رسائی کے لنکس

logo-print

شہریت قانون کے خلاف دہلی میں خواتین کا مظاہرہ


نئی دہلی میں مسلم خواتین کا مظاہرہ۔

بھارت میں شہریت کے ایک نئے قانون کے نتیجے میں ملک بھر میں مظاہرے جاری ہیں اور اسی سلسلے میں ایک انتہائی غیر معمولی مظاہرے میں سینکڑوں خواتین نے دار الحکومت دہلی کو سیٹلائٹ ٹاؤن سے ملانے والی ایک اہم سڑک پر کیمپ لگایا۔

شہریت کا ترمیمی قانون مسلمانوں کو ان مذہبی گروپس سے، مثلاً ہندو اور عیسائی گروپس سے خارج کرتا ہے جنہیں افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں مذہبی وجوہات پر ایذا رسانی کی صورت میں بھارتی شہریت دی جا سکتی ہے۔

شہریت کے ایک نئے قانون کے بارے میں پیدا ہونے والی سخت تشویش کے نتیجے میں ان دادیوں، نانیوں، ماؤں اور خواتین خانہ نے بھارتی دارالحکومت میں مسلم اکثریتی علاقے شاہین باغ کے مضافات میں ایک اہم ترین سڑک کو بلاک کر دیا ہے۔ انہیں اب یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ بھارتی شہری ہیں۔

اس مظاہرے کی قیادت کرنے والی خواتین میں رضوانہ بانو شامل ہیں جو نئی دہلی میں رہنے والی لاکھوں غریب ترین خواتین میں سے ایک ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ہم بہار سے ہیں، ہمارے رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے تو ہم پروف کہاں سے دکھائیں۔ اس لئے ہم روڈ پر آ گئے ہیں، تاکہ یہ یہاں لاگو نہ ہو اور ہمیں جیل نہ جانا پڑے۔

یہاں کی زیادہ تر خواتین پہلی بار کسی مظاہرے میں شامل ہوئی ہیں۔ وہ ان خدشات کی وجہ سے گھروں سے باہر نکلی ہیں کہ شہریوں کی قومی رجسٹریشن کرانے کے منصوبے بھارتی شہری کے طور پر ان کی حیثیت کے لئے خطرہ ہو سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ان خدشات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ بھارت کے کسی بھی مسلمان مرد یا عورت کو اپنی شہریت کھونے کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

لیکن بہت سے مسلمان، مثلاً عذرا ہاشمی بدستور فکر مند ہیں، کیوں کہ دن بدن یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ مودی حکومت ایک ہندو قوم پرست ایجنڈے کو آگے لا رہی ہے۔

شاہین باغ کی ایک رہائشی عذرا ہاشمی کہتی ہیں کہ میرا اتنا خوبصورت ہندوستان ہے جہاں ہم پیدا ہوئے ہماری سات پشتیں یہاں پیدا ہوئیں، یہاں دفن ہوئے۔ اس طریقے سے ہمیں کیوں الگ کیا جا رہا ہے۔

مشہور شخصیات مثلا ًبالی وڈ کی اداکارہ سوارا بھاشکر گاہے گاہے اس مظاہرے کی حمایت کے لیے سامنے آتی رہتی ہیں جسے، لیڈر لیس یا بے قائد مظاہرہ کہا جا رہا ہے۔ رضاکار کھانا تقسیم کرتے ہیں، مرد سڑک کے دونوں جانب کھڑے رہتے ہیں۔ بہت برسوں میں نئی دہلی کا سرد ترین موسم سرما ان مظاہرین کو آدھی رات تک مظاہرہ کرنے سے نہیں روک پا رہا۔

شاہین باغ کے ایک رہائشی، اور ایک رضاکار سید تاثیر کا کہنا تھا کہ اس مظاہرے میں کوئی فنانسر نہیں، کوئی پولیٹیکل پارٹی نہیں، کوئی این جی او نہیں ہے۔ یہ عوام ہیں۔

شہریت ہی واحد مسئلہ نہیں ہے۔ صائمہ خان جو چار بچوں کی ماں ہیں، اس مظاہرے میں اس لیے شامل ہوئی ہیں کہ وہ گزشتہ ماہ پولیس کی اس کارروائی پر برہم ہیں جس کے نتیجے میں مسلم اکثریت کی دو یونیورسٹیوں کے بہت سے طالب علم زخمی ہوئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم یہ برداشت نہیں کریں گے۔ یہاں زیادہ تر مائیں ہیں اور ماں اپنے بچے کو تکالیف میں نہیں دیکھ سکتی۔

اس مظاہرے کو ختم کرنے کے لیے دباؤ جاری ہے۔ لیکن اس سڑک پر پہلے ہی 19 دن سے موجود ان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک یہاں کیمپ میں رہیں گی جب تک نئے قانون کو منسوخ نہیں کر دیا جاتا۔

شاہین باغ کی ایک اور رہائشی بلقیس کہتی ہیں کہ چاہے مجھے یہاں ایک ماہ رہنا پڑے۔ چھ ماہ رہنا پڑے یا ایک سال رہنا پڑے، میں ہر روز یہاں آؤں گی۔

دہلی کے اس دور دراز کونے کی ان مسلمان خواتین کو عوامی مقامات پر بہت کم دیکھا یا سنا گیا ہے۔ یہ مظاہرہ کر رہی ہیں کہ انہیں نئے قانون کی مخالفت کرنے والوں میں شمار کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG