رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: کپاس کی برآمد پر عائد پابندی میں جزوی نرمی


بھارتی حکومت نے بین الاقوامی منڈی میں کپاس کی قیمتوں میں اضافے اور مقامی کسانوں اور درآمد کنندگان کے احتجاج کے بعد کپاس کی برآمد پر عائد پابندی عارضی طور پر اٹھالی ہے۔

بھارتی حکومت نے اپنے موقف میں نرمی لاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی تاجر کپاس کی برآمد پر پابندی عائد کیے جانے سے قبل طے پانے والے سودوں کی پاسداری کرتے ہوئے کپاس برآمد کرسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ بھارت دنیا میں کپاس کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ہے۔ بھارتی حکومت نے ملکی کپاس کی برآمدات میں اضافے کے بعد 4 مارچ کو اچانک کپاس کی بیرونِ ملک خریداروں کو فراہمی پر پابندی عائد کردی تھی۔

بھارتی حکام کا کہنا تھا کہ پابندی کا مقصد مقامی ٹیکسٹائل صنعت کو درکار خام مال کی فراہمی یقینی بنانا تھا جس سے منسلک کاروباری افراد بھارتی کپاس کی چین کو برآمد میں اضافے اورقیمتوں میں چڑھاؤ کے باعث تشویش کا شکار تھے۔

بھارتی حکام کا کہنا تھا کہ کپاس کی برآمد کی سطح کل ملکی پیداوار کی 40 فی صد تک جاپہنچی تھی جس کے باعث مقامی منڈی کی طلب و رسد میں عدم توازن پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔

بھارت کی جانب سے کپاس کی برآمدات معطل کیے جانے کے بعد کپاس کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا تھا جب کہ درآمد کنندہ ممالک نے بھارتی فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

بھارتی کپاس کے چینی خریداروں نے پابندی کو "غیر ذمہ دارانہ" قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کےنتیجے میں کپاس کی عالمی تجارت متاثر ہوگی۔

چین دنیا میں بھارتی کپاس کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے جب کہ بنگلہ دیش، تھائی لینڈ اور پاکستان میں ٹیکسٹائل کی ابھرتی ہوئی صنعتیں بھی خام مال کی مقامی طلب پورا کرنے کے لیے بھارتی کپاس درآمد کرتی ہیں۔

کپاس کی برآمد پر پابندی کے فیصلے پر بھارت میں ملا جلا ردِ عمل سامنے آیا تھا۔ مقامی ٹیکسٹائل صنعت کی جانب سے پابندی کا خیر مقدم کیا گیا تھا جب کہ وزیرِ زراعت اور کسانوں کی انجمنوں نے فیصلے پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔

یاد رہے کہ عالمی منڈی میں گزشتہ برس کپاس کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر جاپہنچی تھیں لیکن حالیہ مہینوں کے دوران ان قیمتوں میں کمی آئی ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران میں یہ دوسرا موقع ہے کہ بھارتی حکومت نےکپاس کی برآمد پر پابندی عائد کی ہے۔ اس سے قبل 2010ء میں بھی بھارت نے مقامی طلب پوری کرنے کے لیے کپاس کی بیرونِ ملک برآمد پر پابندی عائد کردی تھی۔

XS
SM
MD
LG