رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیر کی صورت حال پر عالمی برادری کی تشویش خوش آئند ہے: عمران خان


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورت حال پر عالمی برادری کی تشویش کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 42 ویں اجلاس میں انسانی حقوق کی کمشنر مشیل بیچیلے نے کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیریوں کے مستقبل کے کسی بھی فیصلہ میں کشمیریوں کو لازمی شامل کیا جائے۔

وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورت حال پر عالمی برادری کے ردعمل اور تشویش کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ کشمیر کی صورت حال پر عالمی رہنماؤں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹریز اور اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچیلے نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عالمی برداری کو کشمیر میں قابض بھارتی افواج کے بہیمانہ مظالم اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے لاتعلق نہیں رہنا چاہیے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا کہ اب عمل کا وقت آ گیا ہے کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے فوری طور پر غیر جانبدار انکوائری کمیشن بنایا جائے۔

عمران خان نے کہا کہ خود اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اپنی گزشتہ 2 رپورٹس میں ایسا تحقیقاتی کمیشن بنانے کی سفارش کی تھی۔

دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے جنیوا پہنچ چکے ہیں۔ جہاں انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج ہیومن رائٹس کمشنر نے ایک بیان دیا ہے وہ بہت حوصلہ افزا ہے اور ہم عرصہ دراز سے جو کہتے آئے ہیں آج ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس کے آغاز میں اس کا اظہار ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں لاک ڈاؤن اور پابندیوں پر بات ہوئی، کرفیو ہٹانے کا کہا گیا، ذرائع مواصلات پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور جو بنیادی انسانی حقوق جموں و کشمیر میں سلب کیے گئے ہیں ان کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا جو کہ انتہائی حوصلہ افزا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے دو دن میں ہمیں ہیومن رائٹس کونسل، انسانی حقوق پر کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں اور این جی اوز کے ساتھ پاکستان اور کشمیر کا نکتہ نظر اُجاگر کرنے کا موقع ملے گا۔

شاہ محمود کا کہنا تھا کہ آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ جموں و کشمیر میں جاری ظلم و بربریت آہستہ آہستہ بے نقاب ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت نے پانچ اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کردیا تھا جس کے بعد سے کشمیر میں لاک ڈاؤن کی کیفیت ہے اور وادی میں مستقل کرفیو کا نفاذ ہے۔

بھارت اس تمام معاملے کو اپنا داخلی معاملہ قرار دیتا ہے اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی ثالثی کے بجائے اسے پاکستان اور ہندوستان کا دو طرفہ مسئلہ قرار دیتا ہے۔

بھارت کا مؤقف ہے کہ اس حوالے سے شملہ معاہدہ کے تحت مسائل کے حل پر بات ہو گی لیکن فی الحال بات چیت کے لیے ماحول سازگار نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG