رسائی کے لنکس

فوجی کے گھر والوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ جمعہ کی شام اپنی نجی کار میں کہیں چلا گیا تھا لیکن واپس نہیں لوٹا۔ یہ کار اُس جگہ سے تقریبا" ایک میل دور پائی گئی جہاں فوجی کی لاش ہفتے کی صبح ملی تھی۔

یوسف جمیل

نئی دہلی کے زیرِ اتنظام کشمیر کی پولیس نے ہفتے کو بتایا کہ شورش زدہ ریاست کے جنوبی ضلع شوپیان میں ایک ایسے فوجی کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی ہے جو چھٹیوں پر گھر آیا ہوا تھا۔

پولیس کو مقامی لوگوں نے فون پر اطلاع دی تھی کہ شوپیان کے وتھ مولہ ناڑ نامی گاؤں کی ایک ویران جگہ پر روایتی لباس پھرن میں ملبوس کسی نوجوان کی لاش پڑی ہے۔ پولیس نے لاش قبضے میں لے لی اور ابتدائی تحقیقات کے دوراں اسے پتہ چلا کہ یہ ایک قریبی دیہات کے رہنے والے 23 سالہ عرفان احمد ڈار کی ہےجو بھارتی فوج کی انجینئرنگ رجمنٹ کا سپاہی ہے ۔

ڈار کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے زیرِ انتظام حصوں میں تقسیم کرنے والی حد بندی لائن کے گریز سیکٹر میں تعینات تھا اور کچھ دن پہلے چھٹیوں پر گھر آیا تھا۔

شوپیان کے ایک سینئیر پولیس افسر امبارکر سری رام نے بتایا کہ لگتا ہے فوجی کو عسکریت پسندوں نے اغوا کرنے کے بعد موت کے گھاٹ اتاردیا۔

فوجی کے گھر والوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ جمعہ کی شام اپنی نجی کار میں کہیں چلا گیا تھا لیکن واپس نہیں لوٹا۔ یہ کار اُس جگہ سے تقریبا" ایک میل دور پائی گئی جہاں فوجی کی لاش ہفتے کی صبح ملی تھی۔ تا حال متنازعہ کشمیر کے بھارتی علاقے میں سرگرم عسکری تنظیموں میں سے کسی نے بھی فوجی کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

یہ نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ سات ماہ کے دوراں پیش آنے والا اپنی نوعیت کا چھٹا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے بھارتی فوج اور سرحدی حفاظتی دستے یا بارڈر سیکیورٹی فورس کے ایک ایک افسر اور مقامی پولیس کے تین اہلکاروں کو مشتبہ عسکریت پسندوں نے ان کی طرف سے آبائی گھروں میں چھٹیاں گزارنے کے دوراں ہلاک کیا تھا۔

تازہ واقعے میں فوجی کو ہلاک کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا- " شوپیان میں ٹیریٹوریل آرمی کے ایک بہادر سپاہی عرفان احمد کو قتل کرنے کی میں پرزور مذمت کرتی ہوں۔ اس طرح کی گھناونی حرکتیں وادئ کشمیر میں امن بحال کرنے اور معمول کے حالات واپس لانے کے ہمارے عزم کو کمزور نہیں کرسکتیں"۔

اس دوراں دارالحکومت سرینگر میں ایک پُرتشدد مظاہرے میں حفاظتی دستوں کی طرف سے کی گئی پیلٹ فائرنگ میں ایک طالبعلم زاہد احمد شدید طور پر زخمی ہوگیا – زاہد کے والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایک امتحانی مرکز سے گھر لوٹ رہا تھا کہ بھارتی حفاظتی دستوں نے اُسے سرینگر کے نوا کدل علاقے میں بلا وجہ ہدف بنایا اور پھر اُسے خون میں لت پت سڑک پر بے یارو مددگار چھوڑ دیا۔

یہ واقعہ ایک ایسے موقعے پر پیش آیا ہے جب نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں مظاہرین اور پتھراؤ کرنے والے نوجوانوں پر حفاظتی دستوں کی طرف سے چھرے استعمال کرنے پر مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے جس کی تائید انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی کی ہے۔ کیونکہ چھرے والی بندوقوں کے استعمال کے نتیجے میں کئی افراد کی جانیں چلی گئی ہیں اور سینکڑوں نوجوان اپنی بینائی سے محروم ہوگئے ہیں۔

انسانی حقوق سے متعلق ریاستی کمیشن کو حکومت کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پیلٹ گن کے استعمال کے نتیجے میں 1725 افراد متاثر ہوئے ہیں – جزوی یا مکمل طور پر معذور ہونے والوں میں 54 خواتین اور نوجوان لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ تاہم حقوقِ بشر کےمقامی کارکنوں کا اصرار ہے کہ پیلٹ فائرنگ سے اڑھائی سے تین ہزار تک لوگوں کو جسمانی گزند پہنچی ہے اور ان میں وہ چار سو سے زائد نوجوان بھی شامل ہیں جن کی بینائی متاثر ہوئی ہے

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG