رسائی کے لنکس

بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں 15 سالہ لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی، 32 ملزمان گرفتار


جمعے تک پولیس نے 32 ملزمان کو حراست میں لینے کی تصدیق کی جب کہ زیرِ حراست افراد میں 18 سال سے کم عمر کے دو ملزمان بھی شامل ہیں۔ (فائل فوٹو)

بھارت کی ریاست مہاراشٹرا کے شہر دومبیولی میں پولیس نے 15 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے الزام میں 33 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

جمعے تک پولیس نے 32 ملزمان کو حراست میں لینے کی تصدیق کی جب کہ زیرِ حراست افراد میں 18 سال سے کم عمر کے دو ملزمان بھی شامل ہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق پولیس کی تشکیل کردہ چار ٹیمیں دیگر ملزمان کی تلاش میں مصروف ہیں۔

پولیس کے مطابق زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی دومبیولی اسکول میں نہم جماعت کی طالبہ ہے۔ جو والدین کے ساتھ مشرقی دومبیولی میں رہتی ہے ان کی ایک نو سالہ بہن بھی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد مقامی کیمیکل کمپنی میں کام کرتے ہیں۔

لڑکی نے پولیس کو دیے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ اس کو دسمبر 2020 میں ایک دوست نے اجتماعی زیادتی کے مقدمے کے مرکزی ملزم وجے فوکے سے متعارف کرایا تھا اور دونوں نے ایک دوسرے سے فون نمبر کا تبادلہ کیا تھا۔ بعد ازاں دونوں کے درمیان فون پر گفتگو کا آغاز ہوا۔

بھارتی اخبار 'دی ہندوستان ٹائمز' کے مطابق لڑکی کی طرف سے رواں ہفتے بدھ کو درج کرائے گئے مقدمے میں کہا گیا کہ اسے رواں سال 29 جنوری سے 22 ستمبر کے درمیان مختلف مقامات پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

مقدمے کے مطابق لڑکی کا کہنا ہے کہ جس شخص کے ساتھ اس کی دوستی تھی اس نے اسے دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے اس کے دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم نہ کیے تو وہ اس کی ذاتی نامناسب ویڈیوز لیک کر دے گا اور وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو جائیں گی۔

پولیس کے ڈپٹی کمشنر سچن گنجال کا کہنا ہے کہ پولیس نے بیشتر ملزمان گرفتار کر لیے ہیں گرفتار ملزمان کی تعداد 32 ہو گئی ہے جب کہ پولیس کمشنر کے بقول ایک فرار ملزم کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

بھارتی نشریاتی ادارے 'ٹائمز ناؤ' کے مطابق دو کم عمر ملزمان کو بھوانڈی کے ریمانڈ ہاؤس میں منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ باقی ملزمان کا 29 ستمبر تک ریمانڈ لیا گیا ہے۔

زیادتی کا سلسلہ کب شروع ہوا؟

لڑکی کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ اسے وجے فوکے کی 29 جنوری کی صبح کال موصول ہوئی جس میں اسے قریب ہی واقع ایک کھلے مقام پر ملنے کا کہا گیا۔

بیان کے مطابق فوکے لڑکی کو آٹو رکشہ پر اپنے دوست کے گھر لے گیا۔ جہاں لڑکی کو اس کی جعلی برہنہ تصویر دکھائی گئیں اور اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔

لڑکی کا کہنا ہے کہ جس وقت اس کے ساتھ زیادتی کی گئی اس وقت فلیٹ میں موجود تشر کسبے نامی ایک اور شخص نے اس فعل کو فلم بند کیا جس کے بعد لڑکی کو یہ ویڈیو دکھا کر ہراساں کیا جانے لگا۔ اس کے بعد تشر کسبے، چیتن راٹھور اور بھویش ماسکے نے بھی لڑکی کے ساتھ زیادتی کی۔

اس طرح سے لڑکی کے ساتھ زیادتی کا سلسلہ جاری رہا۔

ملزم کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کی کوشش ناکام

لڑکی سے ہونے والی زیادتی کا جب خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم ایک خاتون کو پتا چلا تو اس نے لڑکی سے کہا کہ وہ ملزم سے ایک بار پھر ملے تا کہ اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا جا سکے۔

اسی لیے لڑکی 22 ستمبر کو ایک بار پھر ملزم سے ملی اور لڑکی کو بدلہ پور لے جایا گیا۔ جہاں اس کے ساتھ ایک بار پھر مبینہ زیادتی کی گئی۔ تاہم جس آٹو رکشہ پر خواتین کے لیے سرگرم خاتون رہنما ان کا پیچھا کر رہی تھی وہ ان کا پیچھا کرنے میں ناکام رہیں اور لڑکی کو زیادتی سے نہ بچایا جا سکا۔

بدلا پور میں لڑکی کے ساتھ سات افراد نے مبینہ اجتماعی زیادتی کی۔ تاہم اس واقعے کے بعد پولیس میں مقدمہ درج کیا۔

بھارت: کیا جنسی درندگی کو روکنا ممکن ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:23 0:00

پولیس کی اسسٹنٹ کمشنر سونالی ڈولے کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران انہیں پتا چلا کہ اس جرم میں 33 ملزمان شریک ہیں جن کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

کابینہ کے وزیر اسلم شیخ، جنہوں نے پولیس اسٹیشن کا دورہ بھی کیا، کا کہنا ہے کہ وہ اس چیز کو یقینی بنائیں گے کہ مقدمے کی تحقیقات کرنے والے پولیس افسر پر کسی قسم کا سیاسی دباؤ نہ ڈالا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG