رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیر میں پابندیاں جاری، جموں سے اٹھا لی گئیں


ایک سیکورٹی اہل کار سری نگر میں ایک کشمیری نوجوان کا بیگ چیک کر رہا ہے۔ 8 اگست 2019

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروسز اور نیوز چینلز پر عائد پابندیاں اب بھی جاری ہیں، البتہ جموں سے انہیں اٹھا لیا گیا ہے۔ پولیس کے ایک اعلیٰ اہل کار کے مطابق جموں اور کشمیر میں صورت حال قابو میں ہے۔

کشمیر پولیس کے ایک سینئر عہدے دار منیر خان نے بدھ کے روز سری نگر میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ سری نگر کے بعض مقامات پر یہ پابندیاں مزید کچھ دنوں تک برقرار رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیلیٹ گن یا چھرے والی بندوقوں سے چند افراد زخمی ہوئے ہیں جن کا علاج کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق اس وقت اصل توجہ اس بات پر ہے کہ ریاست میں یوم آزادی کے پرامن انعقاد کو یقینی بنایا جائے۔

انتظامیہ نے ایک روز قبل کہا تھا کہ پابندیاں بتدریج ہٹائی جائیں گی۔ اس نے یہ کہتے ہوئے پابندیوں کو حق بجانب قرار دیا تھا کہ ہلاکتوں پر پابندیوں کو ترجیح دی گئی ہے۔

حکومت کا الزام ہے کہ بعض حلقوں سے کشمیر کے بارے میں غلط اطلاعات اور افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔

اس پر کانگریس پارٹی نے صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے وادی میں ایک کل جماعتی وفد بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سینئر کانگریس رہنما آنند شرما نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ حکومت غلط اطلاعات اور افواہوں کی شکایت کر رہی ہے۔ اس کا بہترین جواب یہ ہے کہ ایک کل جماعتی وفد کو کشمیر جانے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کو بھی اس وفد میں شامل کیا جائے۔ یہ وفد عوام سے مل کر دنیا کو سچائی بتائے۔

کانگریس رہنما راہول گاندھی نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک سے پوچھا ہے کہ وہ وادی کا غیر مشروط دورہ کب کر سکتے ہیں۔

ایک روز قبل گورنر نے راہول گاندھی سے کہا تھا کہ وہ ان کے لیے طیارہ بھیج رہے ہیں۔ وہ یہاں آ کر حالات کا بچشم خود مشاہدہ کر لیں۔

اس پر راہول کا کہنا تھا کہ انہیں طیارے کی نہیں البتہ آزادانہ دورے کی اجازت درکار ہے۔

دریں اثنا کشمیر کے سابق آئی اے ایس افسر اور ایک سیاسی جماعت جے کے پیپلز موومنٹ کے رہنما شاہ فیصل کو بدھ کے روز نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حراست میں لے لیا گیا۔

وہ سری نگر سے دہلی آئے تھے اور انہیں استنبول جانا تھا، مگر انہیں واپس کشمیر بھیج دیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG