رسائی کے لنکس

logo-print

کیا کشمیر پر بھارتی اقدام کا اثر افغان امن عمل پر پڑ سکتا ہے؟


امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے سات دور ہو چکے ہیں۔(فائل فوٹو)

تجزیہ کاروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے اس کے زیر انتظام کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ جس کا جزوی اثر افغانستان میں قیام امن کے لیے جاری کوششوں پر پڑ سکتا ہے۔

بھارت کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ فریقین جلد کسی سمجھوتے پر پہنچنے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں جب کہ اس امن عمل میں پاکستان نے بھی کردار ادا کیا ہے۔

ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ بھارت کے اس فیصلے کے بعد اس کے زیر انتظام کشمیر، لائن آف کنٹرول اور پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد پر حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل ہونے کے بعد ردعمل کے خدشات ظاہرکیے جا رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل ہونے کے بعد ردعمل کے خدشات ظاہرکیے جا رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

'پاکستان افغان امن عمل پر زیادہ توجہ نہیں دے سکے گا'

بین الاقوامی امور کے ماہر سینئر صحافی زاہد حسین کا کہنا ہے کہ پاک بھارت کشیدہ تعلقات کا براہ راست اثر افغان امن عمل پر پڑے گا۔ ان کے بقول پاکستان کی توجہ مغربی سرحد سے ہٹ کر مشرقی سرحد کی جانب زیادہ مبذول ہو جائے گی۔ جس سے یہ امکان ہے کہ پاکستان جو کہ افغان امن عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے وہ زیادہ تندہی سے ان مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں اپنا حصہ نہیں ڈال سکے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ دو روز سے قطر کے دارالحکومت دوحا میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ فریقین کے درمیان مذاکرات کا یہ آٹھواں دور ہے جسے انتہائی اہم اور فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔

'مذاکرات امریکہ اور طالبان کے درمیان ہو رہے ہیں'

افغانستان کے امور کے ماہر تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کہتے ہیں کہ افغان امن عمل امریکہ اور طالبان کے درمیان ہو رہا ہے۔ پاکستان کا اس میں تعاون ضرور کر رہا ہے تاہم بھارت کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں اس کا اثر افغان امن عمل پر نہیں پڑے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ظاہر ہے پاکستان اب بھارت کے اقدامات کے خلاف حکمت عملی مرتب کرنے میں مصروف ہو جائے گا تاہم اس کا اثر امریکہ اور طالبان کے مذاکرات پر نہیں پڑے گا۔ ان کے بقول امریکہ نے اس معاملے پر پاکستان سے تعاون کی درخواست کی تھی جس کا پاکستان نے مثبت جواب دیا تھا۔

رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق پاکستان کے افغان امن عمل میں کردار کو امریکہ دل سے تسلیم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے ثالثی کی پیش کش کی تھی۔

امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد مذاکرات میں مصروف ہیں۔ (فائل فوٹو)
امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد مذاکرات میں مصروف ہیں۔ (فائل فوٹو)

رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ امکان یہی ہے کہ لائن آف کنٹرول(ایل او سی) پر حالات اتنے کشیدہ نہیں ہوں گے۔ تاہم اگر ایسا ہوا اور دونوں ممالک جوہری ممالک کے درمیان تصادم کا خطرہ ہوا تو عالمی قوتیں امریکہ، روس اور چین مداخلت کر کے معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں گی۔

'جوہری ممالک کے بگڑتے تعلقات پر تشویش تو ضرور ہو گی'

تجزیہ کار زاہد حسین کے مطابق پاکستان نے متعدد بار بھارت کو مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ امریکہ نے بھی ثالثی کی پیشکش کر رکھی ہے۔ ان کے بقول جوہری قوت رکھنے والے ممالک کے درمیان کشیدگی پر دنیا کو تشویش لاحق ہو گی۔

زاہد حسین کے بقول کشمیر کے تنازع کے حل کے لیے بین الاقوامی برادری کا کردار محدود ہے کیوں کہ بھارت اسے تنازع سمجھنے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی وہ پاکستان سے بات چیت پر آمادہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG