رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت اور افغانستان نے پاکستان کے الزامات مسترد کر دیے


فائل فوٹو

بھارت اور افغانستان نے پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت دہشت گرد گروہوں کو تربیت دیے رہا ہے جس کے لیے افغان سرزمین استعمال کی جا رہی ہے۔

پاکستان نے ہفتے کو الزام عائد کیا تھا کہ بھارت افغانستان میں دہشت گردوں کے 66 ٹریننگ کیمپوں میں انہیں تربیت دے رہا ہے تاکہ پاکستان کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ بھارت دہشت گردوں کو فنڈنگ، تربیت اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے جس کے 'ناقابلِ تردید ثبوت' موجود ہیں۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستو نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارت پر دہشت گردی کے 'ناقابلِ تردید ثبوت' من گھڑت ہیں اور اس طرح کے الزامات کی کوئی حقیقت نہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ہم پاکستان کو کہیں گے کہ وہ سرحد کے آر پار دہشت گردوں کی حمایت بند کرے، بھارت پر الزام تراشی سے وہ اپنے بے بنیاد بیانیے کو تقویت نہیں بخش سکتا۔

ترجمان نے ایک مرتبہ پھر بھارت کے اس مؤقف کو دہرایا کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں پاکستان علیحدگی پسندوں کو دہشت گردی کی کارروائیوں پر اکسا رہا ہے۔

ترجمان نے الزام عائد کیا کہ کشمیر میں دہشت گردوں کی دراندازی بڑھ گئی ہے اور اُنہیں اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے جس کے بعد دہشت گردوں کی کارروائیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ بھارت اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان پر اس طرح کے الزامات عائد کرتا رہتا ہے۔

یاد رہے کہ 1947 میں برطانیہ سے آزادی کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کے تنازع پر کئی جنگیں اور سرحد پر جھڑپوں کے متعدد واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

پاکستان کے الزامات پر افغانستان کا ردِ عمل

افغانستان نے اپنی سرزمین دہشت گردی کی تربیت اور پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے اسلام آباد کے دعووں کی تردید کی ہے۔

افغان وزارتِ خارجہ نے اتوار کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان خود دہشت گردی سے متاثر ہے اور وہ ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر گامزن ہے۔

ترجمان کے مطابق افغانستان اپنی سرزمین کسی اور ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے رواں ہفتے دورۂ کابل کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ توقع ہے کہ اس دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان باہمی مفادات اور دیگر امور پر بات چیت کی جائے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان فوج کے ترجمان نے ہفتے کو پریس کانفرنس کے دوران الزام عائد کیا تھا بلوچستان میں چین پاکستان اقتصادی راہ داری کو نقصان پہنچانے کے لیے بھارت نے خصوصی ملیشیا بنائی ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند ڈاکٹر اللہ نذر کے 'را' کے ساتھ رابطوں کی آڈیو بھی موجود ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موقع پر ڈاکٹر اللہ نذر کی آڈیو ٹیپ بھی سنائی۔ میجر جنرل بابر افتخار کے بقول ڈاکٹر اللہ نذر نے جعلی افغان پاسپورٹ پر بھارت کا سفر کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG