رسائی کے لنکس

logo-print

اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کرنے والی بلوچستان لبریشن آرمی کیسے بنی؟


فائل فوٹو

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر پیر کی صبح ہونے والے حملے کے بعد ایک مرتبہ پھر کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا نام زیرِ بحث ہے۔

مذکورہ تنظیم نے کراچی میں اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں ایک پولیس افسر سمیت ایکسچینج کی حفاظت پر متعین تین محافظ ہلاک ہوئے تھے۔ جوابی کارروائی میں تنظیم کے چاروں مسلح حملہ آور مارے گئے تھے۔

بی ایل اے اس سے قبل بھی پاکستان میں ہونے والے مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔ کراچی میں ہی چین کے قونصل خانے پر دو برس قبل ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی اسی تنظیم نے قبول کی تھی۔

بی ایل اے کے قیام کا پس منظر

بلوچ دانشوروں اور ادیبوں کا کہنا ہے کہ 1948 میں ریاست قلات کی پاکستان کے ساتھ (بقول ان کے جبری) اتحاد کے بعد جب شہزادہ عبد الکریم اور ان کے ساتھی پہاڑوں کا رخ کر گئے تھے۔ اس وقت سے بلوچ قوم میں یہ احساس زور پکڑتا گیا کہ ریاست کی بحالی کے لیے ایک منظم ترقی پسند سوچ کی حامل سیاسی قوت کی ضرورت ہے جو بلوچ معاشرے میں نظریاتی بنیادوں پر نوجوانوں کی رہنمائی کرے اور انہیں ایک پلیٹ فارم پر متحد بھی کرے۔

اس مقصد کے لیے کوششیں جاری تھیں۔ 1956 میں بلوچ سیاسی رہنماﺅں نے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) تشکیل دی۔ اس دوران 1960 میں بلوچوں کو ایک بار پھر ریاست کی پالیسیوں کے باعث پہاڑوں کا رخ کرنا پڑا تاہم بعد میں ریاست سے مذاکرات کے بعد سردار نوروز خان اور ان کے ساتھی پہاڑوں سے نیچے آئے۔ تاہم انہیں گرفتار کر کے پھانسی دے دی گئی۔ جس سے بلوچوں کا غم و غصہ مزید بڑھ گیا۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا (جو اس وقت صوبہ سرحد کہلاتا تھا) میں 1970 کے انتخابات میں نیپ کی حکومتیں قائم ہوئیں۔ لیکن اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان کی حکومت کو زبردستی ختم کر دیا۔ نیپ کے رہنماﺅں کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کیے گئے اور انہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کے اس اقدام کے بعد بلوچ نوجوانوں نے ایک بار پھر پہاڑوں کا رخ کر لیا۔ اس دوران بلوچ نوجوانوں میں یہ سوچ بھی پختہ ہونا شروع ہوئی کہ ریاست کو بلوچوں کی پر امن سیاسی جدوجہد قبول نہیں ہے۔ اس لیے سیاسی پلیٹ فارم کے ساتھ مسلح جدوجہد بھی ضروری ہے۔

اسی سال یعنی 1970 میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) تشکیل دی گئی۔ بی ایل اے سے وابستہ نوجوان 1977 تک صوبے کے مختلف پہاڑوں میں روپوش رہے جب کہ اس دوران مسلح کارروائیاں بھی کیں۔ لیکن ذرائع ابلاغ میں اس حوالے سے خبریں نہیں آئیں۔

بلوچ رہنما خیر بخش مری

جب جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لا لگایا تو نیپ کے رہنماﺅں کو بھی رہا کر دیا گیا۔ اسی زمانے میں بلوچستان کے ترقی پسند، قوم پرست اور سوشلسٹ رہنما نواب خیر بخش مری کی قیادت میں بلوچ نوجوان بڑی تعداد میں افغانستان چلے گئے تھے۔ بلوچ نوجوانوں نے افغانستان کے علاقے ہلمند میں قیام کیا تھا۔ نواب خیر بخش مری اسی خود ساختہ جلا وطنی کے دوران یورپ چلے گئے۔

برطانیہ میں قیام کے دوران نواب خیر بخش مری نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ روس کی فوج اور افغان مجاہدین کے حملوں کے طریقوں سے انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔

افغانستان کے سابق صدر ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت ختم ہونے کے بعد نواب خیر بخش مری کے ساتھیوں کو افغانستان سے واپس پاکستان آنا پڑا۔

واپسی کے بعد نواب مری اور ان کے ساتھی کافی عرصہ خاموش رہے۔ تاہم 2000 میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں بلوچستان کے قدرتی وسائل کے حوالے سے بعض بین الاقوامی کمپنیوں سے معاہدے کیے گئے۔ ان معاہدوں کی نواب خیر بخش مری اور ان کے ساتھیوں نے شدید مخالفت کی جب کہ مبینہ طور پر بلوچ عسکریت پسندوں نے صوبے کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز اور قومی تنصیبات پر حملے شروع کر دیے۔ ان حملوں کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کرنا شروع کی۔

اس دوران بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس نواز مری کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔ جس پر حکومت نے نواب خیر بخش مری کو جسٹس نواز مری کے قتل کے کیس میں گرفتار کر لیا۔ دوسری جانب بی ایل اے کی کارروائیاں بڑھتی گئیں۔ بالخصوص کوئٹہ اور دیگر اضلاع میں سیکیورٹی اداروں کے اہل کاروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا۔

بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی میں 2005 میں مسلح افراد نے سوئی گیس پلانٹ پر حملہ کیا۔ اس کے بعد 2006 میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایک فوجی کارروائی میں بلوچستان کے سابق گورنر و سابق وزیر اعلیٰ نواب اکبر خان بگٹی کو ہلاک کیا گیا۔ جس سے صوبے کے لوگوں میں ایک بار پھر شدید غم و غصہ دیکھا گیا۔

اس دوران صوبے میں ہونے والے بیشتر واقعات کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی قبول کرتی آ رہی تھی جس پر وفاقی حکومت نے 2006 میں بی ایل اے پر پابندی عائد کر دی۔ یہ اطلاعات گردش کرتی رہتی تھیں کہ نواب خیر بخش مری کے ایک بیٹے نواب زادہ بالاچ مری کالعدم بی ایل اے کے سربراہ مقرر کیے جا چکے ہیں تاہم نواب زادہ بالاچ مری نے اپنی زندگی میں اس کی تصدیق نہیں کی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 2007 میں نواب زادہ بالاچ مری پاک افغان سرحد کے قریب ایک کارروائی میں مارے گئے۔ بالاچ مری کی ہلاکت کے بعد اب بالاچ مری کے چھوٹے بھائی میر حیربیار مری کالعدم بی ایل اے کے سربراہ ہیں۔

بی ایل اے کا پہلا خود کش حملہ

دوسری جانب حیربیار مری بلوچستان میں برسر پیکار کسی بھی تنظیم سے وابستگی کی تردید کرتے رہے ہیں۔

بالاچ مری کی ہلاکت کے بعد کالعدم بی ایل اے کے فیلڈ کمانڈر کے طور پر اسلم بلوچ کا نام سامنے آیا تھا۔ جنہیں اسلم اچھو بھی کہا جاتا ہے۔ وہ بھی سیکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں زخمی ہو گئے تھے جس کے بعد وہ افغانستان چلے گئے تھے۔

اسلم اچھو کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے صحت یاب ہونے کے بعد اپنی کارروائیوں کے سلسلے میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قیام کیا۔ اس دوران انہوں نے ایک خطرناک سلسلہ شروع کیا اور بلوچ نوجوانوں کو خود کش حملوں کے لیے تیار کیا۔

دو سال قبل اگست 2018 میں دالبندین کے قریب ریکوڈیک پر کام کرنے والے چینی انجینئروں کو کراچی لے جانے والی ایک بس پر خودکش حملہ کیا گیا جس میں چینی انجینئر محفوظ رہے تھے۔

اس حملے کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ بلوچ عسکریت پسندوں کی جانب سے یہ پہلا خود کش حملہ تھا جو اسلم اچھو کے بیٹے سمیت تین نوجوانوں نے کیا تھا۔ اس کے بعد کراچی میں چینی قونصل خانے پر تین بلوچ مسلح نوجوانوں نے حملہ کیا جس کی ذمہ داری بھی کالعدم بی ایل اے نے قبول کی تھی۔

اس کے بعد اسلم اچھو ایک بار پھر افغانستان کے شہر قندہار چلے گئے۔ جہاں پر ان پر عینومینہ کے علاقے میں نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر خود کش حملہ کیا۔ اس خود کش حملے میں اسلم اچھو ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گئے تھے۔

اسلم اچھو کی ہلاکت کے بعد کالعدم بی ایل اے کی قیادت بشیر زیب نے سنبھالی۔ بشیر زیب کی قیادت میں بی ایل نے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

مجید بریگیڈ

گوادر میں پرل کانٹیننٹل ہوٹل پر مئی 2019 میں حملہ کیا گیا۔ اس حملے کی ذمہ داری بھی کالعدم بی ایل اے نے قبول کی تھی۔ تاہم اب بی ایل اے کے نام کے ساتھ مجید بریگیڈ کا بھی اضافہ ہو گیا تھا۔ مجید نام کو بلوچ علیحدگی پسند نوجوانوں اور بعض بلوچ قوم پرست طلبہ تنظیموں میں بہت اہمیت، عزت اور احترام حاصل ہے۔

مجید نام کے حوالے سے صوبے کے نوجوانوں میں ایک قصہ مشہور ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد جب مکران ڈویژن کے نوجوانوں کو مسقط کی فوج کے لیے بھرتی کیا جا رہا تھا۔ اس وقت مجید بلوچ نامی ایک نوجوان نے اس فوجی افسر پر پستول سے فائر کیا تھا جو نوجوانوں کو بھرتی کر رہا تھا۔ اس کے بعد اس نوجوان کو پھانسی دے دی گئی تھی۔

کالعدم بی ایل اے روز اول سے گوادر میں چین کی سرمایہ کاری اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی مخالف رہی ہے۔

اس تنظیم کی طرف سے دیگر بلوچ عسکری تنظیموں کے کارکنوں کے ساتھ مل کر سیکیورٹی فورسز پر کئی بار حملے کیے گئے ہیں۔ 2017 میں مسلح کارروائیوں میں تیزی لانے کے لیے بعض دیگر عسکری تنظیموں جیسے کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ اور کالعدم بلوچستان ری پبلکن گارڈز کے ساتھ مل کر بی ایل اے نے 'بلوچ راجوئی آجوئی' یا 'براس' کے نام سے اتحاد تشکیل دیا تھا۔

اس تنظیم کے کارکن زیادہ تر مکران ڈویژن کے علاقوں سے گزرنے والی چین پاکستان اقتصادی راہداری اور قومی شاہراہوں پر چین کے باشندوں کے علاوہ سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG