رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کوچز کے خلاف خواتین کو ہراساں کرنے کی 35 شکایات موصول 


وزیر کھیل کرن رجیجو

بھارتی وزارت کھیل کو اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے کوچز کے خلاف جنسی طور ہراساں کرنے سے متعلق 35 شکایات موصول ہوئیں ہیں۔ یہ شکایات 2011 سے 2019 تک کی 9 سالہ مدت کے دوران موصول ہوئیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی وزارت کھیل کا کہنا ہے کہ یہ شکایات اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے زیر انتظام مراکز میں کوچنگ کے فرائض انجام دینے والے افراد کے خلاف درج کرائی گئیں۔

وزیر کھیل کرن رجیجو نے رائٹرز کو بتایا کہ اب تک 14 افراد پر جرمانہ عائد کیا جاچکا ہے۔ یہ افراد جرم میں ملوث پائے گئے جب کہ 15 معاملات کی تفتیش کی جارہی ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ باقی مقدمات میں ملزمان کو یا تو متعلقہ عدالتوں نے بری کر دیا ہے یا ان کے خلاف مقدمات اب تک درج ہی نہیں ہوسکے ہیں۔

وزیر کھیل کیرن رجیجو نے کہا کہ انہوں نے ایس اے آئی سے کہا ہے کہ وہ آئندہ چار ہفتوں میں زیر التوا مقدمات کی تحقیقات مکمل کرے۔

ان کے مطابق اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کا کہنا ہے کہ کیمپس میں ہراساں کیے جانے سے متعلق 'زیرو ٹولرنس' پالیسی اختیار کی جاتی ہے یعنی کسی بھی ملزم کو بخشا نہیں جاتا، معاملات کی تحیقات تیز کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جنسی ہراسگی کے معاملات سے نمٹنے اور اپنے کھلاڑیوں کی حفاظت کے بنائے گئے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

دوسری جانب ایس اے آئی کی سابق ڈائریکٹر جنرل نیلم کپور کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ جسنی طور پر ہراساں کئے جانے کے واقعات کی اطلاعات اکثر چھپالی جاتی ہیں جس کا اصل سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہراساں ہونے والے شخص کو اس بات کا خدشہ ہو کہ اسے کہیں بدلے کا نشانہ نہ بننا پڑے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ حکام پر ہے کہ وہ یہ امر یقینی بنائیں تمام رپورٹ شدہ معاملات کو سنجیدگی سے اور جلد نمٹایا جاسکے اور جب جرم ثابت ہوجائے تو سزا مثالی ہونی چاہئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG