رسائی کے لنکس

logo-print

ڈھنڈورا پیٹنا کارِ خیر کا اجر ضائع کر دیتا ہے: شاہ رخ خان


فائل فوٹو

فلاحی کاموں میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں برطانیہ کی ’یونیوسٹی آف لا‘ کی جانب سے ڈاکٹوریٹ کی اعزازی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ممبئی پہنچنے پر فلمی دنیا کے بے تاج بادشاہ، شاہ رخ خان نے کہا ہے کہ ’’مناسب یہی ہے کہ سماجی اور خیراتی کام ڈھنڈورا پیٹے بغیر کیا جائے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’خصوصی طور پر جنوبی ایشیا کے معاشروں میں کار خیر خاموشی اور دلجمعی کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

شاہ رخ خان ’میر فاؤنڈیشن‘ نامی سماجی خدمت انجام دینے والے فلاحی ادارے کے سرپرست ہیں، جو کئی برسوں سے نفعے نقصان کے بغیر کام کر رہی ہے۔ فاؤنڈیشن خواتین کو بااختیار بنانے کے سلسلے میں نمایاں اور قابلِ ستائش کام کر رہی ہے۔

شاہ رخ نے کہا کہ ڈاکٹوریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کیا جانا ان کے لیے انتہائی خوشی اور قدردانی کا معاملہ ہے، جس پر وہ اپنے پرستاروں اور یونیورسٹی کے اساتذہ کے شکر گزار ہیں، جنھوں نے اُنھیں اس اعزاز کے قابل سمجھا۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’حق یہ ہے کہ ڈگری کا حق ادا کرنا مشکل امر ہے‘‘۔

اس سے قبل، شاہ رخ خان نے ٹوئٹر پر بیان میں یونیوسٹی کا شکریہ ادا کیا اور گریجوئیشن کرنے والے طالب علموں کو مبارکباد دی۔

جمعرات کو لندن میں منعقدہ اس خصوصی گریجوئیشن تقریب میں 350 سے زائد طالب علموں نے شرکت کی۔

بقول اُن کے، ’’اگر ہم کار خیر کا ڈھول پیٹیں گے تو اس سے امکان اس بات کا ہے کہ اجر ضایع ہوجائے گا۔ نیک کام کا مقصد ہی فوت ہوجائے تو پھر روح غائب ہو جانے پر ساری کاوش سعی لاحاصل بن کر رہ جاتی ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ فلاحی کام نہ صرف لگن کے ساتھ بلکہ عبادت کے طور پر کرتے ہیں۔

بقول اُن کے، ’’یہ کام میرے دل کے بہت قریب ہے، اور میں اپنی شہرت کا فائدہ لیتے ہوئے مخیر حضرات کو کار خیر میں حصہ ڈالنے کا کہتا رہتا ہوں۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ لوگ میرا کہا مان کر مجھے احسانمند ہونے کا موقع دیتے ہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG