رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی حملہ ایک خطرناک پیش رفت: امریکی تجزیہ کار


بالا کوٹ

موجودہ صورتحال میں امریکہ کے کردار کے بارے میں گوپال سوامی کہتے ہیں کہ دور رہتے ہوئے امریکہ کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہئے، تاکہ کشیدگی کی سطح کو نیچے لایا جا سکے، کیونکہ، ان کی نظر میں، پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ جنوبی ایشیا میں امریکی مفادات کے لئے بھی نقصان دہ ہے

بھارت نے منگل کے روز علی الصبح پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے بھی آگے تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستان کے صوبہٴ خیبر پختونخواہ کے ایک رہائشی علاقے بالاکوٹ میں جیش محمد کے مبینہ ٹھکانے پر فضائی حملے کا دعویٰ کیا ہے۔

ان حملوں میں بھارت نے جیش محمد کے کئی دہشتگردوں کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے، جبکہ پاکستان اس کی تردید کرتا ہے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ بھارت کو ان حملوں کا جواب دینے کا فیصلہ محفوظ رکھتا ہے۔

پلوامہ حملے کے بعد کالعدم دہشتگرد تنظیم، جیش محمد نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں دہشتگرد حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس کے مبینہ ٹرینگ کیمپس پاکستان میں بھی ہیں۔

امریکہ میں قائم مختلف تھنک ٹینک سے وابستہ تجزیہ کار بھارت کی جانب سے ان حملوں کو ’’ایک خطرناک پیش رفت‘‘ قرار دیتے ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی کے تھنک ٹینک، ’کونسل آن فارن ریلیشنز‘ کی ایلیسا ایئرز کہتی ہیں کہ ’’ایسے میں جب پاکستان بھی جوابی کارروائی کی دھمکیاں دے رہا ہے، صورتحال انتہائی تشویشناک رخ اختیار کر چکی ہے‘‘۔

انھوں نے کہا ہے کہ ’’اس وقت امریکہ سمیت عالمی برادری کو آگے بڑھنے اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ حالات مزید کشیدہ نہ ہوں‘‘۔

ایلیسا ایئرز کہتی ہیں کہ ’’یہ کشیدگی صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ تناؤ بڑھنے کی صورت میں اس کے اثرات پورے خطے اور خاص طور پر افغانستان میں قیام امن کے لئے جاری کوششو ں پر پڑیں گے‘‘۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت طالبان اور امریکہ کے مابین امن مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور مشرقی سرحد پر کشیدگی بڑھنے کی صورت میں پاکستان ان مذاکرات کو شاید وہ توجہ نہ دے سکے جو وہ اسوقت دے رہا ہے۔ بلکہ، ان کے بقول، ’’اب تک ہونے والی پیش رفت پلٹ کر وہیں جا پہنچے گی جہاں سے یہ شروع ہوئی تھی‘‘۔

پاک بھارت کشیدگی کم کرنے میں امریکہ کے کردار سے متعلق صدر ٹرمپ اور نیشنل سکیورٹی کے ایڈوائزر، جان بولٹن کی طرف سے اب تک آنے والے بیانات کے بارے میں، ایلیسا ایئرز کہتی ہیں کہ ’’امریکی عہدیداروں نے صحیح اندازہ لگایا ہے کہ حالیہ تنازعے کا آغاز پاکستان سے ہوا ہے‘‘ اور یہ کہ ’’پاکستان کو اپنی سرزمیں پر موجود انتہا پسندوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرنی چاہئیے‘‘۔

ایک اور امریکی تھنک ٹینک، ’ایٹلانٹک کونسل‘ میں جنوبی ایشیا کے امور کے ایک ماہر، گوپالا سوامی کہتے ہیں کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارت میں عوامی جذبات کو ٹھنڈا کرنے اور آئندہ انتخابات سے پہلے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے بھارت نے پاکستان کے اندر یہ فضائی کارروائی کرنی تھی‘‘۔

تاہم، وہ کہتے ہیں کہ ’’پلوامہ حملوں میں اگر واقعی پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ تھا، تو یہ کارروائی ان کے لیے بھی ایک سخت پیغام ہے‘‘۔

پاک بھارت تناؤ کے خطے پر اثرات کے بارے میں گوپال سوامی کا کہنا تھا کہ پاک بھارت تعلقات کا افغانستان کی سیکورٹی صورتحال سے براہ راست تعلق ہے، کیونکہ دونوں ملک افغانستان کی سرزمین ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر چکے ہیں اور اگر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو افغانستان کے لئے قیام امن کی جاری کوششیں متاثر ہونگی۔

موجودہ صورتحال میں امریکہ کے کردار کے بارے میں گوپالا سوامی کہتے ہیں کہ دور رہتے ہوئے امریکہ کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ کشیدگی کی سطح کو نیچے لایا جا سکے، کیونکہ، ان کی نظر میں، پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ جنوبی ایشیا میں امریکی مفادات کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG