رسائی کے لنکس

عمران خان کی سرگئی لاوروف سے ملاقات، کشمیر اور افغانستان پر گفتگو


عمران خان اور روسی فیڈریشن کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے ملاقات۔ 26 ستمبر 2019
عمران خان اور روسی فیڈریشن کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے ملاقات۔ 26 ستمبر 2019

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے جمعرات کے روز روسی فیڈریشن کے وزیر خارجہ، سرگئی لاوروف سے ملاقات کی، جس دوران بشمول کشمیر اور افغانستان، اہم دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر گفتگو ہوئی۔

اقوام متحدہ کے 74 ویں سالانہ اجلاس کے احاطے سے باہر ہونے والی اس ملاقات میں وزیر اعظم نے روس کے ساتھ نئے وضع کردہ تعلقات استوار کرنے کی پاکستان کی پالیسی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

انھوں نے مختلف جہتی شعبہ جات میں باہمی تعاون کے فروغ پر اظہار اطمینان کیا جن میں سیاست، تجارت، توانائی، سرمایہ کاری، سیکیورٹی اور دفاع کے امور شامل ہیں۔

پاکستانی ذرائع کے مطابق، وزیر اعظم نے اس ملاقات کے دوران 13 جون 2019ء کو بشکیک میں صدر ولادیمیر پوٹن سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا جس میں، بقول ان کے، ’’دوطرفہ امور کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا تھا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان صدر پوٹن کے دورہ پاکستان کا منتظر ہے۔

وزیر اعظم نے اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ پانچ اگست کو، بقول ان کے، بھارت کی جانب سے ’’مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات‘‘ کے تناظر میں پاکستان اور روس ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے ہیں۔

انھوں نے الزام لگایا کہ ’’بھارت کے جارحانہ بیانیے اور جارحیت پسندانہ انداز کے نتیجے میں علاقائی امن اور سلامتی کو خطرات درپیش ہیں، اور ضرورت اس بات کی ہے کہ بین الاقوامی برادری صورت حال کو سنجیدگی سے لے‘‘۔

عمران خان نے کہا کہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ 53 روز سے کرفیو جاری ہے، جس کے باعث کشمیری آبادی کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ کرفیو کی پابندیاں اٹھائے، اور عالمی برادری جموں و کشمیر تنازع کے منصفانہ حل میں اپنا کردار ادا کرے۔

رواں ماہ روس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا صدر ہے۔

ذرائع کے مطابق، ملاقات کے دوران افغان امن عمل پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ افغان تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ فوری طور پر معطل امن عمل پھر سے شروع کیا جائے تاکہ پرامن، مستحکم اور خوش حال افغانستان کے مقاصد کو بڑھاوا ملے۔

وزیر اعظم نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ باہمی مفادات کے تمام معاملات میں دونوں فریق ایک دوسرے سے مشاورت کو فروغ دیں۔

بعد ازاں، وزیر اعظم عمران خان نے انڈونیشیا کے نائب صدر محمد یوسف کلا سے ملاقات کی جس دوران انھوں نے انڈونیشیا کے صدر ودودو کی جانب سے گذشتہ سال پاکستان کے دورے کا ذکر کیا اور فروغ پاتے ہوئے دوطرفہ تعلقات پر اظہار اطمینان کیا۔

مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ تنازع امن اور سلامتی کے لیے شدید خدشات کا باعث ہے۔

عمران خان نے انڈونیشیا پر زور دیا کہ وہ کشمیر تنازع کے حل اور کشمیری عوام کی مشکلات دور کرنے کے سلسلے میں آواز بلند کرے۔

انڈونیشیا سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے۔

XS
SM
MD
LG