رسائی کے لنکس

مشہد: روزمرہ استعمال کی اشیا کے نرخ میں اضافے کے خلاف مظاہرہ


ایران کے دوسرے بڑے شہر، مشہد میں اشیا کی بڑھتی ہوئی قیتوں کے خلاف جمعرات کے روز ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں سینکڑوں افراد شریک ہوئے، جب کہ پولیس نے کئی افراد کو گرفتار کر لیا۔

انٹرنیٹ پر شائع ہونے والی وڈیوز میں مظاہرین ’’مرگ بر (صدر حسن) روحانی‘‘ اور ’’مرگ بر آمر‘‘ کے نعرے لگاتے دکھایا گیا ہے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے تیز دھار پانی پھینکا اور آنسو گیس استعمال کی۔

نیم سرکاری خبر رساں ادارے، ’اِلنا‘ نے خبر دی ہے کہ نیشابور، کاشمر، یزد اور شاہرود کے شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

مشہد کے گورنر، محمد رحیم نوروزیاں نے سرکاری تحویل میں کام کرنے والے خبروں کے ادارے، ’اِرنا‘ کو بتایا ہے کہ شہر میں نکالی گئی ریلی نے نرخوں میں ہونے والی غیر قانونی اضافے کو مسترد کردیا ہے۔ تاہم، اُن کا کہنا ہے کہ پولیس نے برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف اُنہی افراد کو گرفتار کیا گیا جو املاک عامہ کو نقصان پہنچانے کے باعث بنے۔

امام رضا کا روضہ شیعہ حضرات کی مقدس زیارت ہے، جو مشہد کے شمالی شہر میں واقع ہے۔

مظاہرین نے شام کی خانہ جنگی میں ایران کے ملوث ہونے کے معاملے کی براہ راست مذمت کرتے ہوئے ’’شام چھوڑ دو‘‘ کے نعرے لگائے۔

شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت میں ایران نے فوج تعینات کر رکھی ہے، ساتھ ہی حکومت کو مالی امداد فراہم کی ہے، جب کہ ایران کی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے اور بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے۔

ایران کی آٹھ کروڑ کی آبادی میں بے روزگاروں کی تعداد 32 لاکھ ہے، جب کہ ایک سال کے اندر بے روزگاری میں 1.4 فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ دِنوں کے دوران متعدد اشیا کی قیمتوں میں 40 فی صد تک کا اضافہ ہوا ہے، جن میں انڈے بھی شامل ہیں۔

معیشت کی بدحالی کے معاملے پر ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ اِی نے بھی روحانی کی انتظامیہ پر تنقید کی ہے۔ بدھ کے روز اُنھوں نے کہا ہے کہ قوم کو ’’بڑھی ہوئی قیمتوں، افراط زر اور کساد بازاری‘‘ کا سامنا ہے اور حکام پر زور دیا کہ اِن مسائل کو حل کیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG