رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا: لومبوک میں زلزلے سے ہلاکتیں 98 سے زائد ہو گئیں


زلزلے سے شدید متاثرہ علاقوں سے جانی اور مالی نقصان کی تفصیلات تاحال موصول ہو رہی ہیں جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

انڈونیشیا کے معروف سیاحتی جزیرے لومبوک پر اتوار کو آنے والے شدید زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 98 ہوگئی ہے جب کہ جزیرے پر املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

اس زلزلے کے بعد اس تفریحی جزیرے پر موجود ایک ہزار سے زائد غیر ملکی سیاحیوں کو بحفاظت باہر نکانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ زلزلے میں ہلاکتوں کے علاوہ 200 سے زائد شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔

امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 9ء6 ریکارڈ کی گئی تھی جس کا مرکز لومبوک کے شمالی علاقے میں ساڑھے 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔

زلزلے کے جھٹکے نزدیکی جزیروں بالی، سمباوا اور مشرقی جاوا کے بعض حصوں تک محسوس کیے گئے تھے۔

انڈونیشیا میں قدرتی آفات سے نبٹنے کے ادارے کے ترجمان سوٹوپو پوروو نگروہو نے پیر کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ اب تک 91 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جن میں سے بیشتر ہلاکتیں جزیرے کے شمالی حصے میں ہوئیں جو زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ زلزلے سے شدید متاثرہ علاقوں سے جانی اور مالی نقصان کی تفصیلات تاحال موصول ہو رہی ہیں جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ زلزلے سے جزیرے کا شمالی حصہ بری طرح متاثر ہوا ہے جہاں ہزاروں عمارتیں منہدم یا بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

زلزلے کے بعد سے وہاں موجود ہزاروں غیر ملکی سیاحوں کا انخلا شروع ہوگیا ہے۔ حکام کے مطابق تاحال ہلاک ہونے والوں میں کسی غیر ملکی کے شامل ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

زلزلے کے بعد لومبوک کے بعض علاقوں میں بجلی کی ترسیل اور کمیونی کیشن کا نظام منقطع ہوگیا ہے۔ علاقے میں امدادی کارروائیوں کے لیے فوج طلب کرلی گئی ہے۔

ایک ہفتے کے دوران لومبوک میں آنے والا یہ دوسرا زلزلہ تھا۔ اس سے قبل 29 جولائی کو بھی علاقے 4ء6 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں 17 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

انڈونیشیا کے محکمۂ موسمیات نے کہا ہے کہ اتوار کی شام آنے والے زلزلے کے بعد سے اب تک 120 سے زائد آفٹر شاکس محسوس کیے جا چکے ہیں۔

انڈونیشیا زلزلوں اور آتش فشاں کی فالٹ لائنز کہلانے والے "رنگ آف فائر" یعنی حلقۂ آتش نامی علاقے میں واقع ہے جس کے باعث یہاں زلزلوں کا آنا معمول کی بات ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG