رسائی کے لنکس

logo-print

آئی ایم ایف کے پاس خوشی سے نہیں گئے: حفیظ شیخ


مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس خوشی سے نہیں گئے اور ترقی کی رفتار برقرار نہ رکھ سکنے کے باعث پاکستان کو بار بار عالمی مالیاتی اداروں سے رجوع کرنا پڑا ہے۔

قومی اسمبلی میں منہگائی پر ہونے والی بحث سمیٹتے ہوئے حفیظ شیخ نے کہا کہ یہ قومی مسئلہ ہے کہ تمام ادوار میں ترقی کی رفتار مستقل نہیں رہتی کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس نہ جائیں اور حکومتوں کو حالات کی مجبوری کے باعث قرض پروگرام کی طرف جانا پڑتا ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے فائدہ ہوا کہ ہم نے جو 6 ارب ڈالر کی فنانسنگ کی وہ آسان شرائط پر تھی، یہی پیسے ہم کمرشل بنیادوں پر لیتے تو بہت مہنگے پڑتے۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ اس کا براہ راست فائدہ یہ ہوا ہے کہ دوسرے ممالک اور بین الاقوامی اداروں جیسا کہ عالمی بینک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے تعاون میں اضافہ کیا اور اس سے پاکستان کی پالیسیوں پر اعتماد بڑھا۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی اجلاس میں دو روز سے ملک میں حالیہ مہنگائی پر بحث جاری ہے جس میں حزب اختلاف کے رہنماؤں نے اسے حکومتی معاشی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا اور حکومت سے آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

آئی ایم ایف کی اراکین پارلیمنٹ کو بریفنگ

دوسری جانب پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی اور ممبران کو دوسری سہ ماہی کی معاشی کارکرگی پر بریفنگ دی ہے۔

اجلاس کے بعد قومی اسمبلی کی خزانہ کمیٹی کے چئیرمین فیض اللہ کموکا نے بتایا کہ آئی ایم ایف وفد کے ساتھ تعلیم، صحت، پانی اور صفائی سمیت پانچ ایس ڈی جیز پر بات ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کے لئے پاکستان کی معیشت کو کھولنے اور کاروبار کیلئے ماحول کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

فیض اللہ کموکا نے کہا کہ مالی سال کے مقرر کردہ ٹیکس اہداف حاصل کرنا مشکل نظر آ رہا ہے۔ تاہم، اس کے باوجود آئی ایم ایف سے مذکرات مکمل ہونے پر قرض کی اگلی قسط بلا تاخیر ملنے کی امید ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے آئی ایم ایف کے وفد کی نظر ثانی 13 فروری کو مکمل ہوگی جس دوران اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ 39 ماہ کے پروگرام کے تحت حکومت کو مارچ کے مہینے میں 45 کروڑ ڈالر ملیں گے یا نہیں۔

پاکستانی حکام کو آئی ایم ایف کے وفد کے دوسرے سہ ماہی کے سخت جائزے کا سامنا ہے جس کی وجہ سال 20-2019 کی پہلی ششماہی میں ملک کا مالی خسارہ حکومت کے اخراجات پر سخت کنٹرول کے باوجود جی ڈی پی کے 2.3 فیصد سے تجاوز کرجانا ہے۔

مالی مشکلات کا شکار حکومت کو غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور مارکیٹ میں اعتماد بحال کرنے کے لیے آئی ایم ایف کی آئندہ قرض کی قسط کی سخت ضرورت ہے۔

مہنگائی میں کمی کی تجاویز آئی ایم ایف کو دیں

آئی ایم ایف وفد سے ملاقات کے بعد سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے کا مقصد ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی اور معیشت کی بحرانی صورتحال کو درست سمت میں ڈالنا ہے۔ لیکن، ہمارا کام یہ بھی ہے کہ غریب عوام کا مقدمہ لڑیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف وفد سے مہنگائی پر بات چیت کی ہے اور اب حکومت کو چاہیے کہ مہنگائی سے عوام کو نکالنے کیلئے تجاویز لائے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن عوامی مسائل کے حل کیلئے حکومت کے ساتھ تمام معاملات پر ساتھ چلنے کے لئے تیار ہے۔

آئی ایم ایف کے چھ ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تحت پاکستان کو اب تک ایک ارب 44 کروڑ ڈالر مل چکے ہیں۔ 2023 تک اس پروگرام کے ذریعے حکومت کو ایک ارب 65 ارب ڈالر ہی حاصل ہوں گے، چونکہ 4 ارب 36 کروڑ ڈالر آئی ایم ایف کو اسی عرصے کے دوران واپس کئے جانے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG