رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان کے بے گھر ہونے والے لوگوں کا مظاہرہ


فائل

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ’ضرب عضب‘ کے نتیجے میں افغانستان جانے والے اپنے گھروں کا واپس جانے کیلئے بنوں میں مظاہرہ کیا، جس کی قیادت شمالی وزیرستان کے ایک سرکردہ رہنماء ملک غلام نے کی۔ مظاہرین میں اکثریت نوجوانوں کی تھی اور اُنہوں نے مطالبات کے حق میں نعرے بھی لگائے۔

جون 2014 کے وسط میں حکومت نے شمالی وزیرستان میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ کاروائی شروع کرنے سے چند ہی روز قبل لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے گھر بار چھوڑ کر خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر بنوں اور دیگر علاقوں کو نقل مکانی کی تھی۔

سرحدی علاقوں میں رہنے والے قبائلیوں نے کثیر تعداد میں سرحد پار افغانستان کے صوبہٴ خوست کی طرف نقل مکانی کی تھی۔

شمالی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے احتجاج کے بارے میں ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ اُنہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ بھی افغانستان جانے والوں اور تمام بے گھر ہونے والوں کی اپنے اپنے گھروں اور علاقوں میں جلد از جلد واپسی کا سلسلہ اُٹھایا ہوا ہے ۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے ماہوار مالی مدد کا سلسلہ روک دیا گیا ہے، جبکہ کیمپ میں بھی سہولتوں کا فقدان ہے۔ ملک غلام نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے ماہوار امداد کی فوری بحالی اور بے گھر افراد کو ان کے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔

سابق قبائلی علاقوں میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے ترجمان، احسان داوڑ نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ رجسٹرڈ نقل مکانی کرنے والوں کو ماہوار نقد رقم ادا کی جا رہی ہے، جبکہ غیر رجسٹرڈ افراد کو نقد رقم ادا نہیں کی جا رہی ہے۔

کیمپوں میں رہائش پزیر غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو دیگر اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں۔

حکومتی اداروں کا دعویٰ ہے کہ افغانستان چلے جانیوالے بقیہ لگ بھگ تین ہزار خاندانوں کی واپسی کے لئے کوششیں کی جا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG