رسائی کے لنکس

logo-print

لوٹی گئی دولت واپس لانے کے لیے 26 ملکوں سے معاہدے کیے ہیں: عمران خان


وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکومت کی 100 روزہ کارکردگی کے بارے میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک 26 ملکوں کے ساتھ کرپشن کی لوٹی گئی رقم کی اطلاعات کے حوالے سے یاداشت ناموں پر دستخط کیے گئے ہیں، جس کے مطابق، ان ممالک میں پاکستانیوں کے 11 ارب ڈالر پڑے ہوئے ہیں جبکہ سوئزرلینڈ کے ساتھ بھی ’ایم او یو‘ سائن کر لیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کی 100 روزہ کارکردگی کے حوالے سے خصوصی تقریب جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہوئی، جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 22 سال اپوزیشن میں رہ کر خود کو بتانا پڑتا ہے کہ وزیر اعظم ہوں۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’انسان کے ہاتھ میں صرف کوشش ہوتی ہے۔ کامیابی اللہ کے ہاتھ میں ہے‘‘۔

وزیر اعظم نے کہا کہ تعلیمی نظام کو یکساں بنانے کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو یکساں نصاب تعلیم لائے گی، سرکاری اسپتالوں کا نظام تبدیل کرنے کے لیے اصلاحات کی ہیں، خیبرپختونخوا کی طرح ملک گیر ہیلتھ کارڈ لائے جا رہے ہیں۔

عمران خان نے ایک مرتبہ پھر کرپشن کے خاتمہ کی بات کی اور کہا کہ کرپشن پر قابو پانے تک ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ نیب ایک آزاد ادارہ ہے۔ اس لیے جو نیب کرتا ہے اس کی ذمہ دار حکومت نہیں ہے۔ تاہم، نیب کو اپنے نظام میں بہتری لانی چاہیے اور نیب سمیت سب کو تنقید برداشت کرنی چاہیے۔

ایف آئی اے عمران خان کے زیرِ نگرانی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے مضبوط کیا گیا ہے اور ایف آئی اے نے اب تک 375 ارب روپے کے جعلی اکاؤنٹس پکڑے ہیں جن کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی۔

ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ 21 کروڑ میں صرف 72 ہزار پاکستانی ہیں جو آمدن 2 لاکھ سے زیادہ بتاتے ہیں، جس کی وجہ سے اشیا پر ٹیکس لگانے سے سارا بوجھ عوام پر پڑھ جاتا ہے۔ ہم ٹیکس میں اصلاحات لائیں گے اور ایف بی آر کو ٹھیک کرنے کی بھرپور کوشش ہو رہی ہے جب کہ ساتھ ساتھ اسمگلنگ کو روکنا ہے۔ وہ کمپنیز جن کا شیئر 60 فیصد ہے وہ 98 فیصد ٹیکس دیتی ہیں جب کہ 40 فیصد شیئرز والی کمپنیاں صرف 2 فیصد ٹیکس دیتی ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیز کی جائیداد کے تحفظ کے لیے قانون بنائیں گے جب کہ ایک لیگل ایڈ اتھارٹی بنا رہے ہیں جو غریبوں کو انصاف کی فراہمی کیلیے کام کرے گی۔ اسی طرح بیواؤں کو انصاف کی جلد فراہمی کیلیے بھی اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔ عدالتی نظام اور مقدمات میں جلد انصاف کی فراہمی کے لیے ایک خاص پرویژن لا بنایا جائے گا اور کیس کا فیصلہ کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ سال کا عرصہ دیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’’پاکستان میں بڑے بڑے مگرمچھوں نے زمینوں پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔ تاہم، پنجاب سے 88 ہزار ایکڑ اراضی قبضہ مافیا سے واپس لےلی ہے اور قبضہ مافیا سے سی ڈی اے کی ساڑھے 3 سو ارب روپے کی اراضی واگزار کرائی گئی ہے جب کہ تجاوزات کے خلاف ملک گیر مہم جاری ہے‘‘۔

اس تقریر کے حوالے سے توقع کی جارہی تھی کہ عمران خان اپنی حکومت کے 100 دنوں میں دیے گئے پروگرام کے حوالے سے بات کریں گے اور اپنی کامیابیاں گنوائیں گے۔ لیکن بہت سے ایسے معاملات جن پر پہلے بہت زور دیا گیا تھا، اس تقریر میں وہ سامنے ہی نہیں آئے، وزیرِ اعظم کی تقریر میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے بارے میں کوئی تذکرہ نہ تھا۔

ملک کی اقتصادی صورتحال پر وزیر خزانہ اسد عمر نے بات کی اور کہا کہ جب حکومت ملی تو 23 سو ارب روپے کا بجٹ خسارہ تھا۔ گیس اور بجلی کے نظام میں خسارہ تھا۔ پانچ سال پہلے جب (ن) لیگ کی حکومت تھی تو ایک ماہ میں دو، دو ارب ڈالر کا خسارہ تھا۔ بیرونی قرضے بڑھ رہے تھے اور زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے تھے۔ ایسے میں ماہرین کہتے تھے کہ آئی ایم ایف کی شرائط آنکھ بند کر کے مان لیں۔

اسد عمر نے کہا کہ آئندہ سالوں میں چھوٹی صنعتوں میں 7 لاکھ کا اضافہ کرنا ہے اور اس کے لیے بینکوں سے قرضے دیے جائیں گے جب کہ غریبوں کے لیے پانچ بڑے منصوبوں کا اعلان جلد کیا جائے گا جن میں بچوں کی غذائی کمی، وسیلہ تعلیم، صحت کارڈ، غریبوں کے لیے چھت اور روزگار سے متعلق پروگرام ترتیب دیے جا چکے ہیں اور آئندہ دنوں ان پر کام کا آغاز ہو جائے گا۔ اسد عمر نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف کے پیچھے نہیں چھپیں گے۔ اگر آئی ایم ایف سے معاہدہ کریں گے تو معیشت کی بہتری اور عوام کی خوشحالی کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں گے جب کہ قوم کی بہتری کے لیے یوٹرن لینا ہو تو وزیر اعظم یوٹرن لینے کیلیے تیار ہیں۔

خارجہ پالیسی کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے بھی خطاب کیا اور کرتار پور راہداری، سعودی پیکج، چین سے معاشی مدد اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ پیکج کو اپنی کامیابی بتایا۔

اس تقریر کے حوالے سے سیاسی رہناؤں کا ردعمل آنا شروع ہوگیا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کا حکومت کے 100 دن مکمل ہونے پر خطاب غیرمتاثر کن تھا۔ ’’سو دن حکومت میں رہنے کے بعد بھی عمران خان کے پاس بتانے کو کچھ نہیں تھا۔ نئے پاکستان کا خواب دکھانے والے نے سو دنوں میں سفید پوش طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی اور عوام کو مہنگائی کے سونامی میں ڈبو دیا گیا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’بجلی، گیس، پٹرول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے عوام کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ پولیس اور بیورکریسی میں سیاسی مداخلت نے تبدیلی کے دعویداروں کو بے نقاب کر دیا ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG