رسائی کے لنکس

بھارت نے ایران کے راستے افغانستان کو امدادی سامان بھیج دیا


چاہ بہار بندرگاہ، ایران (فائل فوٹو)

بھارت نے امدادی سامان سے لدا بحری جہاز ایرانی بندر گاہ 'چاہ بہار' کے ذریعے افغانستان کے لیے روانہ کر دیا ہے۔

امدادی سامان میں گندم کے علاوہ کرونا وائرس کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی اینٹی ملیریا ادویات بھی شامل ہیں۔

بھارتی اخبار 'دی ہندو' کے مطابق اتوار کو بھارتی بحری جہاز امدادی سامان لے کر بھارتی بندر گاہ 'کنڈلا' سے ایران کی بندر گاہ چاہ بہار کے لیے روانہ ہوا۔

رواں سال فروری میں ایران کی طرف سے بھارت پر دہلی میں ہونے والے ہنگاموں پر کی جانے والی تنقید کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بھارت، ایرانی بندر گاہ کا استعمال کر رہا ہے۔

افغان دارالحکومت کابل میں قائم بھارتی سفارت خانے کی سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق بھارت کی طرف سے افغانستان کو 75 ہزار میٹرک ٹن گندم تحفتاً دی گئی ہے جس کی پہلی کھیپ میں 5 ہزار 22 میٹرک ٹن گندم 251 کنٹینرز کے ذریعے افغانستان پہنچ رہی ہے۔

بھارت کی طرف سے افغانستان کو 'ہائیڈروآکسی کلوروکوئن' کی پانچ لاکھ گولیاں بھی ارسال کی گئی ہیں جو کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

بھارت کی طرف سے یہ اقدام وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جنوبی ایشیائی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ویڈیو کانفرنس کے ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ کانفرنس میں 'سارک' ممالک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کے عزم کا اعادہ کیا گیا تھا۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں رواں برس 24 اور 25 فروری کو اس وقت ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی دورے پر تھے اور امریکہ کی طرف سے ایران پر لگائی گئی پابندیوں کو اجاگر کیا گیا تھا۔

روزنامہ 'ہندو' کے مطابق بھارت کی طرف سے چاہ بہار بندر گاہ کے استعمال سے متعلق ایرانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکی پابندیوں کو شکست دینے کے لیے بین الاقوامی برادری سے مدد طلب کی ہے۔ اس حوالے سے ایران کے صدر حسن روحانی کی طرف سے 13 مارچ کو بھارت کو ایک خط بھی تحریر کیا تھا جس کا بھارت نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG