رسائی کے لنکس

پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں بھارت ملوث ہے: عمران خان


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر گزشتہ روز ہونے والے حملے میں بھارت کو ملوث قرار دیا ہے۔

پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسٹاک ایکسچینج پر حملے کا منصوبہ ہمسایہ ملک بھارت میں بنایا گیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بہت بڑا منصوبہ بنایا ہوا تھا۔ یہ (دہشت گرد) بہت زیادہ اسلحہ لے کر آئے تھے. ان کا ایک ہی مقصد تھا کہ اسٹاک ایکسچینج کے اندر جا کر لوگوں کو یرغمال بنائیں۔ جیسے ممبئی میں بہت بڑی دہشت گردی ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ بھارت نے پیر کو ہی وضاحت دی تھی کہ کراچی میں اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں اس کو کوئی کردار نہیں ہے۔

گزشتہ روز پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی حب کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر چار مسلح دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جسے وہاں تعینات سیکورٹی اہلکاروں نے ناکام بنا دیا تھا۔

دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں چاروں حملہ آور ہلاک جب کہ پولیس کے ایک سب انسپکٹر سمیت تین نجی کمپنی کے سیکیورٹی گارڈز بھی ہلاک ہوئے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی تھی۔ پاکستان بی ایل اے کو بھارت کے قریب قرار دیتا ہے۔

گزشتہ روز سندھ رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عمر احمد بخاری نے بھی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ یہ دہشت گرد حملہ کسی دشمن غیر ملکی ایجنسی کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ اس میں بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ سرِفہرست ہے۔

قومی اسمبلی میں وزیرِ اعظم عمران خان کا خطاب میں مزید کہنا تھا کہ بھارت پاکستان میں عدم استحکام کی فضا پیدا کرنے کی کوشش میں ہے اور یہ بات ان کے کابینہ اراکین کے علم میں بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے سیکیورٹی اور انٹیلی ادارے چوکنا تھے۔ اسی وجہ سے حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے چار منصوبے ناکام بنائے گئے۔ جن میں سے دو اسلام آباد کے قریب دہشت گردی کے منصوبے تھے۔

وزیر اعظم نے اسٹاک ایکسچینج حملے کو ناکام بناتے ہوئے ہلاک ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس اداروں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

خیال رہے کہ بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے حوالے سے ماضی میں بیان دیتے رہے ہیں۔ 2016 میں نریندر مودی نے کہا تھا کہ کشمیر کی موجودہ صورت حال کی وجہ سرحد پار پاکستان سے ہونے والی مبینہ دہشت گردی ہے۔ اب پاکستان کو بھی بلوچستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مبینہ زیادتیوں کے لیے دنیا کے سامنے جواب دہ ہونا ہو گا۔

اگرچہ پاکستان اور بھارت اپنے ملک میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کا الزام ایک دوسرے پر لگاتے رہتے ہیں تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم نے پارلیمنٹ کے ایوان میں بھارت کو ملک میں دہشت گردی کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔

حالیہ عرصے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ کچھ روز قبل دونوں ممالک نے سفارتی عملے میں 50 فی صد کمی کا اعلان بھی کیا تھا جب کہ گزشتہ سال اگست میں کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد سے السام آباد اور نئی دہلی نے اپنے سفرا کو بھی واپس بلایا ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG