رسائی کے لنکس

طالبان اقتدار میں آئے تو بھارت کی افغان پالیسی کیا ہو گی؟


فائل فوٹو

طالبان اور افغان حکومت کے نمائندوں کے درمیان بین الافغان مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری ہیں اور دنیا کے کئی ملکوں کی نظریں ان مذاکرات کے نتائج پر ہیں۔

طالبان کی 2001 میں حکمرانی کے خاتمے کے لگ بھگ دو دہائی بعد پہلی مرتبہ افغان دھڑے براہِ راست مذاکرات میں افغانستان کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔

تجزیہ کار یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ کسی سیاسی سمجھوتے کے بعد اگر طالبان اقتدار میں آتے ہیں تو اُن کی بھارت سمیت خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کیسے ہوں گے؟

مبصرین کا خیال ہے کہ نئی دہلی افغانستان کی مستقبل کی حکومت سے بھی تعلقات استوار رکھنے کا خواہاں ہے جس کا اظہار بھارتی وزیرِ خارجہ نے بھی کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے بین الافغان مذاکرات کی افتتاحی تقریب میں میزبان قطر کے علاوہ امریکہ، چین، روس، پاکستان سمیت بھارت کے نمائندوں نے خطاب کیا تھا۔

ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا تھا کہ افغانستان کے بارے میں بھارت کی پالیسی یکساں رہی ہے۔ نئی دہلی کا خیال ہے کہ امن عمل افغان قیادت، افغان ملکیت اور افغان کنٹرول میں ہونا چاہیے۔

بین الافغان مذاکرات کی افتتاحی تقریب ہفتے کے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہوئی تھی۔
بین الافغان مذاکرات کی افتتاحی تقریب ہفتے کے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہوئی تھی۔

بھارتی وزیرِ خارجہ کے مطابق ایک بڑے ترقیاتی شراکت دار کی حیثیت سے بھارت نے افغانستان کے تمام 34 صوبوں میں 400 سے زیادہ منصوبے مکمل کیے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے بقول بھارت افغانستان کی بدلتی صورتِ حال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے اور بین الافغان مذاکرات کے تناظر میں اپنی حکمت عملی مرتب کرے گا۔

سابق بھارتی سفارت کار اور 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد بھارتی سفارتی مشن کے رُکن گوتم مکھو پادھيائے نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اگرچہ بھارت کے طالبان کے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار رہے ہیں۔ لیکن اُن کے بقول اب بھارت خطے کے معروضی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا۔

گوتم مکھو پادھيائے کا کہنا تھا کہ بھارت کی حکومت کو جلد بازی کا مظاہرہ نہيں کرنا چاہیے۔ کيوں کہ ابھی معاملات کسی حتمی نتيجے پر نہيں پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ نئی دہلی حکومت مستقبل ميں اپنے مفادات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے طالبان سے بات چيت کرے گی۔ کیوں کہ افغانستان ميں ترقی اور قیامِ ِامن بھارت کی بھی بہت بڑی خواہش ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بین الافغان مذاکرات سے بھارتی وزیرِ خارجہ کا خطاب یہ ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان میں چاہے طالبان کی حکومت ہی کیوں نہ ہو، بھارت وہاں اپنی سرمایہ کاری جاری رکھے گا۔

امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے حال ہی میں پاکستان کے بعد بھارت کا دورہ کیا تھا جس کے بعد ماہرین خیال ظاہر کر رہے ہیں امریکہ بھی یہ چاہتا ہے کہ بھارت، افغانستان میں اپنا کردار ادا کرتا رہے۔

بھارت کے طالبان کے ساتھ تعلقات کی تاریخ

طالبان کے دورِ حکومت میں بھارت کے طالبان کی حکومت سے تمام روابط منقطع تھے جب کہ 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد نئی دہلی نے کابل کے ساتھ تعلقات استوار کیے تھے۔

نومبر 2001 میں گوتم مکھو پادھيائے نے کابل ميں ايک ايسے وقت ميں بھارتی سفارت خانے کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی تھی جب وہاں پر کاغذ اور پين تک دستياب نہيں تھے۔

اُن کے بقول بھارت نے افغانستان میں اس وقت اپنا سفارتی مشن تعینات کیا جب امريکہ کے حملے کو ايک ماہ سے زيادہ گزر چکا تھا۔ شمالی اتحاد کی فورسز دارالحکومت کابل پر قبضہ کر چکی تھیں اور قريبی علاقوں ميں امريکی اور اتحادی افواج کی طالبان کے خلاف لڑائی جاری تھی۔

ياد رہے کہ بھارت نے 1996 ميں طالبان کے کابل کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اپنا سفارت خانہ مکمل طور پر بند کر ديا تھا۔ تاہم اب اس کے کابل میں سفارت خانے کے علاوہ مزار شریف، ہرات، قندھار اور جلال آباد میں قونصل خانے قائم ہیں۔

مکھو پادھيائے کے مطابق کابل کا ماحول ان کے لیے امن و امان کے لحاظ سے پرُ خطر نہيں تھا۔ کيوں کہ بھارت کے شمالی اتحاد سے پہلے ہی اچھے تعلقات تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے بھارتی مشن کو کابل ميں خوش آمديد کہا۔

مکھو پادھيائے افغانستان ميں بھارت کے چيف لائژن افسر (رابطہ کار) تھے۔ حامد کرزئی کے افغانستان کے عبوری حکمران بننے کے بعد مارچ 2002 ميں جب وويک کاٹجو کو بھارت کا سفير نامزد کيا گیا تب مکھو پادھيائے کو واپس نئی دہلی بلا ليا گيا تھا۔

افغانستان ميں 2008، 2009 اور 2010 ميں تين بار بھارتی مشن کو نشانہ بنايا گيا۔ پہلے حملے ميں بھارت کے ڈيفنس اتاشی اور ڈپٹی چيف مارے گئے۔ دوسرے حملے ميں بھارتی مشن کے عملے کے چند ارکان اور ويزہ کے حصول کے لیے سفارت خانے آنے والے متعداد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تيسرا حملہ کابل کے اُس گيسٹ ہاؤس پر کيا گيا تھا جہاں بھارت کے سفارتی اہل کار مقیم تھے۔

مکھو پادھيائے کو 2010 ميں افغانستان ميں بطور سفير تعينات کیا گیا۔

مکھو پادھيائے کے مطابق اُن کی افغانستان میں تين سالہ تعیناتی کے دوران مشن پر کوئی براہِ راست حملہ نہیں ہوا تھا۔

گزشتہ حملوں کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ طالبان سے زیادہ حقانی نيٹ ورک کے ان حملوں میں ملوث ہونے کے امکانات تھے۔

مکھو پادھيائے 2010 سے 2013 میں افغانستان میں بطور سفير گزارے ہوئے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس دوران بھارت کے لیے ماحول بہت مثبت تھا اور عام لوگوں کی بھی بھارت کے لیے بہت مثبت سوچ تھی۔ کيوں کہ بھارت افغانستان میں کئی ترقياتی منصوبوں پر کام کر رہا تھا۔

رواں برس 29 فروری کو امريکہ اور طالبان کے درميان دوحہ ميں امن معاہدے کے بعد بہت سے ممالک نے طالبان سے رابطوں میں اضافہ کیا ہے۔ امريکی نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خليل زاد نے بھارت کی حکومت پر بھی زور ديا ہے کہ وہ طالبان سے براہِ راست بات چيت کرے۔

دوسری جانب پاکستان نے افغانستان میں بھارت کی موجودگی کو ہمیشہ مشکوک نظروں سے دیکھا ہے۔

پاکستان کے سابق سیکرٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین ملک گوتم مکھو پادھيائے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے بقول افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے اور اب بھارت کی موجودگی نے اسے مزید وسیع کر دیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے آصف یاسین نے بتایا کہ ماضی میں پاکستان کی حکومت نے متعدد بار کابل کی توجہ شرپسند عناصر کی جانب توجہ دلائی لیکن پاکستان کو تعاون حاصل نہیں ہوا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ فرق یہ سامنے آیا ہے کہ پہلے خاد (سابقہ افغان انٹیلی جنس ایجنسی) روس کے خفیہ ادارے کے ساتھ مل کر پاکستان میں کارروائیوں میں ملوث تھی اور اب روسی انٹیلی جنس ایجنسی کی جگہ بھارت کے خفیہ ادارے 'را' نے لے لی ہے اور وہ این ڈی ایس (موجودہ افغان انٹیلی جنس ایجنسی) کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہے۔

سابق سیکرٹری دفاع نے مزید کہا کہ وہ مستقبل میں افغانستان میں مخلوط حکومت دیکھ رہے ہیں، لیکن وہ اس سوچ سے اختلاف رکھتے ہیں کہ کابل میں طالبان کے آنے سے پاکستان کے لیے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

ان کے مطابق طالبان کے گزشتہ دور میں بھی ایسا نہیں تھا اور اب انہوں نے امریکہ کے ساتھ نہ صرف برابری بلکہ اپنی شرائط پر مذاکرات کیے ہیں۔

آصف یاسین نے کہا کہ موجودہ طالبان ماضی کے طالبان سے مختلف ہوں گے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ بھارت کے ساتھ ان کا رویہ دشمنی پر مبنی ہو گا۔ ان کے بقول نئی دہلی نے بھی افغانستان میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے اور وہ بھی نہیں چاہے گا کہ اس کے افغانستان سے تعلقات یک دم خراب ہو جائیں۔

آصف یاسین کے مطابق اس حقیقت سے طالبان بھی آشنا ہیں کہ افغانستان اب ماضی والا افغانستان نہیں ہے جسے وہ 20 سال قبل چھوڑ کر گئے تھے۔ اس وقت وہاں ایک حد تک جمہوریت آ گئی ہے۔ خواتین کے حقوق کی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ سماجی اور ثقافتی تقاریب کا انعقاد ہو رہا ہے۔ فلم اور موسیقی کی ثقافت پروان چڑھ رہی ہے۔ تو ایسے میں طالبان کے لیے ماضی کی پالیسیاں جاری رکھنا قدرے مشکل ہو گا۔

خیال رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری کے آخر میں امن معاہدے کے بعد طالبان کی مذاکراتی ٹیم کی سربراہی کرنے والے شیر محمد عباس استنکزئی نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان سر زمین مستقبل میں کسی بھی قسم کی پراکسی جنگ کے لیے استعمال نہیں ہو گی۔

دوحہ میں مقیم طالبان قیادت کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ بین الافغان مذاکرات کے بعد طالبان قیادت تمام ممالک کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لے گی۔

سابق سیکرٹری دفاع آصف یاسین کا کہنا ہے کہ بطور پڑوسی پاکستان اور افغانستان تجارت کو وسطی ایشیائی ممالک تک لے جا کر فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔

آصف یاسین کہتے ہیں کہ اس خطے نے بہت جنگیں دیکھ لی ہیں۔ اب جنگ کو بھلا کر نوجوان نسل کو ترقی کی راہ پر لگا دینا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG