رسائی کے لنکس

logo-print

نئے پاکستان کا آغاز پنجاب سے ہوگا: پی ٹی آئی چیئرمین


پارلیمانی پارٹی سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ’’پنجاب کے وزیراعلٰی کے لیے ایک نوجوان لارہا ہوں۔ یہ نوجوان کلین ہوگا۔ اس پر کسی قسم کا کوئی سوالیہ نشان نہیں۔"

پاکستان کے متوقع وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب میں ہمیں بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ’’سب تیار رہیں۔ نئے پاکستان کا آغاز پنجاب سے ہوگا‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے لیے ایک نوجوان لا رہا ہوں جو کلین ہوگا اور اس پر کسی قسم کا کوئی سوالیہ نشان نہیں‘‘۔

تحریک انصاف پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا، جس میں پنجاب بھر سے نو منتخب اراکین پنجاب اسمبلی سمیت تحریک انصاف میں شامل ہونے والے آزاد امیدوار شریک ہوئے۔

اجلاس میں تحریک انصاف کی مرحوم رہنما سلونی بخاری کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق، پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی تقرری اور کابینہ امور پر مشاورت ہوئی اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے شرکا کو پارلیمانی امور سے متعلق آگاہ کیا۔

بعد ازاں نو منتخب اراکین سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ ’’سب کو مبارکباد دیتا ہوں کیونکہ آپ سب نے اتنا مشکل الیکشن لڑا۔ انتخابات کے روز خیبر پختونخوا میں ہم سب سے آگے تھے جبکہ پنجاب میں پانی پت کی جنگ تھی، پنجاب میں پی ٹی آئی اور ن لیگ کا مقابلہ تھا۔ کئی لوگوں کو ٹکٹ نہیں دیے اور وہ آزاد جیت گئے‘‘۔

عمران خان نے کہا کہ ’’ملک میں دو قسم کی سیاست ہے، پہلی ذاتی سیاست جو صرف پیسہ کمانے کیلئے ہے، اس نے لوگوں کو ذلت دی کیونکہ لوگ عوام کا نام لے کر اقتدار میں آ کر اپنی ذات کا سوچتے ہیں۔ دوسری سیاست وہ ہے جو پیغمبروں نے کی۔ سارے پیغمبر انسانیت کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ میں لوگوں سے وعدہ کر کے آیا ہوں کہ مدینہ کی ریاست بنانی ہے‘‘۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ’’پنجاب میں ہمیں بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ سب تیار رہیں نئے پاکستان کا آغاز پنجاب سے ہی ہوگا۔ اصل جنگ پنجاب میں ہے، آپ سب نے یہ جنگ لڑنی ہے۔ پنجاب میں بہترین وزیرِ اعلیٰ لاؤں گا‘‘۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ’’پنجاب کے وزیراعلٰی کے لیے ایک نوجوان لارہا ہوں۔ یہ نوجوان کلین ہوگا۔ اس پر کسی قسم کا کوئی سوالیہ نشان نہیں۔ آپ سب اس نوجوان کو سپورٹ کریں جب کہ پنجاب میں ہمیں بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ پنجاب کے لوگوں کو ریلیف دینا ہے۔ وہاں کے لوگ کئی دہائیوں سے مفلسی کی زندگی گزار رہے ہیں‘‘۔

عمران خان نے کہا کہ ’’پنجاب پولیس کو غیر سیاسی اور خود مختار بنائیں گے اور کے پی پولیس کے طرز کی اصلاحات لائیں گے۔ پنجاب کے اسکولوں اور اسپتالوں کو بہتر سے بہتر بنائیں گے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’میں آپ سے اس کا تقاضا کبھی نہیں کروں گا جس پر میں خود عمل نہ کروں۔ میں فیصلے میرٹ پر اور قوم کے مفاد کے لیے کروں گا جب کہ ذاتی سیاست نے سیاستدانوں کو ذلت دی ہے۔ ذاتی سیاست میں عوام کا نام لے کر اقتدار میں آکر اپنی ذات کا سوچتے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’میں چاہتا ہوں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) ایک ادارہ بنے۔ ہمیں ٹکٹ دینے کے عمل کو بہتر بنانا ہوگا۔ ہم میرٹ پر ابھی سے آئندہ الیکشن کی تیاری کریں گے‘‘۔

پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے نمبر گیم مکمل ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور آزاد ارکان کی حمایت حاصل ہونے کا کہا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ(ن) بھی آزاد ارکان سے رابطہ میں ہے اور حکومت سازی کی کوششیں کر رہی ہے۔ لیکن اس صورتحال میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوتی نظر آ رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG