رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کی کوششیں

  • یوسف جمیل

سری نگر، بھارت کے نیم فوجی سپاہی (فائل)

بی جے پی کے ترجمان، وریندر گپتا نے جمعہ کو بتایا کی آئینِ ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو ختم کرنے کا وقت آگیا ہے، کیونکہ، اُن کے بقول، '' یہ دفعات علیحدگی کی نفسیات اور سوچ کو پروان چڑھانے کا موجب بنی ہیں''

کشمیری سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں کی یہ یکساں رائے ہے کی آئینِ ہند میں متنازعہ فیہہ ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف مہم کا مقصد مسلم اکشریتی علاقے کی آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لئے راستہ ہموار کرنا ہے، اور یہ کہ، یہ کوشش سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے کی جا رہی ہے۔

ان کا الزام ہے کہ اس کے پیچھے قدامت پسند ہندو تنظیم 'راشٹریہ سوئیم سیوک سنگھ' (آر ایس ایس) کی مسلم دشمن سوچ کار فرما ہے۔ آر ایس ایس اس الزام کی سختی کے ساتھ تردید کرتی ہے۔ لیکن، اس سے منسلک سیاسی جماعتیں جن میں بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پیش پیش ہے، برملا طور پر اور غیر مبہم الفاظ میں آئینِ ہند کی اُن دفعات کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں جن کے تحت، ریاست کو بھارت میں امتیازی اور آئینی ضمانتیں دی گئی ہیں۔

بی جے پی کے ترجمان، وریندر گپتا نے جمعہ کو بتایا کی آئینِ ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو ختم کرنے کا وقت آگیا ہے، کیونکہ، اُن کے بقول، '' یہ دفعات علیحدگی کی نفسیات اور سوچ کو پروان چڑھانے کا موجب بنی ہیں''۔

دفعہ 370 کے تحت کشمیر کو بھارتی یونین میں خصوصی پوزیشن حاصل ہے جبکہ دفعہ 35 اے کے تحت ریاست کی قانون سازیہ کو اس کے اصل باشندوں کی تعریف کرنے اور ان کے لئے خصوصی حقوق اور استحقاق کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ آر ایس ایس کی پشت پناہی میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم 'وی دی سٹیزنز' نے دفعہ 35 اے کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلینج کیا ہے اور کشمیر میں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ اس آئینی ضمانت کو منسوخ کر سکتی ہے۔ عدالت میں دفعہ 370 کے خلاف بھی ایک عرضداشت زیرِ سماعت ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دفعہ 35 اے منسوخ کی جاتی ہے تو اس سے منقسم ریاست کے دونوں حصوں میں 1927 سے نافذ اسٹیٹ سبجکٹ لاء غیر متعلقہ بن سکتا ہے جس کے تحت ریاست میں غیر منقولہ جائیداد بیچنے اور خریدنے کا حق صرف اس کے پشتنی باشندوں کو حاصل ہے۔

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں بی جے پی اور اس کی اتحادی تنظیموں کو چھوڑ کر تمام سیاسی، سماجی، مذہبی اور تجارتی جماعتیں اور انجمنیں جن میں وکلاء کی تنظیم کشمیر بار ایسوسی ایشن بھی شامل ہیں ان آئینی دفعات کے دفاع میں متحد ہوگئی ہیں۔ یہاں تک کہ استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتیں بھی جو آئینِ ہند کو نہیں مانتیں دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے حق میں سرگرم ہوگئی ہیں۔ سرکردہ آزادی پسند راہنماؤں سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل اتحاد کی اپیل پر سنیچر کو خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف ہڑتال کی گئی جس سے وادئ کشمیر اور جموں خطے کی مسلم اکثریتی چناب وادی میں کاروبارِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔

صوبائی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کو نئی دہلی میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد کہا تھا کی انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ ریاست کو بھارت کے آئین میں جو امتیازی اور آئینی ضمانتیں دی گئی ہیں اُن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی۔ واضح رہے کہ ریاست میں نریندر مودی کی بی جے پی اور محبوبہ مفتی کی علاقائی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی مخلوط حکومت ہے اور وزیرِ اعلیٰ نے حلیف جماعت کو یاد دہانی کرائی ہے کہ ان کے درمیان 2015 میں طے پائے سمجھوتے میں یہ بات درج ہے کہ ریاست کی خصوصی آئینی پوزیشن کو جوں کا توں رکھا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG