رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی اٹارنی جنرل کو توہینِ کانگریس کے الزام کا سامنا


امریکی اٹارنی جنرل ولیم بر سینیٹ کی کمیٹی برائے عدالتی امور کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے سے قبل حلف اٹھا رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

امریکی ایوانِ نمائندگان کی ایک کمیٹی نے اٹارنی جنرل ولیم بر کے خلاف کانگریس کی توہین کرنے کے الزام میں کارروائی شروع کرنے کی قرارداد منظور کرلی ہے۔

ایوان کی کمیٹی برائے عدالتی امور نے بدھ کو اپنے اجلاس میں اٹارنی جنرل کو توہینِ کانگریس کا مرتکب قرار دینے کی قرارداد 16 کے مقابلے میں 24 ووٹوں سے منظور کی۔

کمیٹی کے تمام 24 ڈیموکریٹس ارکان نے قرارداد کے حق میں جب کہ تمام 16 ری پبلکنز نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

کمیٹی سے قرارداد کی منظوری کے بعد اب اسی نوعیت کی قرارداد پورے ایوان میں پیش کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ ڈیموکریٹ پارٹی کے قائدین اس قراداد کو ایوان میں کب پیش کریں گے۔

اٹارنی جنرل کے خلاف توہینِ کانگریس کے الزام میں کارروائی کی سفارش ان کی جانب سے خصوصی تفتیش کار رابرٹ ملر کی مکمل رپورٹ کانگریس کے حوالے کرنےسے انکار کی وجہ سے کی گئی ہے۔

کانگریس کے ڈیموکریٹ ارکان نے اٹارنی جنرل اور محکمۂ انصاف سے رپورٹ کا بغیر کانٹ چھانٹ کے مکمل مسودہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس سے محکمۂ انصاف معذرت کرچکا ہے۔

رپورٹ کی مکمل نقل فراہم نہ کرنے پر کانگریس کے ڈیموکریٹ ارکان خاصے برہم ہیں۔ ڈیموکریٹس اٹارنی جنرل کے اس موقف کو مسترد کرچکے ہیں کہ رپورٹ میں رابرٹ ملر نے صدر ٹرمپ کو روس کے ساتھ ساز باز کے الزامات سے بری الذمہ قرار دے دیا ہے اور ان کا موقف ہے کہ وہ خود مکمل رپورٹ دیکھ کر اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا صدر کے خلاف مزید کسی کارروائی کی ضرورت ہے یا نہیں۔

اگر ایوانِ نمائندگان نے بھی اٹارنی جنرل کے خلاف توہینِ کانگریس کی قرارداد منظور کرلی تو ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ چلایا جاسکتا ہے جس میں انہیں ایک سال تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

کانگریس کے پاس دوسرا راستہ یہ ہوگا کہ وہ کسی وفاقی عدالت کے جج سے رابرٹ ملر کی مکمل رپورٹ جاری کرنے کی درخواست کرسکتی ہے۔ ڈیموکریٹ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس آپشن پر غور کر رہے ہیں۔

بدھ کو کمیٹی میں اٹارنی جنرل کے خلاف قرارداد پر رائے شماری سے قبل وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ ایوان کی کمیٹی نے جو مواد اور دستاویزات طلب کی ہیں، انہیں پوشیدہ رکھنے کے لیے صدر اپنا خصوصی صدارتی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے کہا تھا کہ کمیٹی کے ڈیموکریٹ چیئرمین جیرالڈ نیڈلر محکمۂ انصاف کی معذرت کے باوجود رابرٹ ملر کی رپورٹ اور اس سے متعلقہ مواد طلب کرکے اختیارات کا بدترین استعمال کر رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ کمیٹی کے ڈیموکریٹ چیئرمین اس طرح کی حرکتیں کرکے عوام کی توجہ صدر کے تاریخی کامیاب ایجنڈے اور ملک کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت سے ہٹانا چاہتے ہیں اور وائٹ ہاؤس اور اٹارنی جنرل دونوں ان کے کسی غیر قانونی اور بے جا مطالبے پر سرِ تسلیم خم نہیں کریں گے۔

اٹارنی جنرل کے خلاف قرارداد پر رائے شماری سے ایک روز قبل ایوان کی کمیٹی اور محکمۂ انصاف کے نمائندوں نے ملاقات کی تھی جس میں رپورٹ کی فراہمی سے متعلق پیدا ہونے والے تنازع کے حل پر بات چیت کی گئی تھی۔

لیکن یہ ملاقات بھی بے نتیجہ رہی تھی جس کے اختتام پر دونوں فریقوں نے اپنے الگ الگ بیانات میں کہا تھا کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG