رسائی کے لنکس

logo-print

طلبہ یونین بحالی مارچ، تلخ یادیں اور حقیقت


لاہور

انتیس نومبر 2019ء کی صبح مال روڈ لاہور پر طلبہ یونین بحالی کے اسٹیمرز دیکھے تو سوچ میں پڑ گیا کہ اِن اسٹیمرز پر اربابِ اختیار کی نظر نہیں پڑی یا حکومت نے اِن کے ساتھ بھی نہ چاہتے ہوئے نرم پالیسی اپنا رکھی ہے۔

ابھی اِس سوال کا جواب تلاش کر ہی رہا تھا کہ مال روڈ پر ’پارکس اینڈ پارٹی کلچر اتھارٹی‘ لاہور کی گاڑی اور عملہ دیکھا، جنہوں نے طلبہ یونین بحالی کے اسٹیمرز اُتارنا شروع کر دیے۔
پنجاب کے صوبائی دارلحکومت لاہور میں ناصر باغ سے چیئرنگ کراس تک مال روڈ پر مختلف طلبہ تنظیموں کی جانب سے ریلی نکالی گئی جس میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ طلبہ نے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے، جبکہ طلبہ و طالبات نے یونین کی بحالی کے حق میں نعرے لگائے۔ خواجہ سرا اپنے لیے تعلیم اور بھٹہ مزدور بہتر اُجرت کے مطالبات کے ساتھ ریلی میں موجود تھے۔

ناصر باغ میں ریلی کے وقت طلبا کی تعداد کم تھی کہ اچانک ہر طرف سے چھوٹی چھوٹی ٹولیوں اور جوق در جوق طلبا و طالبات پہنچ گئے اور ریلی شروع ہو گئی۔ ریلی میں شریک طلبعلموں کا جوش و ولولہ دیدنی تھا۔ ریلی سڑک کے ایک طرف چلتی رہی اور سڑک کے دوسری جانب ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔

ریلی میں شریک طلبا اور طالبات مسلسل ’ہم کیا چاہتے، آزادی‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ انہی میں شامل گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی طالبہ مریم الیاس تھیں، جو نعرے بھی لگوا رہی تھیں اور ساتھ ہی ریلی کے شرکا کو بار بار منظم ہونے کا بھی کہہ رہی تھیں۔

مریم الیاس سمجھتی ہیں کہ کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر تنظیم سازی سے طالبعلموں کی شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے اور اُنکی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے مریم الیاس نے کہا کہ جب تک طلبہ یونین سازی پر پابندی رہے گی، پاکستان کی عملی سیاست میں پڑھے لکھے لوگوں کی کمی محسوس ہوتی رہے گی۔

بقول ان کے،’’ہم آج اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں۔ ہم حکومت کو اور طاقت کے ایوان کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ طلبا کے بھی حقوق ہوتے ہیں۔ ہم اُن طلبا کے حقوق کے لیے بھی نکلے ہیں جنہیں انتظامیہ طاقت کے زور پر دبا لیتی ہے اور اُن کی صلاحیتوں کو صحیح طریقے سے پنپنے نہیں دیا جاتا۔ جن ملکوں میں طلبہ یونین سازی پر پابندی نہیں ہوتی وہاں لوگوں کے مسائل کو بہتر انداز میں حل کیا جاتا ہے‘‘۔

طلبا یونین مارچ میں طلبا اور طالبات کے ساتھ ساتھ اساتذہ بھی شریک تھے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ طلبہ کو اب زیادہ دیر تک اُن کے حقوق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

ریلی میں شریک فورمن کرسچن کالج یونیورسٹی کے اُستاد عمار علی جان بھی شریک تھے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت جلد از جلد طلبہ یونین سازی سے متعلق لائحہ عمل طے کرے اور ملک بھی کی درسگاہوں میں طلبہ یونین کے انتخابات کرائے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے، عمار علی جان نے کہا کہ پاکستان کا آئین طلبا اور ہر شخص کو آزادی دیتا ہے۔ لیکن، یہاں بنیادی آئینی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے۔ آج کا مارچ ساٹھ کی دہائی کی یاد دلاتا ہے جب مزدوروں اور طلبا کے ہاتھ کاٹ دیے گئے تھے۔

’’حکمرانوں کو بیانات نہیں دینے چاہئیں بلکہ پالیسیاں بنانی چاہئیں۔ حکومت پالیسی بنائے قانونی فریم ورک تیار کرے کہ کب الیکشنز ہونگے طلبہ یونین کے کیا اختیارات ہونگے۔ بطور اُستاد میں نہیں چاہتا کہ طلبا تشدد پر اُتر آئیں۔ ایک قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اُنہیں اُن کے حقوق دیں ورنہ جھگڑا بڑہے گا‘‘۔

ریلی میں لاہور کے خواجہ سرا بھی شریک ہوئے جو اپنے لیے بنیادی تعلیم کا حق مانگ رہے تھے۔ ریلی میں شریک خواجہ سرا صائمہ بٹ کہتی ہیں کہ اُنہیں زندگی کا مطلب اب سمجھ میں آ گیا ہے۔ اگر تعلیم نہیں تو انسان کی زندگی کچھ بھی نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں بھی تعلیم کی ضرورت ہے۔ جیسے معاشرے کے دیگر مرد اور خواتین کو تعلیم دی جاتی ہے، ہمیں بھی تعلیم دی جائے۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ تعلیم حاصل کریں اور پاکستان کا نام روشن کرنے کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر چلیں‘‘۔

پیپلز پارٹی مرتضٰی گروپ کی رہنما غنوٰی بھٹو اور مردان یونیورسٹی میں انتہا پسندی کے باعث جاں بحق ہونے والے طالب علم مشعال خان کے والد حاجی اقبال بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے غنوٰی بھٹو نے کہا کہ یہ وقت حکمرانوں کو جگانے کا نہیں بلکہ عوام کو جگانے کا ہے۔ عوام کو شعور دینا ہے کہ اُن کے بنیادی حقوق کون اُن سے چھین رہا ہے۔ اب عوام کو اپنے حقوق کے لیے اُٹھ کھڑے ہونا ہو گا۔

بقول ان کے، ’’آئین کا آرٹیکل 17 طلبا کو یونین سازی کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے طلبہ اور طالبات سنہ 1984ء سے اپنے بنیادی حق سے محروم ہیں‘‘۔

مشعال خان کے والد حاجی اقبال کہتے ہیں کہ جب طلبا جاگ جاتے ہیں تو اُنہیں کسی سیاستدان، حکمران یا لیڈر کی ضرورت نہیں رہتی۔ وہ اپنا راستہ خود بناتے ہیں۔ اُنہیں صرف منزل کے حصول کا بتانا ہوتا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھی طلبہ یونین کی بحالی کی حمایت کی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ پیپلز پارٹی طلبہ یونین کی بحالی کی حامی ہے۔ بینظیر بھٹو نے بھی طلبہ یونین بحال کر دی تھیں مگر معاشرے کو غیر سیاسی بنانے کیلئے طلبہ یونینز کی بحالی ختم کی گئی۔ بلاول نے مزید کہا کہ سرکاری جامعات کی نجکاری بند اور تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی روکنے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ بلاول بھٹو نے جامعات کو غیر عسکری کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر طلبہ تنظمیوں کی بحالی کی حمایت کی ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ طلبہ یونین پر پابندی مستقبل کی سیاست کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ طلبہ کی سیاست پر پابندی غیر جمہوری اقدام ہے۔

پاکستان میں گزشتہ 35 سالوں سے طلبہ یونینز پر پابندی عائد ہے۔ یہ پابندی اسی کی دہائی میں اُس وقت کے فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے لگائی۔

سنہ 2008ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے پہلے خطاب میں طلبہ یونینز کی بحالی کا اعلان کیا۔ لیکن بعد میں اس پر کوئی عمل نہیں کیا گیا۔

تئیس اگست سنہ 2017ء میں طلبا یونین کی بحالی کے لیے سینیٹ نے متفقہ قرار داد پاس کی کہ یونینز کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ لیکن بات اِس سے آگے نہ بڑھ سکی۔

مارچ کے شرکا نے یکساں نظام تعلیم اور فیسوں میں کمی کا بھی مطالبہ کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG