رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا کے انتخابات میں دوبارہ صدر ودودو کامیاب


اس ہفتے ہونے والے انڈونیشیا کے صدارتی انتخابات سے دو ماہ قبل، انعام یافتہ ناول نگار ایکا کرنیاوان نے ایک کالم میں لکھا تھا کہ ’’اسلام نواز پہلے ہی جیت چکے ہیں۔‘‘

بدھ کے روز ہونے والی ووٹنگ میں جیت موجودہ صدر جوکو ودودو کی ہو چکی ہے، اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق وہ دوسری بار پانچ سال کے لیے عہدہ سنبھالیں گے۔ لیکن، یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ان کے چیلنجر کو ووٹ دینے والا مذہبی قدامت پسند گروپ ایک سخت گیر بلاک کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

ودودو کا اجتماعیت کی حمایت کا عہد اس سب سے بڑے مسلمان اکثریتی ملک میں کامیابی کا سبب بنا۔

لیکن، جس انڈونیشیا کی وہ حکمرانی کریں گے وہ مذہبی بنیاد پر بٹ چکا ہے، اور انھیں مسلمان گروہوں کے مطالبات ماننے پڑیں گے جنھوں نے انھیں ووٹ دیا، جب کہ سخت گیر اسلام نواز ووٹروں کو مطمئن کرنے کے لیے اُنھیں بہت زیادہ تگ و دو کرنی پڑے گی۔

احمد سکارسونو ’کنٹرول رسکس‘ کے ساتھ وابستہ سیاسی تجزیہ کار ہیں۔

بقول اُن کے، ’’قلیل مدت کے لیے ودودو کو مسلمان اکثریت کی آرا اور مفادات کو پیش نظر رکھنا ہوگا، چونکہ اگر اکثریت غیر محفوظ محسوس کرے گی تو اقلیتوں کا تحفظ مشکل امر ہوگا‘‘۔

وہ کہتے ہیں کہ ’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ انھیں عوام کے ساتھ چلنا ہوگا۔ ایسا نہیں ہے کہ انڈونیشیا سعودی عرب بن جائے گا یا نوبت یہاں تک پہنچے گی کہ چوری کے الزام پر مجرم کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا‘‘۔

انڈونیشیا کی تقریباً 90 فی صد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے، لیکن سرکاری طور پر ملک سیکولر ہے، جہاں ہندو، مسیحی، بودھ اور دیگر اقلیتیں رہتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG