رسائی کے لنکس

کشمیر میں داعش کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی، بھارتی حکومت


سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والے کشمیر مغیث میر کی میت داعش کے پرچم میں لپیٹی ہوئی ہے۔ 18 نومبر 2017

مارے گئے عسکریت پسند مغیث احمد میر کی تدفین میں ہزاروں افراد نے شرکت ۔  اس موقع پر اتاری گئی تصویروں میں عسکریت پسند کی میت داعش کے جھنڈے میں لپٹی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

یوسف جمیل

بھارتی وزیرِ داخلہ راجناتھ سنگھ نے منگل کے روز اس بات سے انکار کردیا کہ دولتِ اسلامیہ یا داعش نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں قدم جمانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں کہ گذشتہ دنوں شورش زدہ ریاست کے گرما ئی دارالحکومت سری نگر میں پولیس کے ساتھ ایک مقابلے میں ہلاک ہونے والے مقامی عسکریت پسند کی تدفین کے دوران اُس کی میت پر داعش کا جھنڈا کس نے ڈالا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس بارے میں رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی کسی حتمی فیصلے پر پہنچا جاسکتا ہے۔

سری نگر کے گلاب باغ علاقے میں ہفتے کے روز ہونے والی جھڑپ کے دوران ایک پولیس افسر بھی ہلاک ہوا تھا۔

مارے گئے عسکریت پسند مغیث احمد میر کی تدفین میں ہزاروں افراد نے شرکت ۔ اس موقع پر اتاری گئی تصویروں میں عسکریت پسند کی میت داعش کے جھنڈے میں لپٹی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھیں جس کے بعد داعش نے خود سے منسلک نیوز ایجنسی 'اعماق' میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ پولیس پر حملہ اس کے جنگجوؤں نے کیا تھا۔

لیکن بھارتی وزیرِ داخلہ سے جب صوبہ اُتر پردیش کے شہر وارانسی میں نامہ نگاروں نے اس بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں داعش کی موجودگی کے امکان کو خارج کردیا۔ تو اُن کے اپنے الفاظ میں- "ایسی رپورٹوں کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ سیکیورٹی ادارے اس معاملے کی تحقیقات کررہی ہیں اور اس پر حکومت کو رپورٹ پیش کئے جانے کے بعد ہی کوئی حتمی رائے قائم کی جا سکتی ہے"۔

تاہم بھارتی وزیرِ داخلہ نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کی بھارت کے مسلمان داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کو ملک میں جڑیں مضبوط کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "مجھے ملک کے نوجوانوں پر پورا اعتماد ہے۔ وہ آئی ایس آئی ایس کے ہاتھوں گمراہ نہیں ہوں گے-ایک بھارتی مسلمان جو اسلام میں یقین رکھتا ہے، داعش جیسی تنظیم کو ملک میں اپنی بنیاد ڈالنے کا موقعه فراہم نہیں کرے گا"۔

اس سے پہلے نئی دہلی میں حکومت کے ایک ترجمان نے بھی اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں داعش کے موجودگی سے انکار کردیا تھا۔ ترجمان نے کہا تھا کہ اس بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے کہ داعش سری نگر کے فائرنگ کے تبادلے میں ملوث ہے۔

سری نگر میں عہدے داروں نے کہا تھا کہ ہلاک کیا جانے والا عسکریت پسند تحریک المجاہدین نامی تنظیم سے وابستہ تھا۔ تحریک المجاہدین کے ترجمانِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالحق نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ مغیث احمد میر عرف عمر بن خطاب جنوبی ضلع پلوامہ کے لئے تنظیم کا کمانڈر تھا۔

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے پولیس سربراہ شیش پال وید سے جب ریاست میں داعش کی موجودگی کی بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بھی اس امکان کو رد کردیا۔

کشمیر میں سرگرم عسکری تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے کہا کہ کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کشمیریوں کی اپنی تحریک ہے اور اس کا کوئی عالمی ایجنڈا نہیں ہے۔

ایک اور خبر کے مطابق منگل کو سرحدی ضلع کپوارہ کے ہندوارہ کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں تین عسکریت پسند مارے گئے۔ عہدے داروں نے دعویٰ کیا ہے کہ تینوں افراد کا تعلق کالعدم لشکرِ طیبہ سے تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کپوارہ ہی کے ایک اور علاقے میں منگل کی سہ پہر سے حفاظتی دستوں اور عسکریت پسندوں کے درمیان جاری ایک جھڑپ میں ایک بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG