رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کا بھارت پر فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام


بھارتی فضائیہ کے طیارے ایک فلائی پاسٹ میں شریک ہیں۔ (فائل)

پاکستان کی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارت کے طیاروں نے اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارتی طیاروں نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مظفر آباد سیکٹر میں لائن آف کنٹرول عبور کی اور تین سے چار میل تک اندر آئے۔

منگل کی صبح اپنے ٹوئٹس میں فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ بھارتی طیارے پاک فضائیہ کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں فوراً ہی واپس چلے گئے۔

ترجمان نے کہا کہ بھارتی طیاروں نے واپس جاتے وقت جلدی میں اپنا پے لوڈ (طیاروں پر موجود گولہ بارود) بھی گرادیا جو بالاکوٹ کے نزدیک ایک کھلے علاقے میں گرا ہے۔

فوجی ترجمان نے اس مقام کی تصاویر بھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کی ہیں جہاں ان کے مطابق بھارتی طیاروں کا 'پے لوڈ' گرا۔

ترجمان نے کہا ہے کہ واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کسی عمارت کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اپنے دفاع میں جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔

ذرائع ابلاغ کو جاری کیے جانے والے ایک ویڈیو بیان میں وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے صورتِ حال پر غور کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا ہے جس میں صورتِ حال پر غور کیا جائے گا۔

ادھر، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھارت کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی مذمت کی ہے، جبکہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط لکھا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے دفاع میں مناسب کارروائی کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیتا ہوں کہ بھارتی جارحانہ اقدامات کو فوری رکوایا جائے۔‘‘

وزیر خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے بھی رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت کی اس جارحیت سے افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے کی جانے والی مشترکہ کاوشیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ بھارت کی جانب سے او آئی سی کے بانی میمبر پاکستان کے خلاف ایکشن کی مذمت کرتے ہیں۔

او آئی سی نے کہا ہے کہ ’’ہم بھارت کی جانب سے پاکستانی حدود میں 4 بم پھینکنے کی مذمت کرتے ہیں۔ اس موقع پر پاکستان اور بھارت تحمل سے کام لیں اور خطے کا امن خراب کرنے والے اقدامات اٹھانے سے گریز کریں‘‘۔

اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے مزید کہا گیا کہ ’’دونوں فریق ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے موجودہ صورت حال کو طاقت کے استعمال کے بغیر ہی پرامن مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کی کوشش کریں اور ترجیحی بنیادوں پر ڈائیلاگ کے ذریعے موجودہ تلخی کو کم کرنے کی کوشش کریں۔‘‘

بھارت کا دہشت گردوں کے کیمپ تباہ کرنے کا دعویٰ

بھارت کی حکومت نے تاحال پاکستان کے الزامات پر کوئی باضابطہ ردِ عمل نہیں دیا ہے۔

لیکن بھارتی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دہشت گردوں کے اہم تربیتی کیمپس پر بمباری کرکے انہیں تباہ کردیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے 'اے این آئی' کے مطابق اسے بھارتی فضائی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ کارروائی میں میراج 2000 ساخت کے 12 طیاروں نے حصہ لیا جنہوں نے لائن آف کنٹرول کے پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر 1000 کلو گرام بم گرائے اور انہیں مکمل طور پر تباہ کردیا۔

بھارتی ذرائع کے مطابق حملہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ساڑھے تین بجے کے لگ بھگ کیا گیا۔

پاکستانی دعوے پر سوالات

تاہم پاکستانی ٹی وی چینلز پر بعض تجزیہ کاروں نے پاکستانی فوج کے ترجمان کے بیان پر سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ بالاکوٹ کا علاقہ پاکستان کے ضلع مانسہرہ میں واقع ہے جو کنٹرول لائن سے بہت دور ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بھارتی طیارے کنٹرول لائن پار کرکے صرف تین سے چار میل تک اندر آئے تو ان کا 'پے لوڈ' پاکستان کے علاقے بالاکوٹ میں کیسے گر؟

مظفر آباد سے وائس آف امریکہ کے نمائندے روشن مغل کے مطابق انہیں لائن آف کنٹرول کے نزدیک چکوٹھی کے قصبے کے رہائشیوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے رات تین بجے کے قریب کئی طیاروں کے گزرنے کی زوردار آوازیں سنی تھیں جو نچلی پرواز کر رہے تھے۔

روشن مغل کے مطابق عینی شاہدین کے بیانات سے بظاہر لگتا ہے کہ بھارتی طیاروں نے چکوٹھی کے نزدیک سے لائن آف کنٹرول پار کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ چکوٹھی سے مظفر آباد بذریعہ سڑک 55 کلومیٹر دور ہے جب کہ بالا کوٹ اس سے مزید 45 کلومیٹر آگے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بالاکوٹ نام کا ایک گاؤں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عین لائن آف کنٹرول پر بھی واقع ہے لیکن وہ مظفر آباد سے کم از کم 200 کلومیٹر دور نکیال سیکٹر میں ہے۔

پلوامہ حملے کے بعد کشیدگی

بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے پار کارروائی کا دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہے۔

لگ بھگ دو ہفتے قبل بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارت کی وفاقی پولیس کے ایک قافلے پر خودکش حملے میں 49 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

حملے کی ذمہ داری بھارتی کشمیر میں سرگرم مسلح تنظیم جیشِ محمد نے قبول کی تھی جس کے سربراہ مولانا مسعود اظہر پاکستانی ہیں۔

بھارت نے حملے کی ذمہ داری براہِ راست پاکستان پر عائد کرتے ہوئے اسے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ پاکستان اس الزام کی تردید کرچکا ہے اور اس نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG