رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: خواتین کو ہراساں کرنے کی روک تھام کا قانون کتنا مؤثر؟


ممبئی شہر میں مظاہرین ریپ کی شکار خواتین کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے۔ (فائل فوٹو)

خواتین کو کام کی جگہوں پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کا نظامِ انصاف سے گہرا تعلق ہے۔ جہاں انصاف کے حصول میں تاخیر ہوتی ہے اور شنوائی میں برسوں لگ جاتے ہیں، وہاں خواتین ہراساں کیے جانے کی شکایات سامنے لانے سے اجتناب کرتی ہیں اور ان واقعات کا سلسلہ دراز ہوتا چلا جاتا ہے۔ بھارت میں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

فرانس کے سرکاری تحویل میں چلنے والے نیوز چینل 'فرانس 24' کا کہنا ہے کہ بھارت میں کچھ برس پہلے 'پوش ایکٹ' تشکیل دیا گیا تھا تاکہ ملازمت کے دوران اور ملازمت کی جگہ پر خواتین سے جنسی ہراسانی کے معاملات سے نمٹا جا سکے۔ تاہم یہ ایکٹ ابھی تک پوری طرح سے نافذ العمل نہیں ہوا ہے۔

سن 2013 میں متعارف کرایا گیا 'پوش ایکٹ' اس لیے لایا گیا تھا تاکہ ملازمت کے جگہوں پر خواتین کو جنسی ہراساں کیے جانے کے واقعات سے بچایا جائے اور ان میں تحفظ کا احساس پیدا کیا جائے۔

خواتین کو ملازمت کی جگہوں پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کی روک تھام سے متعلق یہ بھارت کا پہلا ایسا قانون ہے جس میں خواتین کو عدالتوں میں جانے کی بجائے ایک متبادل نظام فراہم کیا گیا ہے۔

جنوبی ایشیا کے لیے ہیومن رائٹس واچ کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی کا کہنا ہے کہ پوش ایکٹ کی تشکیل، خواتین کو عدالتوں کے متبادل نظام انصاف فراہم کرنے کے لیے ہوئی۔

وہ کہتی ہیں کہ لوگوں کی اکثریت پولیس یا کچہری کے چکر میں پڑنے سے گریز کرتی ہے کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے معاملے کے حل میں برسوں لگ جائیں گے۔ اس لیے یہ تاخیر لوگوں کے لیے ہمیشہ سے ایک رکاوٹ رہی ہے۔

نئی دیلی میں جنسی زیادتی کے خلاف خواتین کا مظاہرہ۔
نئی دیلی میں جنسی زیادتی کے خلاف خواتین کا مظاہرہ۔

کاروباری اداروں کی مدد کے لیے ممبئی میں قائم ایک کنسلٹنسی کمپنی 'کمپلائی کرو' کے بانی وشال کیڈیا کہتے ہیں کہ آجروں کو اس نئے قانون سے ہم آہنگ ہونے اور مطابقت پیدا کرنے میں وقت لگ رہا ہے۔

کمپلائی کرو کے مطابق سن 2015 سے سن 2019 کے درمیان ممبئی اسٹاک ایکسچینج میں درج 40 فی صد کمپنیوں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس جنسی ہراساں کیے جانے کی کوئی شکایت درج نہیں کی گئی۔

کیڈیا کہتے ہیں کہ شاید وہ لوگوں کا آگاہی نہیں دے پا رہے جس کی وجہ سے شکایت کرنے کے بارے میں خوف پایا جاتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے تین بھارتی صوبوں میں کارکنوں، یونین عہدیداروں، وکلا اور دانشوروں سے انٹرویوز کرنے کے بعد کہا ہے کہ تھانے کچہری میں ہونے والی تاخیر اور دیگر پیچیدگیوں سے خواتین کو بچانے کے لیے متعارف کرائے گئے متبادل ایکٹ سے صورتِ حال میں بہتری آنے کی بجائے مزید خرابی پیدا ہوئی ہے۔

جنسی ہراسانی کے مقدمات پر کام کرنے والی دہلی کی ایک وکیل سنیتا اوجھا کہتی ہیں کہ بہت سی جگہوں پر یا تو سرے سے کمیٹیاں ہی موجود نہیں ہیں یا اگر بنائی بھی گئی ہیں تو ادارے میں کام کرنے والوں کو بتایا ہی نہیں گیا۔ یا پھر انہیں اس بارے میں کوئی تربیت نہیں دی گئی جس کی وجہ اس نئے ایکٹ کے مؤثر ہونے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG