالوں پر ہے جس کے نتیجے میں زیادہ تر اموات پشاور میں ہی ہو رہی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں تین درجن سے زیادہ ڈاکٹرز، نرسز اور طبی عملے کے ارکان میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ڈاکٹر رضوان کنڈی کے مطابق حکومت کی طرف سے ڈاکٹروں کی حفاظت کے مناسب انتظامات نہیں کیے جا رہے۔ جس کے باعث ڈاکٹروں کے متاثر ہونے کے خطرات بہت زیادہ ہیں۔

پشاور میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے 30 سے زائد علاقوں کو مکمل بند کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG