رسائی کے لنکس

logo-print

مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری کو توجہ دینے کی ضرورت ہے: رابن رافیل


اقوام متحدہ

امریکی اور بھارتی تجزیہ کاروں نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی سے خطاب پر مختلف آرا کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ کی سابق معاون وزیر خارجہ رابن رافیل کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں چار نکات پر بات کی اور وہ اپنا پیغام دینے میں بلکل واضح تھے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ سن 2019 میں ان کا خطاب کچھ لمبا تھا۔ لیکن انھوں نے جو نکتہ نیو یارک میں اور متعدد عالمی رہنماؤں کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ کشمیر کا معاملہ بین الاقوامی معاملہ ہے، کیونکہ اقوام متحدہ تاریخی طور پر اس میں ملوث رہا ہے۔ بقول ان کے، ’’یہ ایک منطقی نکتہ ہے‘‘۔

رابن رافیل نے کہا کہ ان کے نزدیک عالمی برادری کو کشمیر کے مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑائی پر بات کرتے ہوئے رابن رافیل کا کہنا تھا کہ ’’یہ واقعی عالمی برادری اور یقیناً امریکہ کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ دونوں ملک ایٹمی دھماکے کر چکے ہیں‘‘۔

رابن رافیل نے کہا کشمیر پر بات کرتے ہوئے، ’’عمران خان جذباتی ہو گئے تھے‘‘، جب کہ، انھوں نے کہا کہ ’’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر کی صورتحال بہت سنجیدہ ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’شاید بھارت نے آئین کی شق 370 منسوخ کرنے سے پہلے پوری طرح اس کے نتائج پر غور نہیں کیا تھا، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ بھارت کو یہ خیال نہیں تھا کہ اسے اتنے دن وہاں پکڑ دھکڑ اور لوگوں کو گھروں میں بند کر کے رکھنا ہوگا‘‘۔

بھارتی اخبار ’دی ٹائمز آف انڈیا‘ کی سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر، آرتی سنگھ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ’’ایک مدبر سیاستدان کی طرح بات کرتے ہوئے، بھارت کے امن اور خوشحالی سے متعلق فلسفےکی تفصیل بیان کی‘‘۔

اس سوال پر کہ مودی نے پاکستان اور کشمیر پر بات نہیں کی، آرتی نے الزام لگایا کہ ’’پاکستان اتنا اہم نہیں ہے۔ اور اس کا واحد کردار کشمیر میں تشدد اور دہشت گردی کو ہوا دینا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی بھارت کو ایک نیا تصور دے رہے ہیں۔

آرتی کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بھارتی آئین کی شق 370 کی منسوخی بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، اور یہ کہ آئین میں عارضی طور پر متعارف کرائی گئی اس شق کی منسوخی ’’وقت کی ضرورت تھی‘‘۔

پاکستانی تجزیہ کار، بریگیڈئیر ریٹائرڈ حارث خلیق کا کہنا تھا کہ نریندر مودی نے اپنے خطاب میں پاکستان یا کشمیر کا تذکرہ اس لئے نہیں کیا، ’’کیونکہ بھارت نے کشمیریوں کو گزشتہ 55 دن سے بند کر کے رکھا ہوا ہے، نوجوانوں کو گرفتار کر رکھا ہے اور بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را کے ایجنٹ کلبھوشن یادو کو پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کیلئے رکھا ہوا تھا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’بھارت یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے، کیونکہ شملہ معاہدے کے تحت یہ دو طرفہ معاملہ ہے‘‘۔

پاکستان کے سینئر صحافی مظہر عباس کا بھی یہی کہنا تھا کہ بھارت کے وزیر اعظم کیلئے کشمیر میں کرفیو لگانے کا جواز پیش کرنا مشکل ہوتا اور اس بات کا دفاع کرنا بھی مشکل ہوتا کہ کشمیر کا مسئلہ جب متنازع ہے تو وہاں آئین کی شق 370 کو کیوں منسوخ کیا گیا۔ ایسے میں، جب امریکہ اور دیگر ممالک میں بھی کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر بات ہو رہی ہے، تو انہوں نے پاکستان اور کشمیر پر بات کرنے سے گریز کیا۔

مظہر عباس کا کہنا تھا کہ عمران خان کیلئے دنیا کو یہ بتانا بہت ضروری تھا کہ دہشت گردی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ بتانا بھی ضروری تھا کہ کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی ہے اور یہاں تک کہ بھارت کے ساتھ طے پانے والا شملہ معاہدہ اور لاہور ڈیکلیریشن دونوں میں اسے دو طرفہ معاملہ تسلیم کیا گیا ہے۔

آرتی سنگھ اور بریگیڈئیر ریٹائرڈ حارث خلیق نے ’جہاں رنگ‘ پروگرام میں نفیسہ ہودبھائے سے بات کی، جب کہ مظہر عباس نے اسد حسن کے ساتھ گفتگو کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG