رسائی کے لنکس

ہائی کورٹ نے اسحاق ڈار کے خلاف احتساب عدالت کی کارروائی روک دی


اسحاق ڈار اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے لیے آرہے ہیں (فائل فوٹو)

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ عدالت اشتہاری قرار دینے کے لیے 30 دن سے کم وقت کیسے دے سکتی ہے اور ضابطۂ فوجداری کے تحت 30 دن کی مہلت دیے بغیر کیسے اشتہاری قرار دیا جا سکتا ہے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے ریفرنس کی کارروائی روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے بدھ کو احتساب عدالت کی جانب سے اشتہاری قرار دینے اور ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے خلاف اسحاق ڈار کی درخواست کی سماعت کی۔

اسحاق ڈار کے وکیل قاضی مصباح ایڈوکیٹ نے عدالت کے سامنے اپنے دلائل میں کہا کہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اسحاق ڈار احتساب عدالت کی کارروائی سے بھاگ رہے ہیں لیکن وہ ان کے بقول عدالتی کارروائی سے بھاگنا نہیں چاہتے۔

وکیل نے کہا کہ احتساب عدالت میں شہادتیں ریکارڈ ہو رہی ہیں اور اسحاق ڈار صرف نمائندہ مقرر کرنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ اسحاق ڈار کا آج پھر طبعی معائنہ ہوگا جس کے بعد ان کی واپسی کی حتمی تاریخ بتائی جاسکے گی۔

سابق وزیرِ خزانہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ احتساب عدالت نے ان کے مؤکل کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی غیر قانونی طور پر کی۔ ٹرائل کورٹ نے تفتیشی افسر کے بیان پر اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دے دیا۔

عدالت کے استفسار پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ملزم آخری مرتبہ 23 اکتوبر 2017ء کو احتساب عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ ملزم کے خلاف شہادتیں ریکارڈ ہورہی ہیں۔ اسحاق ڈار کی میڈیکل رپورٹس دفترِ خارجہ کو تصدیق کے لیے ارسال کی ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے پراسیکیوٹر نیب عمران شفیق سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس دو آپشن ہیں۔ ایک آپشن یہ ہے کہ اشتہاری قرار دینے کا حکم کالعدم قرار دے کر 30 دن میں کارروائی مکمل کرنے کا حکم دیں۔ دوسرا آپشن ہے کہ آئندہ سماعت تک احتساب عدالت کی کارروائی روک دی جائے۔ آپ کس آپشن کے ساتھ جانا چاہیں گے؟

پراسیکیوٹر نیب عمران شفیق نے کہا کہ ایسی صورت میں دوسرے آپشن کے ساتھ جانا چاہوں گا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم کو اشتہاری قرار دینے کے لیے صرف 10 دن کا وقت کیوں دیا گیا؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ عدالت اشتہاری قرار دینے کے لیے 30 دن سے کم وقت کیسے دے سکتی ہے اور ضابطۂ فوجداری کے تحت 30 دن کی مہلت دیے بغیر کیسے اشتہاری قرار دیا جا سکتا ہے؟

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ واحد ملزم کی غیر موجودگی میں ٹرائل کیسے چلے گا؟ سیکشن 540 اے کے تحت استثںیٰ دیا جا سکتا ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا کہ وہ کون سا قانون ہے جو واحد ملزم کی غیر موجودگی میں ٹرائل کی اجازت دے؟ جمع کرائی گئی میڈیکل رپورٹس پر کوئی بھی عدالت استثںیٰ نہیں دے گی۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت کو اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی کارروائی سے روکتے ہوئے 17 جنوری تک حکمِ امتناع جاری کردیا ہے۔

اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے مبینہ طور پر الزام لگایا ہے کہ ملزم نے اپنے نام اور ان پر انحصار کرنے والوں کے نام پر 83 کروڑ 16 لاکھ روپے سے زائد کے اثاثے بنائے جو ان کی ظاہر کردہ آمدن سے کہیں زیادہ تھے۔

اسحاق ڈار گزشتہ کئی ہفتوں سے بیرونِ ملک مقیم ہیں اور عدالت میں پیش نہیں ہو رہے۔ ان کے وکلا کا موقف ہے کہ ان کے موکل کی طبیعت ناساز ہے اور وہ برطانیہ میں زیرِ علاج ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG