رسائی کے لنکس

logo-print

پیٹ مارکیٹس بند، سیکڑوں جانور بھوک پیاس سے ہلاک


پاکستان میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے پالتو جانور فروخت کرنے والی دکانوں میں بند سیکڑوں جانور ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب چکن کی طلب کم ہوجانے کی وجہ سے پولٹری فارمز ہزاروں چوزے زندہ پھینک رہے ہیں، تاکہ ان کی خوراک کا خرچہ نہ اٹھانا پڑے۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں پالتو جانوروں کی مارکیٹیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند ہیں۔ ان کی دکانوں میں سیکڑوں خرگوش، بلیاں، کتے اور دوسرے جانور موجود تھے، جنھیں دکاندار خوراک فراہم کرتے تھے۔

لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے دکاندار شہر کے دوسرے علاقوں سے مارکیٹ نہیں آسکے اور جانور دو ہفتوں تک بھوک کا شکار رہے۔

کراچی میں جانوروں کے حقوق کی تنظیم چلانے والی عائشہ چندریگر جب ایمپریس مارکیٹ کے قریب سے گزریں تو انھیں اندر سے جانوروں کے بلبلانے کی آوازیں آئیں۔ اس مارکیٹ میں لگ بھگ ایک ہزار جانور بند تھے۔ ان کے لیے نہ روشنی کا بندوبست تھا، نہ تازہ ہوا کی آمد و رفت کے لیے مناسب انتظام۔

عائشہ چندریگر نے حکام سے رابطہ کرکے مارکیٹ کھلوائی تو دیکھا کہ پنجروں میں بند سیکڑوں جانور مرے پڑے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ 70 فیصد جانور بھوک سے مر چکے تھے۔ جو زندہ بچے تھے، وہ بھوک پیاس سے جاں بلب تھے۔

یہ حال دیکھ کر اب حکام نے دکانداروں کو اجازت دی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کے باوجود آسکتے ہیں، تاکہ جانوروں کے کھانے پینے کا خیال رکھ سکیں۔

ادھر لاہور میں بھی ایسی ہی صورتحال پیش آئی جہاں ٹولنٹن مارکیٹ پالتو جانوروں کی دکانوں کا مرکز ہے۔ وہاں ایک گندے نالے میں بیس کتے مرے ہوئے ملے۔

جو کام کراچی میں عائشہ چندریگر نے کیا، وہی لاہور کی رہائشی کرن ماہین نے انجام دیا۔ انھوں نے حکام سے کہہ کر دکانیں کھلوائیں اور دو درجن کتے، متعدد بلیاں اور خرگوش زندہ بچالیں۔ لیکن اور بہت سے جانور مرچکے تھے۔

کرن ماہین نے اے ایف پی کو بتایا کہ جب پولیس نے دکانیں کھولیں تو بہت برا حال تھا۔ جانور صرف بھوک پیاس سے نہیں بلکہ تازہ ہوا نہ ملنے کے باعث دم گھٹنے سے مر گئے تھے۔

ان سیکڑوں پالتو جانوروں کے علاوہ پولٹری فارمز کے چوزے ہزاروں کی تعداد میں تلف کیے جا رہے ہیں، کیونکہ چکن کی طلب میں کمی آئی ہے اور اس کاروبار سے منسلک لوگ چوزوں کی خوراک کے پیسے بچانا چاہتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولٹری فارمز کے چوزے ٹریکٹر کی ٹرالی میں بھر کے کنویں میں پھینکے جارہے ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ لکھا ہے کہ یہ واقعہ وہاڑی کا ہے۔

ایک اور ویڈیو کے مطابق، کراچی کے کسی پولٹری فارم سے ہزاروں چوزے سوپر ہائی وے کے قریب لاکر چھوڑ دیے گئے۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کا حشر کیا ہوا۔

XS
SM
MD
LG