رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا میں مسافر طیارہ سمندر میں گر کر تباہ، 189 افراد ہلاک


طیارے کا ملبہ

انڈونیشیا کی نجی ایئرلائن کا ایک مسافر طیارہ سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔

طیارے میں 3بچوں اور عملے کے 7 ارکان سمیت 189 افراد سوار تھے۔ اطلاعات کے مطابق کسی مسافر کو بھی بچایا نہیں جاسکا۔

طیارہ اندرون ملک پرواز پر تھا۔ اس نے جکارتہ سے پنگ کل پنانگ کے لئے پرواز کی تھی کہ دوران سفر اسے حادثہ پیش آگیا۔

نجی فضائی کمپنی نے حادثے کی تصدیق کی ہے۔ کمپنی ترجمان کے مطابق طیارہ اُڑان بھرنے کے 13 منٹ بعد ریڈار سے اچانک غائب ہوگیا تھا ، ساتھ ہی اس کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے بھی رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

طیارہ گرنے کے ممکنہ مقام پر امدادی کارروائیاں جاری تھیں۔

طیارہ حادثے میں مرنے والوں کے عزیز
طیارہ حادثے میں مرنے والوں کے عزیز

انڈونیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ طیارے میں 3 بچوں اور عملے کے 7 ارکان سمیت 189 افراد سوار تھے۔

تباہ ہونے والے طیارے کا ملبہ جاوا کے سمندر کے قریب سے مل گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایئرنیوی گیشن اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ رابطہ منقطع ہونے سے چند سیکنڈ پہلے ہی پائلٹ نے ایئرپورٹ پر واپس آنے کی درخواست کی تھی جس پر انہیں واپس آنے کی اجازت بھی دے دی گئی تھی لیکن چند ہی سیکنڈ بعد پائلٹ سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

انڈونیشی وزارت ٹرانسپورٹ کے ڈائریکٹر جنرل آف سول ایوی ایشن سندھو رہایو کے حوالے سے فرانسیسی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ جہاز کے عملے میں 2 پائلٹ اور 5 فضائی میزبان شامل تھے جبکہ فلائٹ ریڈار ویب سائٹ کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ اڑان بھرتے ہوئے جہاز کا رخ جنوب کی جانب تھا جو بعد میں شمال کی جانب ہوگیا ۔جاوا کا سمندر بھی اسی رخ پر واقع ہے۔

ادھربھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ تباہ ہونے والے طیارے کاپائلٹ بھارتی تھا جس کا مکمل نام بھاوی سنیجا ہے۔بھاوی پچھلے سات سالوں سے انڈونیشی فضائی کمپنی کا ملازم تھا۔

ایک اور اطلاع کے مطابق طیارے کا ملبہ زیر آب تیل کے ایک کنویں کے پاس سے ملا ہے ۔حادثے کی تحقیق میں کاک پٹ کی آوازوں، ڈیٹا ریکارڈرز، طیارے کا تکنیکی اسٹیٹس، عملے کی تربیت، موسم اور ایئر ٹریفک ریکارڈنگز کا جائزہ لیا جائے گاکیوں کہ فوری طور پر حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے ۔

انڈونیشیاء میں رواں سال پیش آنے والا دوسرا فضائی حادثہ ہے جبکہ اس سے قبل 2014، اور 2015ء میں بھی ایک ایک حادثہ ہوچکا ہے ۔ ان حادثات میں مجموعی طور پر 224 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اگر آج کے حادثے میں مرنے والے افراد کو بھی شامل کرلیا جائے تو ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 313 بنتی ہے۔

انڈونیشیا میں وسیع پیمانے پر جزائز واقع ہیں جن کے سبب یہاں کی عوام زیادہ تر فضائی سفر پر انحصار کرتی ہے لیکن یہ سفر بسا اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے اسی سبب یہاں فضائی حادثات پیش آجاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG