رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر: حزب المجاہدین کے آپریشنل چیف ڈاکٹر سیف کو ہلاک کرنے کا دعویٰ


بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس نے علیحدگی پسند تنظیم ‘حزب المجاہدین’ کے آپریشنل چیف ڈاکٹر سیف اللہ کو سری نگر کے مضافات میں اتوار کو ہونے والی ایک جھڑپ میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

جموں و کشمیر کے پولیس کے سربراہ وجے کمار نے صحافیوں سے گفتگو میں دعوی کیا کہ سیف اللہ کی ہلاکت، علیحدگی پسند عسکریت پسندوں کے خلاف جاری سیکیورٹی فورسز کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

وجے کمار کا عجلت میں بلائی گئی پریس کانفرنس میں مزید کہنا تھا کہ سیف اللہ نے رواں سال مئی میں ریاض نائیکو کی ہلاکت کے بعد حزب المجاہدین کی کمان سنبھالی تھی۔ جو کہ انتہائی مطلوب عسکریت پسندوں میں سے ایک اور سیکیورٹی فورسز پر کیے جانے والے حملوں میں ملوث تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سری نگر ایئر پورٹ کے نزدیک رنگ ریٹھ کے علاقے میں ہونے والی جھڑپ میں ایک مشتبہ عسکریت پسند نے خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے بھی کیا ہے۔

عسکریت پسندوں کے ساتھ ہونے والی جھڑپ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے رنگ ریٹھ کے علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات کے بعد سرچ آپریشن شروع کیا۔

پولیس کے مطابق سیف اللہ نے رواں سال مئی میں ریاض نائیکو کی ہلاکت کے بعد حزب المجاہدین کی کمان سنبھالی تھی۔
پولیس کے مطابق سیف اللہ نے رواں سال مئی میں ریاض نائیکو کی ہلاکت کے بعد حزب المجاہدین کی کمان سنبھالی تھی۔

وجے کمار کے بقول جب سیکیورٹی فورسز علاقے میں تلاشی لے رہی تھیں تو اسی دوران عسکریت پسندوں نے فائرنگ شروع کردی۔ فورسز نے جوابی کارروائی کی۔

پولیس عہدیدار نے جھڑپ کے مقام پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کو یہ اطلاع ملی تھی کہ سیف اللہ جنوبی کشمیر سے یہاں آیا ہے اور ایک مکان میں چھپا ہوا ہے۔ چنانچہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور آپریشن شروع کیا۔

ان کے بقول فائرنگ کے تبادلے میں جو جنگجو ہلاک ہوا۔ انہیں 95 فی صد یقین ہے کہ وہ ڈاکٹر سیف اللہ ہے۔ وہ لاش برآمد کر رہے ہیں۔ جس کے بعد اس کی شناخت کی جائے گی۔

پولیس چیف نے بعد ازاں پریس کانفرنس کے دوران ہی تصدیق کردی کہ ہلاک ہونے والا مشتبہ عسکریت پسند سیف اللہ تھا۔

پولیس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران ایک نجی مکان میں روپوش عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈال کر خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔
پولیس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران ایک نجی مکان میں روپوش عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈال کر خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔

اتوار کی شام پولیس کی طرف سے ذرائع ابلاغ کے لیے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران ایک نجی مکان میں روپوش عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈال کر خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے کی پیش کش کی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے اسے ٹھکرا دیا اور سیکیورٹی فورسز پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ جس کے بعد عسکریت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی۔

حزب المجاہدین نے تاحال پولیس کے دعوے پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

ڈاکٹر سیف اللہ کا اصلی نام سیف السلام میر تھا۔ لیکن وہ عسکری حلقوں میں ڈاکٹر سیف اللہ اور غازی حیدر کے نام سے مشہور تھے۔

ان کا تعلق جنوبی کشمیر کے ملنگ پورہ گاؤں سے تھا اور وہ سن 2014 میں حزب المجاہدین میں شامل ہوئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران سیف اللہ نے سیکیورٹی فورسز پر کیے جانے والے متعدد حملوں میں حصہ لیا تھا اور اس کے علاوہ پولیس کے بقول سیف اللہ کئی دہشت گرد کارروائیوں میں بھی ملوث تھے۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق بھارتی حفاظتی دستوں نے نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر میں رواں سال اب تک 191 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔
سرکاری اعدادو شمار کے مطابق بھارتی حفاظتی دستوں نے نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر میں رواں سال اب تک 191 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق بھارتی سیکیورٹی فورسز نے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں رواں سال اب تک 191 عسکریت پسندوں کو جن میں مختلف تنظیموں کے تقریباً ایک درجن اعلیٰ کمانڈر بھی شامل تھے، ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG