رسائی کے لنکس

logo-print

'ایل او سی پر کشیدگی سے افغان امن عمل متاثر ہو سکتا ہے'


—فائل فوٹو

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مشرقی سرحد اور لائن آف کنٹرول )ایل او سی( پر کشیدگی سے افغان عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد میں پارلیمان کی کشمیر کمیٹی کے اجلاس کے بعد کمیٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی فخر امام کے ہمراہ دفتر خارجہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے حالات خراب ہو رہے ہیں لیکن اس باوجود بھارت نا تو دو طرفہ مذاکرات پر تیار ہے اور نہ ہی اس معاملے پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی پر آمادہ ہے۔

کشمیر کمیٹی کے بدھ کو ہونے والے اجلاس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی کشیدہ صورت حال کا جائزہ لیا گیا جبکہ کشمیر کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے مجوزہ اقدامات پر بھی غور کیا گیا ہے۔

کشمیر میں 10 ہزار اضافی سکیورٹی اہلکار بھیجنے کے بھارت کے اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اس سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی صورت حال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کی توجہ اپنی مشرقی سرحد پر مرکوز ہے جس کا اثر افغانستان کی صورت حال پر ہو سکتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کے اہم کردار ادا کیا ہے جسے دنیا نے تسلیم کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان کی مغربی سرحد پر سکیورٹی فورسز بدستور تعینات ہیں تاہم توجہ مشرقی سرحد پر مرکوز ہونے کی وجہ سے توجہ بٹی رہے گی جس سے افغانستان میں جاری امن عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

ان کے بقول؛ "ہم اپنی مشرقی سرحد سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔"

ایل او سی پر کشیدگی اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش میں کسی قسم کے تعلق کے سوال پر وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی پہلے بھی ہو رہی تھی اور اب بھی ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کے بیان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا سمجھوتا دونوں ممالک میں اعتماد سازی کا ایک اہم قدم تھا تاہم بھارت کی طرف سے اس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد اور نئی دہلی میں ایل او سی پر فائر بندی کا معاہدہ تو ہو چکا ہے تاہم دونوں جانب سے اس کی خلاف ورزی میں پہل کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا جاتا ہے۔

افغان امن عمل کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ چیلنج تو پہلے بھی تھے اور آئندہ بھی موجود رہیں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا گیا ہے اسی کے نتیجے میں صدر ٹرمپ نے عمران خان کو امریکہ کے دورے کے دعوت دی تھی۔

اس حوالے سے وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم کبھی غافل نہیں رہے ہیں اور نا ہی کبھی پاکستان نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ تنہا افغان مسئلہ کو حل کر سکتے ہیں۔

ان کے بقول؛ "پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ افغان امن عمل ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے علاقائی اتفاق رائے کی بھی ضرورت ہے۔"

پاکستان کے وزیر خارجہ نے یہ بات ایک ایسے وقت میں کہی ہے جب امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد کابل کا دورہ مکمل کر چکے ہیں اور اسلام آباد سے ہوتے ہوئے قطر کے دارالحکومت دوحہ جائیں گے۔ جس کے حوالے سے مبصرین کہہ رہے ہیں کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت ایک نیا اور فیصلہ کن دور شروع ہونے جا رہا ہے ۔

شاہ محمود قریشی نے زلمے خلیل زاد کے دورہ اسلام آباد کا خیر مقدم کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG