رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر: جھڑپ میں داعش کے چار مشتبہ جنگجو ہلاک


فائل

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوج نے مظاہرین پر گولی چلادی جس سے کئی افراد زخمی ہوگئے۔ دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شہری حفاظتی دستوں اور عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والی فائرنگ کی زد میں آگئے

بھارتی عہدیداروں نے جمعے کو دعویٰ کیا کہ حفاظتی دستوں نے ایک جھڑپ کے دوران چار ایسے عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے جن کے بارے میں، ان کا خیال ہے کہ وہ داعش سے وابستہ تھے۔

یہ جھڑپ نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع اننت ناگ کے سِرہامہ سِری گفوارہ علاقے میں پیش آئی۔ جھڑپ کے دوران، جیسا کہ عہدیداروں نے کہا ہے، ایک پولیس اہلکار اور ایک عام شہری بھی ہلاک ہوگئے۔

جھڑپ کے دوران ہی علاقے میں لوگوں نے سڑکوں پر آکر فوج کے خلاف اور عسکریت پسندوں کے حق میں مظاہرے کئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوج نے مظاہرین پر گولی چلادی جس سے کئی افراد زخمی ہوگئے۔ دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شہری حفاظتی دستوں اور عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والی فائرنگ کی زد میں آگئے۔

پولیس سربراہ شیش پال وید نے عسکریت پسندوں کی ہلاکت کو حفاظتی دستوں کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی میں حصہ لینے والے حٖفاظتی دستوں کے ایک افسر کا یہ دعویٰ صحیح ہے کہ مارے گئے چاروں مسلح افراد کا تعلق داعش سے تھا اور ان میں تنظیم کا مقامی سربراہ داؤد احمد صوفی عرف داؤد سلفی بھی شامل ہے تو انہوں نے کہا،"وہ اسلامک اسٹیٹ کے نظریے سے آن لائین متاثر ہوئے تھے"۔

اس سے پہلے پولیس سربراہ پال نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ "مارے جانے والے دہشت گردوں کا تعلق مبینہ طور پر اسلامک اسٹیٹ جموں کشمیر سے ہے"۔

خیال رہے کہ بھارتی عہدیدار اس سے پہلے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں داعش کی موجودگی سے انکار کرتے رہے ہیں۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ اس سلسلے میں بعض لوگوں کی طرف سے کئے جانے والے دعوے بے بنیاد ہیں یا مبالغہ آمیز ہیں۔

اُدھر جنوبی کشمیر ہی کے ترال قصبے میں ایک بھارت مخالف مظاہرے کے دوران مشتبہ عسکریت پسندوں کی طرف سے چھپ کر کئے گئے ایک حملے میں مقامی پولیس اور بھارت کے وفاقی پولیس فورس سی آر پی ایف کے آٹھ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ جمعہ کہ سہ پہر پیش آئے واقعے میں حملہ آوروں نے پولیس کی ایک پارٹی پر جو امن و امان بحال کرنے کو کوشش کر رہی تھی دستی بم پھینکا اور پھر خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔

عسکری تنظیم حزبِ المجاہدین نے حملہ کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہےاور کہا کہ ’’پولیس پر اس لئے یہ حملہ کیا گیا کیونکہ وہ مقامی لوگوں پر مظالم ڈھا رہی تھی‘‘۔

اس دوران بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کے دو سرکردہ لیڈروں کے حالیہ بیانات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی سے وضاحت طلب کی ہے۔

کانگریس پارٹی کے ایک سینئر لیڈر اور سابق وفاقی وزیر غلام نبی آزاد نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ کشمیر میں فوج کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں میں عسکریت پسندوں سے زیادہ عام شہری مارے جاتے ہیں۔

آزاد کے اس بیان پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے ایک سرکردہ لیڈر اور وفاقی وزیرِ قانون و انصاف روی شنکر پرساد نے کہا ہے کہ یہ بیان "غیر ذمہ دارانہ، شرمناک اور افسوسناک" ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی قیادت کو یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ وہ آزاد کے خلاف کیا کارروائی کرنے جارہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ چونکا دینے والی بات ہے کہ اس طرح کا بیان ایک ایسے شخص کی طرف سے آیا ہے جو جموں و کشمیر کا وزیرِ اعلیٰ رہ چکا ہے اور ریاست میں پاکستان کی طرف سے جاری مِلی ٹنسی کے ظالمانہ چہرے کا گواہ ہے"۔

بی جے پی کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک اور سرکردہ لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز کے اس بیان پر سیخ پا ہے کہ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے یہ صحیح کہا تھا کہ کشمیری عوام پاکستان میں شامل ہونے پر ایک آزاد اور خود مختار کشمیر کو ترجیح دیںگے۔ بھارت کے ایک خبر رساں ادارے نے سوز سے یہ بیان منسوب کیا تھا۔ بقول اُن کے، "مشرف نے کہا تھا کہ کشمیری پاکستان میں ضم نہیں ہونا چاہتے۔ ان کی پہلی پسند آزاد اور خود مختار کشمیر ہوگی۔ ان کا یہ بیان صحیح تھا اور آج بھی یہی سچ ہے۔ میں بھی یہی کہتا ہوں۔ لیکن مجھے یہ معلوم ہے کہ یہ ممکن نہیں۔"

سوز کے بیان پر اپنے ردِعمل میں بی جے پی کے ترجمان سمیت پاترا نے کہا: "افسوس بھارت کے باہر ایک پاکستان ہے اور کانگریس کے اندر ایک پاکستان ہے"۔

سرینگر میں سکیورٹی فررسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:00 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG