رسائی کے لنکس

افغان دھڑوں کو مذاکرات کی میز پر لانا پاکستان کے بغیر ممکن نہیں تھا: امریکہ


افغانستان مفاہمت کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی راولپنڈی میں فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات۔ کی۔

افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد بین الافغان امن مذاکرات کے دوران پاکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد بھارتی قیادت سے ملاقات کے لیے نئی دہلی روانہ ہو گئے ہیں۔

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے بعد امریکی نمائندۂ خصوصی کے دورۂ پاکستان اور بھارت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی نمائندہ خصوصی نے راولپنڈی میں پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات کی جس میں بین الافغان مذاکرات سمیت علاقائی اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان کی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) اور امریکی سفارت خانے سے جاری بیانات کے مطابق ملاقات کے دوران زلمے خلیل زاد نے بین الافغان مذاکرات کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔

زلمے خلیل زاد نے کہا کہ افغان دھڑوں کو مذاکرات کی میز پر لانا پاکستان کی مخلصانہ اور غیر مشروط کوششوں کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

ملاقات کے دوران آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کا وژن ہے کہ خطے میں امن اور باہمی روابط کو فروغ دیا جائے۔

اُن کے بقول اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان میں مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

مبصرین بین الافغان مذاکرات کے آغاز کو اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

اس حوالے سے سابق سفارت کار اور اسلام آباد کے تھنک ٹینک 'سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز' کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر علی سرور نقوی کہتے ہیں کہ امریکہ کو بین الافغان مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی توقع ہے۔ ان کے بقول ان مذاکرات میں دنیا کی بڑی طاقتیں اور خطے کے ممالک بھی شریک ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے علی سرور نقوی نے کہا کہ واشنگٹن سمجھتا ہے کہ طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی طرح پاکستان بین الافغان مذاکرات کی کامیابی میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔

ان کے بقول افغان گروہوں کو اتفاق رائے پر لانا خاصا مشکل اور پیچیدہ مسئلہ ہے۔ کیوں کہ آئین میں اسلامی دفعات اور شرعی سزاؤں پر مؤقف میں خاصے فاصلے پائے جاتے ہیں۔

علی سرور نقوی کا کہنا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان متضاد خیالات رکھنے کے باعث بحیثیت فریق از خود کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکیں گے۔ لہذا دیگر ممالک کو انہیں اپنے مؤقف میں لچک لانے اور اتفاق رائے کے لیے کردار ادا کرنا ہو گا۔

افغان امور کے ماہر طاہر خان کہتے ہیں کہ زلمے خلیل زاد بین الافغان مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہنے آئے تھے جس کا ذکر اخباری بیان میں بھی کیا گیا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں طاہر خان کا کہنا تھا کہ بین الافغان مذاکرات کا مرحلہ پیچیدہ اور وقت طلب بھی ہو سکتا ہے۔ امریکہ و پاکستان میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ اس عمل میں پیدا ہونے والے مسائل کے حل میں ایک دوسرے کی مدد کی جائے گی۔

طاہر خان کہتے ہیں اگرچہ امریکہ طالبان معاہدہ ہو چکا ہے اور واشنگٹن افغانستان سے اپنی فوج کا انخلا بھی چاہتا ہے۔ البتہ امریکہ نہیں چاہتا کہ اس کے جانے کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ امن معاہدے پر عمل درآمد بھی ایک بڑا مرحلہ ہو گا۔ کیوں کہ 1993 میں بھی حکمت یار کو وزیرِ اعظم بنانے کے اتفاق رائے کے باوجود انہیں کابل میں داخل نہیں ہونے دیا گیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امن معاہدے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں کچھ دیگر مشکلات بھی ہیں۔ جن میں داعش، تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الحرار جیسے مسلح گروہوں کا مستقبل کا کردار واضح نہیں ہے۔

دوسری جانب پاکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد امریکی نمائندۂ خصوصی زلمے خلیل زاد بھارت روانہ ہو گئے۔ جہاں وہ بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کریں گے۔ دورے کے دوران وہ بھارتی حکام کو طالبان اور افغان حکومت کے مابین جاری مذاکرات میں پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔

بین الافغان مذاکرات کے 12 ستمبر کو آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے افغانستان میں جنگ بندی پر زور دیا تھا اور افغان قیادت میں بین الافغان مذاکرات کی حمایت کی تھی۔

تجزیہ کار اور افغان امور کے ماہر طاہر خان کہتے ہیں کہ امریکہ اور بھارت اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔ لہذا واشنگٹن افغان امن عمل میں نئی دہلی کو نظر انداز نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے افغان دھڑوں کے ساتھ بھی اچھے تاریخی تعلقات ہیں اور امریکہ بھی خطے کے ممالک کو افغان امن عمل میں شریک کرنا چاہتا ہے۔ کیوں کہ ماضی میں واشنگٹن کے یک طرفہ اقدامات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے تھے۔

طاہر خان کہتے ہیں کہ امریکہ نے بھارت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ طالبان کے حوالے سے اپنے خدشات و تحفظات سے براہِ راست طالبان قیادت سے بات کریں جس کے بعد سے نئی دہلی اور طالبان کے درمیان ایک دوسرے کے بارے سخت مؤقف میں نرمی پیدا ہوئی ہے۔

سابق سفارت کار علی سرور نقوی کہتے ہیں کہ اگرچہ بھارت کا افغان امن عمل میں زیادہ کردار نہیں ہے۔ تاہم امریکہ اپنا قریبی اتحادی ہونے کے ناطے نئی دہلی کو شریک رکھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زلمے خلیل زاد بھارت کی قیادت سے امن عمل پر صلاح مشورہ کریں گے تاکہ اسے نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔

خیال رہے کے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز 12 ستمبر کو دوحہ میں ہوا تھا۔

ان مذاکرات کے آغاز پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ فریقین پر اب بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان کے بہتر مستقبل کے لیے اتفاق رائے پیدا کریں۔

افغان حکام کے وفد میں خواتین کو بھی نمائندگی حاصل ہے۔ تاہم طالبان کی جانب سے کوئی بھی خاتون مذاکراتی ٹیم میں شامل نہیں ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں طالبان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ خواتین کے حقوق کے لیے صرف خواتین ہی بات کر سکتی ہیں۔

طالبان کے مطابق وہ مستقبل میں خواتین کو روزگار اور تعلیم کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG