رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ انڈونیشی سپیشل فورسز کو تربیت دینے پر غور کررہا ہے


امریکہ انڈونیشی سپیشل فورسز کو تربیت دینے پر غور کررہا ہے

امریکہ کچھ عرصے سے انڈونیشیا کے ساتھ اس بارے میں بات کررہا ہے کہ اُس ملک کے کوپا سُس یونٹ کے ساتھ مل کر کس طرح کام کیا جائے

امریکہ کے محکمہ دفاع نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ وہ انڈونیشیا کے اُن سپیشل فوجی دستوں کے ساتھ دوبارہ مِل کر کام کرنے پر غور کررہا ہے، جن کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کی چھان بین ہوتی رہی ہے۔

پینٹگان کے ترجمان برائین وِٹمین نے بدھ کے روز واشنگٹن میں نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ امریکہ کچھ عرصے سے انڈونیشیا کے ساتھ اس بارے میں بات کررہا ہے کہ اُس ملک کے کوپا سُس یونٹ کے ساتھ مل کر کس طرح کام کیا جائے۔

انہوں نے کہا ہے کہ کسی بھی رابطے میں امریکی قوانین اور اقدار کا احترام کرنا ہو گااور یہ دیکھنا ہوگا وہ رابطہ واشنگٹن کے مفاد میں ہو۔

سہارتو کی آمریت کے دور میں اعلیٰ تربیت یافتہ فوجی دستے کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے امریکہ پر 1997 ء سے انڈونیشیا کی سپیشل فورسز کو تربیت فراہم کرنے پر قانون کے تحت پابندی عائد ہے۔ حتّیٰ کہ 1998 میں سہارتو انتظامیہ کے خاتمے کے بعد بھی کوپا سُس یونٹ کو قتل اور لوگوں کو غائب کردینے کے واقعات میں ملوّث بتایا گیا تھا۔

وِٹمین نے یہ نہیں بتایا کہ کس قسم کی فوجی تربیت فراہم کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔لیکن انہوں نے یہ نشاندہی کی کہ انسدادِ دہشت گردی دونوں ملکوں کے مشترکہ مفاد میں ہے۔

XS
SM
MD
LG