رسائی کے لنکس

شہریت ترمیمی قانون کسی صورت واپس نہیں لیا جائے گا: امیت شاہ

بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر امیت شاہ کی تصاویر کو نذر آتش کرکے احتجاج کیا جا رہا ہے — فائل فوٹو
بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر امیت شاہ کی تصاویر کو نذر آتش کرکے احتجاج کیا جا رہا ہے — فائل فوٹو

بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اہم رہنما اور مرکزی وزیر برائے داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ شہریت سے متعلق ترمیمی قانون کسی اقلیت کے خلاف نہیں ہے۔ یہ قانون کسی صورت واپس نہیں لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ بھارت میں 11 دسمبر کو دونوں ایوانوں سے منظور ہونے والے متنازع شہریت قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔

متعدد شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں اب تک دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ 1500 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔

نئے قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے نقل مکانی کر کے بھارت آنے والے ہندو، سکھ، بدھ مت، جین ازم، پارسی اور مسیحی مذاہب کے ان افراد کو شہریت دی جائے گی جو 2014 سے قبل بھارت آئے ہوں یا وہ چھ برس تک بھارت میں مقیم رہے ہوں۔ اس قانون میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اسے مسلمانوں کے خلاف سمجھا جا رہا ہے۔

امریکی اخبارات میں بھارت کی صورتحال پر کیا لکھا جا رہا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:21 0:00

بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے یہ بل 2016 میں بھی لوک سبھا (ایوانِ زیریں) میں پیش کیا تھا۔ تاہم، اس وقت بل راجیہ سبھا (ایوانِ بالا) میں منظور نہیں ہو سکا تھا۔

بھارت میں 20 کروڑ سے زائد مسلمان آباد ہیں جب کہ شمالی مشرقی علاقوں میں بنگلہ دیش سے بڑی تعداد میں مسلمان ریاست آسام میں آ کر آباد ہوئے ہیں۔

رواں سال اگست میں بھی یہ تنازع سامنے آیا تھا کہ جب این آر سی کا اجرا ہوا تو اس میں 20 لاکھ افراد کے نام شامل نہیں تھے، یعنی یہ افراد بھارت کے شہری تسلیم نہیں کیے گئے تھے۔ ان میں اکثریت مسلمانوں کی تھی اور ان میں لاکھوں ہندو بھی شامل تھے۔

بھارت کی حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ وہ مسلمان جو اپنے خاندان کے ساتھ بنگلہ دیش سے آئے تھے، اُنہیں بھارت میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں ہے۔

بھارت میں شہریت کے متنازعہ قانون کے حق اور مخالفت میں مظاہرے
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:08 0:00

واضح رہے کہ لوک سبھا (ایوان زیریں) میں ​وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے متنازع شہریت ترمیمی بل پیش کیا تھا جس پر تقریباً 12 گھنٹے تک بحث ہوئی۔

بھارت کی لوک سبھا میں بل کے حق میں 311 اور مخالفت میں 80 ارکان نے ووٹ دیا جب کہ ایوان بالا میں یہ بل 105 ووٹوں کے مقابلے میں 125 ووٹوں سے منظور ہوا تھا۔

بھارت کے اخبار 'ہندوستان ٹائمز' جمعے کو ریاست راجستھان کے شہر جودھ پور میں بی جے پی نے ایک ریلی کا انعقاد کیا جس کی قیادت بی جے پی کے رہنما امیت شاہ نے کی۔

بھارتی اخبار 'ٹائمز آف انڈیا' کی رپورٹ کے مطابق ریلی سے قبل امیت شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت اس قانون سے متعلق آگاہی کے حوالے سے ایک مہم کا آغاز کر رہی ہے۔

انہوں نے حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس پر عوام میں غلط معلومات پھیلانے کا الزام عائد کیا۔

بھارت: متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہرے جاری
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:22 0:00

حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پر الزام عائد کرتے ہوئے امیت شاہ کا کہنا تھا کہ کانگریس اپنا ووٹ بینک بڑھانے کے لیے عوام میں غلط معلومات پھیلانے میں مصروف ہے۔

'ہندوستان ٹائمز' کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی نے شہریت ترمیمی قانون سے متعلق 30 ریلیاں نکالنے کی منصوبہ بندی کی ہے جس میں پہلی ریلی جودھ پور میں نکالی گئی۔

نشریاتی ادارے 'ڈی این اے' کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی نئے سال کے پہلے مہینے کی پانچ سے 15 تاریخ تک تیزی سے مہم چلانے کی خواہاں ہے۔

جودھ پور میں جلسے سے خطاب میں کانگریس پر الزام لگاتے ہوئے امیت شاہ کا کہنا تھا کہ شہریت سے متعلق قانون میں احتجاج میں نوجوانوں کو گمراہ کیا گیا۔

کانگریس کے رہنما کو مخاطب کرتے انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کو کہتا ہوں کہ وہ پہلے قانون پڑھ لیں، اگر وہ نہیں پڑھ سکتے تو اطالوی زبان میں اس کا ترجمہ کرکے ارسال کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد جہاں چاہیں وہ اس پر مجھ سے بحث کر لیں۔

'شہریت قانون واپس لینے تک احتجاج جاری رہے گا'
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:56 0:00

امیت شاہ نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ کسی کی شہریت ختم کی جا سکتی ہے۔ اس میں صرف شہریت دینے کا ذکر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہریت ترمیمی قانون پر تمام جماعتیں متحد ہو جائیں تو اس کے باوجود بی جے پی اس قانون ہر ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔

امیت شاہ نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اس سرزمین کے ٹکڑے نہیں ہونے چاہیے تھے۔ ملک کے بٹوارے کے فیصلے میں کانگریس شامل تھی۔

اپنے پڑوسی ملک کا ذکر کرتے ہوئے امیت شاہ کہا کہ جب پاکستان بنا تو وہاں 30 فی صد سے زیادہ ہندو، جین، پارسی اور دیگر مذاہب کے لوگ رہتے تھے۔ وہ بھارت آنا بھی نہیں چاہتے ہوں گے اور ان کو امید تھی کہ وہاں انہیں عزت اور تحفظ ملے گا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے پاکستان میں 20 فی صد اقلیتیں تھیں جو اب کم ہو کر صرف تین فی صد رہ گئی ہیں۔ بنگلہ دیش میں 30 فی صد اقلیتیں تھیں اب صرف سات فی صد رہی گئی ہیں۔

متنازع شہریت بِل: دہلی کی جامع مسجد مظاہروں کا گڑھ بن گئی

جمعے کو ہزاروں افراد نئی دہلی کی جامعہ مسجد میں جمع ہوئے اور متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کیا۔ پولیس نے مظاہرین پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون کیمروں سے نگرانی بھی کی۔
1/10 جمعے کو ہزاروں افراد نئی دہلی کی جامعہ مسجد میں جمع ہوئے اور متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کیا۔ پولیس نے مظاہرین پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون کیمروں سے نگرانی بھی کی۔
​دارالحکومت نئی دہلی میں شدید احتجاج کیا جارہا ہے۔ جہاں حکومت کی ہدایت پر تین نجی اور دو سرکاری موبائل فون کمپنیوں نے سروسز بند کر دی ہیں۔ دہلی کے بعض علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔
2/10 ​دارالحکومت نئی دہلی میں شدید احتجاج کیا جارہا ہے۔ جہاں حکومت کی ہدایت پر تین نجی اور دو سرکاری موبائل فون کمپنیوں نے سروسز بند کر دی ہیں۔ دہلی کے بعض علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔
<p>نئی دہلی میں جمعرات کو شہریت قانون کے خلاف احتجاج کے دوران گولیاں لگنے سے تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مظاہروں کے دوران اب تک ہلاک افراد کی تعداد نو ہو گئی ہے۔</p>
3/10

نئی دہلی میں جمعرات کو شہریت قانون کے خلاف احتجاج کے دوران گولیاں لگنے سے تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مظاہروں کے دوران اب تک ہلاک افراد کی تعداد نو ہو گئی ہے۔

<p>دہلی پولیس نے اہلکاروں کی فائرنگ سے تین افراد کی ہلاکت کی تردید کی ہے۔</p>
4/10

دہلی پولیس نے اہلکاروں کی فائرنگ سے تین افراد کی ہلاکت کی تردید کی ہے۔

نئی دہلی کی انتظامیہ نے 12 تھانوں کی حدود میں سخت پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔ جس کے بعد دو یا دو سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پولیس کو اُنہیں گرفتار کرنے کا حکم ہے۔
5/10 نئی دہلی کی انتظامیہ نے 12 تھانوں کی حدود میں سخت پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔ جس کے بعد دو یا دو سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پولیس کو اُنہیں گرفتار کرنے کا حکم ہے۔
شہریت قانون کے خلاف احتجاج کا دائرہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے حلقہ انتخاب گجرات سمیت دیگر شہروں تک پھیل چکا ہے۔
6/10 شہریت قانون کے خلاف احتجاج کا دائرہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے حلقہ انتخاب گجرات سمیت دیگر شہروں تک پھیل چکا ہے۔
<p>بھارتی پارلیمان نے حال ہی میں شہریت قانون بل منظور کیا ہے۔ جس کے تحت بھارت کے پڑوسی ملک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے وہ شہری جو مسلمان نہیں اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہیں بھارت میں شہریت دی جا سکتی ہے۔</p>
7/10

بھارتی پارلیمان نے حال ہی میں شہریت قانون بل منظور کیا ہے۔ جس کے تحت بھارت کے پڑوسی ملک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے وہ شہری جو مسلمان نہیں اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہیں بھارت میں شہریت دی جا سکتی ہے۔

بھارت کے مخلتف شہروں میں پولیس اب تک 1200 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر چکی ہے۔
8/10 بھارت کے مخلتف شہروں میں پولیس اب تک 1200 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر چکی ہے۔
مظاہرے میں شریک ایک شخص متنازع شہریت قانون کے خلاف مہم کی حمایت میں ایک سفید بینر پر دستخط کر رہا ہے۔
9/10 مظاہرے میں شریک ایک شخص متنازع شہریت قانون کے خلاف مہم کی حمایت میں ایک سفید بینر پر دستخط کر رہا ہے۔
<p>نئے قانون کی منظوری اور اس پر صدر کے دستخط کے بعد یہ قانون بھارت میں نافذ العمل ہے۔ اس قانون کی مخالفت کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی سیکیولر بھارت کو ہندوؤں کا ملک بنانا چاہتے ہیں۔ تاہم حکومت اس کی تردید کرتے ہوئے اس اقدام کو آئین اور قانون کے مطابق قرار دے رہی ہے۔</p>
10/10

نئے قانون کی منظوری اور اس پر صدر کے دستخط کے بعد یہ قانون بھارت میں نافذ العمل ہے۔ اس قانون کی مخالفت کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی سیکیولر بھارت کو ہندوؤں کا ملک بنانا چاہتے ہیں۔ تاہم حکومت اس کی تردید کرتے ہوئے اس اقدام کو آئین اور قانون کے مطابق قرار دے رہی ہے۔

Previous slide
Next slide

انہوں نے بھارت کی حزب اختلاف کی جماعتوں سے سوال کیا کہ وہ بتائیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش سے یہ لوگ کہاں گئے؟

ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ یا تو مار دیے گئے یا پھر وہ بھارت آ گئے۔ انسان حقوق کی تنظیمیں بتائیں کہ وہ لوگ جو وہاں کروڑ پتی تھے۔ اب بھارت میں ان کے سر پر چھت ہی نہیں ہے۔ ان کو ان ممالک سے مار بھگایا گیا۔

پاکستان اور بھارت کے اولین وزرائے اعظم کا ذکر کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ جواہر لعل نہرو اور لیاقت علی خان میں معاہدہ ہوا کہ دونوں جانب اقلیتوں کو تحفظ دیا جائے گا۔ بھارت میں تو اقلیتوں کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پاکستان میں 30 فی صد سے تین فیصد اور بنگلہ دیش میں 30 فی صد سے سات فی صد اقلیتیں بچی ہیں۔ افغانستان میں لاکھوں اقلیتی افراد سے تعداد اب صرف 500 تک آ چکی ہے۔

امیت شاہ نے کہا کہ راجستھان سے لے کر پنجاب اور بنگال سے لے کر دیگر ریاستوں میں لوگ ان ممالک سے ہجرت کرکے آئے ان میں سے 70 فی صد دلِت ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔

بھارت: شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج میں شدت

متنازع شہریت قانون کے خلاف دارالحکومت نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔سڑکوں پر جلاؤ گھیراؤ کے بعد حساس علاقوں میں پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا ہے۔ دہلی میں چلنے والی کئی سرکاری بسوں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے۔ تصویر میں ایک شخص آگ کے شعلوں میں لپٹی بس کے قریب سے گزر رہا ہے۔&nbsp;<br />
<br />
&nbsp;
1/11 متنازع شہریت قانون کے خلاف دارالحکومت نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔سڑکوں پر جلاؤ گھیراؤ کے بعد حساس علاقوں میں پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا ہے۔ دہلی میں چلنے والی کئی سرکاری بسوں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے۔ تصویر میں ایک شخص آگ کے شعلوں میں لپٹی بس کے قریب سے گزر رہا ہے۔ 

 
دارالحکومت دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر طلبہ نے احتجاج کیا۔ اتوار کو کیمپس میں پولیس کے داخلے اور طلبہ پر لاٹھی چارج کے واقعے کے خلاف پیر کو بھی طلبہ نے احتجاج کیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔&nbsp;
2/11 دارالحکومت دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر طلبہ نے احتجاج کیا۔ اتوار کو کیمپس میں پولیس کے داخلے اور طلبہ پر لاٹھی چارج کے واقعے کے خلاف پیر کو بھی طلبہ نے احتجاج کیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔ 
مظاہرین نے کئی بسوں اور دیگر گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔ احتجاج کے پیشِ نظر نئی دہلی میں ہنگامی صورتِ حال نافذ کر دی گئی ہے۔<br />
<br />
<br />
&nbsp;
3/11 مظاہرین نے کئی بسوں اور دیگر گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔ احتجاج کے پیشِ نظر نئی دہلی میں ہنگامی صورتِ حال نافذ کر دی گئی ہے۔


 
مظاہروں پر قابو پانے کے لیے دہلی پولیس نے رات بھر گشت جاری رکھا۔ تصویر میں پولیس اہلکار نمایاں ہیں۔ دو موٹر سائیکلیں سڑک کے کنارے الٹی پڑی ہیں۔&nbsp;<br />
<br />
<br />
&nbsp;
4/11 مظاہروں پر قابو پانے کے لیے دہلی پولیس نے رات بھر گشت جاری رکھا۔ تصویر میں پولیس اہلکار نمایاں ہیں۔ دو موٹر سائیکلیں سڑک کے کنارے الٹی پڑی ہیں۔ 


 
مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل برسائے جن سے بچنے کے لیے لوگ محفوظ مقامات کی جانب بھاگ رہے ہیں۔&nbsp;<br />
&nbsp;
5/11 مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل برسائے جن سے بچنے کے لیے لوگ محفوظ مقامات کی جانب بھاگ رہے ہیں۔ 
 
دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اتوار کو بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا جو بعد میں بڑھتے بڑھتے دوسری جامعات تک پھیل گیا۔&nbsp;<br />
<br />
&nbsp;
6/11 دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اتوار کو بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا جو بعد میں بڑھتے بڑھتے دوسری جامعات تک پھیل گیا۔ 

 
بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ احمد آباد میں بھی گوہاٹی کی طرح بڑے پیمانے پر لوگوں نے مظاہروں میں شرکت کی۔&nbsp;<br />
<br />
&nbsp;
7/11 بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ احمد آباد میں بھی گوہاٹی کی طرح بڑے پیمانے پر لوگوں نے مظاہروں میں شرکت کی۔ 

 
نئی دہلی میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ پولیس نے مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے ایکشن لیا لیکن مظاہرے پیر کو بھی جاری رہے۔&nbsp;<br />
<br />
&nbsp;
8/11 نئی دہلی میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ پولیس نے مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے ایکشن لیا لیکن مظاہرے پیر کو بھی جاری رہے۔ 

 
مظاہرین نے دہلی میں واقع پولیس ہیڈ کوارٹرز کے باہر مظاہرہ کیا اور نئے قانون کی مخالفت میں نعرے لگائے۔&nbsp;<br />
<br />
&nbsp;
9/11 مظاہرین نے دہلی میں واقع پولیس ہیڈ کوارٹرز کے باہر مظاہرہ کیا اور نئے قانون کی مخالفت میں نعرے لگائے۔ 

 
گوہاٹی کے میوزیکل کنسرٹ کے دوران مظاہرے میں شریک ایک خاتون حکومت مخالف نعرے لگا رہی ہیں۔&nbsp;<br />
<br />
&nbsp;
10/11 گوہاٹی کے میوزیکل کنسرٹ کے دوران مظاہرے میں شریک ایک خاتون حکومت مخالف نعرے لگا رہی ہیں۔ 

 
دہلی کے ساتھ ساتھ ریاست آسام کے صدر مقام گوہاٹی میں ہونے والے ایک میوزیکل کنسرٹ کے دوران بھی شہریت کے قانون کے خلاف مظاہرے جاری رہے۔ گوہاٹی میں کم از کم پانچ ہزار افراد نے مظاہروں میں شرکت کی۔&nbsp;
11/11 دہلی کے ساتھ ساتھ ریاست آسام کے صدر مقام گوہاٹی میں ہونے والے ایک میوزیکل کنسرٹ کے دوران بھی شہریت کے قانون کے خلاف مظاہرے جاری رہے۔ گوہاٹی میں کم از کم پانچ ہزار افراد نے مظاہروں میں شرکت کی۔ 
Previous slide
Next slide

واضح رہے کہ دلت ہندوؤں کی چار ذاتوں میں سب سے کم تر ذات کو کہا جاتا ہے۔ ان کو اچھوت بھی سمجھا جاتا ہے۔

امیت شاہ نے کہا کہ کانگریس کو شرم کرنی چاہیے کہ ان کے رہنماؤں نے عوام سے جو وعدے کیے تھے وہ بی جے پی پورے کر رہی ہے۔

امیت شاہ نے کہا کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں نعرے لگائے جاتے ہیں کہ بھارت کے ایک ہزار ٹکڑے ہوں۔ جس کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ انشاءاللہ انشاءاللہ۔ اب عوام بتائے جو لوگ بھارت کے ٹکڑے کرنے کے نعرے لگائیں تو کیا ان کو جیل میں نہیں ڈالنا چاہیے۔

بی جے پی رہنما کے سوال پر جلسے کے شرکا نے جوابی نعرے لگانا شروع کیے کہ ان کو جیل میں ڈالا جائے۔

This item is part of
XS
SM
MD
LG