رسائی کے لنکس

logo-print

ایتھوپیا میں قتل عام پر اقوام متحدہ کی تشویش اور انتباہ


ایتھوپیا میں رضاکار زخمیوں کے لیے خون کا عطیہ دے رہے ہیں۔13 نومبر 2020

انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کی سربراہ مشعیل بیشلیٹ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایتھوپیا کے علاقے ٹگرے میں بڑھتے ہوئے تنازعے کو جلد ہی قابو میں نہ لایا گیا تو یہ مزید شدت اختیار کر کے قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔

ایتھوپیا کی فوج اور ٹگرے کی علاقائی حکومت کی فورسز کے درمیان ایک ہفتے سے زیادہ جاری لڑائی میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر نجی املاک اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

علاقے میں انسانی حقوق کی وسیع پامالیوں کے سبب، ہزاروں افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ علاقوں کی طرف جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ایتھوپیا کے ساڑھے 14 ہزار سے زیادہ شہری بھاگ کر سوڈان پہنچ گئے ہیں، اور پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ ابھی مزید لوگ راستے میں ہیں۔

انسانی حقوق کیلئے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر بیشلیٹ نے ٹگرے کی تیزی سے بگڑتی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے ترجمان رُپرٹ کول وِل کا کہنا ہے کہ وہ خصوصی طور پر ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ پر مضطرب ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ٹگڑے کے جنوب مغربی علاقے مائی کادرا میں وسیع پیمانے پر قتل و غارت گری ہوئی ہے۔​

ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک رپورٹ کی تصدیق نہیں ہو سکی اور ہائی کمشنر نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کی مکمل چھان بین کی جائے کہ دراصل وہاں ہوا کیا تھا۔

فوج کے ساتھ مل کر لڑنے والی ملیشیا کے ارکان ایک پک اپ میں سوار ہیں۔ 11 نومبر 2020
فوج کے ساتھ مل کر لڑنے والی ملیشیا کے ارکان ایک پک اپ میں سوار ہیں۔ 11 نومبر 2020

کول ول کہتے ہیں کہ اگر اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ لڑائی میں ایک فریق نے جان بوجھ کر عام شہریوں کو قتل کیا، تو پھر یہ یقیناً جنگی جرائم کے زمرے میں آئے گا، اور وہاں جو ہوا، اس کے لئے ایک آزاد تفتیش اور مکمل جوابدہی کی ضرورت ہے۔ تاہم اس وقت پہلی ترجیح لڑائی کو بند کروانا اور مزید ایسی ظالمانہ کاروائیوں کو روکنا ہے۔

ایمنیسٹی کی فراہم کردہ تصاویر اور متعدد ویڈیوز میں لوگوں کو خنجروں اور کلہاڑیوں سے مارنے کا منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں ہلاک ہونے والے بظاہر عام مزدور نظر آتے ہیں جو کہ کسی عسکری کاروائی میں ملوث نہیں تھے۔

کول ول کا کہنا ہے کہ ہائی کمشنر کو اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ایتھوپیا کی حکومت نے اپنی فضائی کاروائیوں میں شدت پیدا کی ہے اور مخالف بری فوج کے ساتھ شدید لڑائی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ کول ول کا کہنا ہے کہ بیشلیٹ کو پانی بند کرنے، بجلی کی فراہمی معطل کرنے، اور کمیونیکیشن کو مکمل طور پر ختم کرنے کی اطلاعات پر بھی شدید تشویش ہے۔

کول ول کا کہنا تھا کہ یو این ہائی کمشنر بیشلیٹ نے دونوں فریقوں سے لڑائی بند کرنے اور بات چیت کرنے کی اپیل کی ہے۔

ایتھوپیا کی ایک ملیشیا کے جنگجو مورچہ بند ہیں۔ 12 نومبر 2020
ایتھوپیا کی ایک ملیشیا کے جنگجو مورچہ بند ہیں۔ 12 نومبر 2020

ہائی کمشنر نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ اندرونی تنازعہ طول پکڑتا ہے تو پھر اس سے ٹگرے اور ایتھوپیا، دونوں کو سخت نقصان پہنچ سکتا ہے، جس سے برسوں میں حاصل کی گئی اہم ترین ترقی ضائع ہو جائے گی۔

کول ول نے کہا کہ ہائی کمشنر کو ڈر ہے کہ اگر دونوں فریقوں نے ان کے انتباہ کو نظر انداز کیا، تو پھر یہ معاملہ آسانی سے سرحدوں کے پار تک پھیل سکتا ہے، جس سے مشرقی افریقہ کے چند علاقے ممکنہ طور پر عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG