رسائی کے لنکس

logo-print

جان کیری اور انجلینا جولی کی افطار میں شرکت


امریکی وزیر خارجہ نے اپنےخطاب کے آغاز میں السلام علیکم کہا اور مسلمانوں کو مقدس ماہ رمضان کی مبارکباد پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ مہاجرین امریکی معاشرے کے لیے خطرہ نہیں، اور مذہب اور قومیت کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک امریکی اقدار کا حصہ نہیں ہے

عالمی یوم مہاجرین کے موقع پر، امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور اداکارہ انجلینا جولی نے پیر کے روز امریکی ریاست ورجینیا میں ایک بین المذاہب افطار استقبالیہ میں شرکت کی ہے۔

پیر کے روز عالمی یوم مہاجرین کے سلسلے میں ورجینیا کی

اِس بین المذاہب افطار ڈنر کا اہتمام ’ڈلاس ایریا مسلم سوسائٹی (ایڈمز)‘ کی جانب سے کیا گیا تھا، جس میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی خصوصی ایلیچی انجلینا جولی اور امریکی وزیر خارجہ نے خصوصی شرکت کی۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، افطار ڈنر کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ اور انجلینا جولی نے کھجوروں اور سموسے کے ساتھ افطاری بھی کی۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنےخطاب کے آغاز میں السلام علیکم کہا اور مسلمانوں کو مقدس مہینے رمضان کی مبارکباد پیش کی۔

انھوں نے کہا کہ مہاجرین امریکی معاشرے کے لیے خطرہ نہیں، اور مذہب اور قومیت کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک امریکی اقدار کا حصہ نہیں ہے۔

جان کیری نے مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے معاملے پر اپنے خطاب میں کہا کہ اگر ایک ملک میں تمام پناہ گزینوں کو اکھٹا کرلیا جائے تو یہ زیادہ آبادی والا دنیا کا بائیسواں ملک ہوگا۔

اس موقع پر انھوں نے مسلمانوں کے خلاف امریکہ میں نفرت پر مبنی واقعات کے اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا رجحان پیش کیا جارہا ہے جیسا کہ امریکہ اور اسلام کے درمیان ایک جنگ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’یہ سچ نہیں ہے۔ بلکہ، امریکہ کی طرح کوئی دوسرا ملک نہیں جہاں مسلمان آزادی کے ساتھ رہ رہے ہیں‘‘۔

ہالی وڈ کی نامور اداکارہ انجلینا جولی نے کہا کہ مجھے بے حد خوشی ہے کہ میں آج مختلف مذاہب اور عقیدے کے ماننے والے لوگوں کے ساتھ ہوں جو احترام اور برداشت کی روایات سے ہم آہنگ ہیں۔

انھوں نے اپنے خطاب میں مہاجرین کے مسائل پر توجہ مبذول کراتے ہوئے تمام ریاستوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے میں اشتراک کریں۔

انجلینا جولی نے کہا کہ پیدائشی طور پر تمام انسان برابری اور مساوی حقوق کے حقدار ہوتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ آج جزوی طور پر اس بحران کے جواب میں ہم بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور نفرت دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں آج اس مسئلےکے حل کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG