رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کو بدستور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ


فائل فوٹو

منی لانڈرنگ اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت روکنے کے اقدامات کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کے لئے مقرر کردہ اہداف کی عمل درآمد رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اسے گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عالمی تنظیم اب آئندہ سال فروری میں پاکستان کی عمل درآمد رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد پابندی کی فہرست سے نکالنے سے متعلق کوئی فیصلہ کرے گی۔

ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر نے تنظیم کے ہیڈکوارٹر پیرس میں جاری تین روزہ اجلاس کے اختتام پر ویڈیو لنک کے ذریعے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں جسے سراہا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد نے ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر عمل درآمد کرتے ہوئے قانون سازی بھی کی ہے۔ تاہم پاکستان کو ایکشن پلان پر عمل درآمد کرتے ہوئے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

پاکستانی صحافی کے سوال کے جواب میں ایف اے ٹی ایف کے صدر کا کہنا تھا کہ فروری میں تنظیم کے اجلاس میں پاکستان کی عمل درآمد رپورٹ کو قابل اطمینان جانتے ہوئے ایک وفد اسلام آباد بجھوایا جائے گا جس کے بعد پابندیوں کی فہرست سے نکالنے کا حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔

کرونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث یہ اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا جس میں پاکستانی حکام نے عالمی تنظیم کی سفارشات پر عمل درآمد سے متعلق اپنی رپورٹ پر اٹھائے جانے والے سوالات کے جوابات دیئے۔

اس سے قبل پاکستان نے تنظیم کے مقرر کردہ اہداف اور شرائط پر عمل درآمد کی رپورٹ ایف اے ٹی ایف کی ایشیاء پیسفک ورکنگ گروپ کے اجلاس میں پیش کی تھی جس کی سفارشات پیرس میں منعقدہ اس پلینری اجلاس میں پیش کی گئیں۔

ایف اے ٹی ایف کے گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے اجلاس کا ایک منظر
ایف اے ٹی ایف کے گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے اجلاس کا ایک منظر

ایشیا پیسیفک گروپ نے ایف اے ٹی ایف کو پیش کردہ اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا تھا کہ اگرچہ پاکستان نے ایکشن پلان کے زیادہ تر نکات پر خاصی حد تک عمل درآمد کیا ہے تاہم ان اقدامات کے عملی نتائج کم دکھائی دے رہے ہیں۔

ایشیاء پیسفک گروپ نے ایف اے ٹی ایف کے پلینری اجلاس کو تجویز کیا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھتے ہوئے فروری تک سفارشات پر مکمل عمل درآمد کا کہا جائے۔

خیال رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے جون 2018 میں دہشت گردوں کی مالی ترسیل روکنے کے لیے مؤثر اقدمات نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان کو 'گرے لسٹ' میں شامل کیا تھا۔ اس لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان کو 27 نکاتی 'ایکشن پلان' بھی تجویز کیا گیا تھا۔

"بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنے میں ناکام رہا"

جمعے کو ایف اے ٹی ایف کے اس فیصلے سے کچھ پہلے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دنیا منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے اسلام آباد کے ٹھوس اقدامات کو تسلیم کرتی ہے، لہذا ایف اے ٹی ایف کو بھی ان کاوشوں کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کے لیے گنجائش پیدا کرنی چاہیے۔

شاہ محمود قریشی، وزیر خارجہ پاکستان، فائل فوٹو
شاہ محمود قریشی، وزیر خارجہ پاکستان، فائل فوٹو

ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے 27 نکاتی ایکشن پلان میں سے 21 پر سو فیصد عمل درآمد ہو چکا ہے جبکہ بقیہ چھ پر بھی خاصی حد تک کام ہو چکا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے ایک بات وہ اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ بھارت، جو پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنا چاہتا ہے، اسے ایک بار پھر ناکامی ہو گی۔

پاکستان کے وفاقی وزرا اکثر اس خدشے کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ بھارت ایف اے ٹی ایف کو اسلام آباد کے خلاف سیاسی فوائد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

پاکستان نے اس حوالے سے ایف اے ٹی ایف سے کہا تھا کہ وہ بھارت کے سیاسی عزائم کے باعث اسے بطور شریک صدر ایشیا پیسفک گروپ سے علیحدہ کرے۔ تاہم عالمی تنظیم کا کہنا تھا کہ اس کا جائزہ تکنیکی بنیادوں پر ہے جس پر کوئی ملک اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

جمعرات کو بھارت کی وزارت خارجه نے پاکستان پر دہشت گرد تنظیموں اور شخصیات کی پشت پناہی کا الزام لگاتے ہوئے اسے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ایف اے ٹی ایف اجلاس کے آغاز کے اگلے روز ہی بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واسترا نے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے تجویز کردہ 27 نکاتی ایکشن پلان میں سے صرف 21 پر عمل کر سکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیئے جانے والے مسعود اظہر، داؤد ابراہیم اور زکی الرحمن لکھوی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیتا ہے۔

"بہتر سفارتکاری سے اسلام آباد نتائج بدل سکتا تھا"

پیرس میں ایف اے ٹی ایف اجلاس کی کوریج کرنے والے صحافی یونس خان کہتے ہیں کہ پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی ترسیل روکنے کے اپنے اقدامات اور قانون سازی سے ایف اے ٹی ایف اجلاس کو بہتر انداز میں آگاہ کیا ہے۔

تاہم ان کی رائے میں ایشیا پیسیفک گروپ کے اس اعتراض نے تنظیم کو پاکستان پر پابندی برقرار رکھنے پر مجبور کیا کہ اسلام آباد کے گئے اقدامات پر عمل درآمد کی رفتار اور نتائج سست ہیں۔

یونس خان کہتے ہیں کہ پاکستان بہتر سفارت کاری سے ایف اے ٹی ایف کے فیصلے کو اپنے حق میں کر سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پیرس میں پاکستان کے مستقل سفیر کا گزشتہ چار ماہ سے تقرر نہ ہونا سفارتی سطح پر حکومت کی غیر سنجیدگی کا مظہر ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کو اس سے قبل 2012 سے 2015 تک گرے لسٹ میں رکھا گیا تھا، لیکن انسداد منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی قوانین میں سخت اصلاحات سے متعلق قانون سازی کے بعد 2016 میں اسے خارج کر دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG