رسائی کے لنکس

بیرون ممالک سے آنے والے کئی پاکستانیوں میں کرونا کی تصدیق پر حکومت پریشان


فائل فوٹو

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کرونا کی وبا کے پیشِ نظر وطن واپسی کی خواہش مند ہے۔ لیکن ابو ظہبی سے آنے والی پرواز کے 50 فی صد مسافروں میں وائرس کی تصدیق کے بعد حکومتی اداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

یہ سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ کیا بیرون ملک موجود زیادہ تر پاکستانی کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں؟

متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے والی اتحاد ایئرویز کی پرواز 'ای وائے 231' 28 اپریل کی شام اسلام آباد پہنچی تھی۔ جہاز سے اترنے پر 209 مسافروں کی تھرمل اسکیننگ کی گئی۔ اس دوران کسی بھی مسافر میں کرونا کی علامات نہیں پائی گئی تھیں۔

بعد ازاں ٹیسٹ کرنے پر تقریباً 50 فی صد مسافروں میں کرونا وائرس پایا گیا۔ ان مسافروں کو راولپنڈی کی فاطمہ جناح یونیورسٹی میں بنائے گئے قرنطینہ مرکز میں رکھا گیا ہے۔

اس سے قبل جکارتہ سے آنے والی پرواز کے 36 مسافروں میں بھی کرونا وائرس مثبت آیا تھا۔

راولپنڈی کے قرنطینہ سینٹر میں موجود ایک مسافر، جس کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے، نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں کوئی اندازہ نہیں ہے کہ انہیں یہ وائرس متحدہ عرب امارات میں لگا یا پھر پاکستان آتے ہوئے منتقل ہوا ہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس کتنا پھیل سکتا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:57 0:00

ان کا کہنا تھا کہ "ہم آٹھ سے دس لوگ وہاں ایک ہی کمرے میں ساتھ رہتے تھے لیکن سب مکمل طور پر صحت مند تھے۔ کچھ روز قبل اپنی کمپنی کی طرف سے تنخواہیں نہ ملنے پر ہم نے ایک مظاہرہ کیا تھا جس میں کافی لوگ جمع ہوئے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ شاید وائرس وہیں سے لگا ہو۔"

مسافر کا کہنا تھا کہ راولپنڈی میں دو دن قرنطینہ مرکز میں رکھنے کے بعد جب ان کا کرونا ٹیسٹ کیا گیا تو وہ مثبت آیا۔ اس کے بعد سے انتظامیہ نے ہمیں یہیں رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ابھی تک یہاں موجود کسی بھی شخص میں کرونا کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔ زیادہ تر لوگ مکمل طور صحت مند ہیں اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ علامات 14 روز میں ظاہر ہوں گی۔ لہٰذا اس وقت ہم قرنطینہ مرکز میں انتظار کر رہے ہیں کہ اگر ٹیسٹ منفی آئے تو اپنے گھروں کو جائیں۔

اسی قرنطینہ مرکز میں موجود ایک اور مسافر نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں اس وقت ہزاروں لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ وہاں ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں اور پاکستان آنے کے لیے ٹکٹ بہت مہنگے مل رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بے روزگاری کا سوچ کر پریشان ہو رہے ہیں کہ وہاں بھی وہ ملازمتوں سے نکل گئے ہیں اور پاکستان میں بھی حالات برے ہیں۔ ایسے میں وہ کیا کریں گے؟

انہوں نے بتایا کہ امارات میں مقیم پاکستانیوں میں کرونا کی وبا پھیلنے کی ایک وجہ ان کا احتیاط نہ کرنا بھی ہے۔ ان کے بقول "وہاں مزدور طبقے کے لوگ ڈیروں پر رہتے ہیں جہاں ایک کمرے میں 10 سے 12 لوگوں کا ایک ساتھ رہنا معمول کی بات ہے۔

دوسری جانب حکومت پاکستان کے مطابق 88 ممالک میں مقیم ایک لاکھ سے زائد پاکستانی وطن واپس آنا چاہ رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے قومی سلامتی ڈویژن، معید یوسف کہتے ہیں کہ 88 ممالک سے ہزاروں پاکستانی وطن واپس آنا چاہتے ہیں۔ ان میں سے 90 فی صد لوگ متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب میں مقیم ہیں۔

معید یوسف نے کہا کہ بیرون ملک محصور پاکستانیوں کی واپسی کا فیصلہ متعلقہ ملک میں ہمارے سفیر کرتے ہیں۔ ہم بیرون ملک پھنسے تمام پاکستانیوں کو محفوظ طریقے سے وطن واپس لانا چاہتے ہیں۔ اگر حفظان صحت کے اصولوں کو نظر انداز کیا تو ہمارے عزیز و اقارب بیماری میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے کچھ عرصہ قبل بیرون ملک سے آنے والوں کو اس شرط پر لانے کی اجازت دی تھی کہ وہ لوگ پہلے اپنا کرونا ٹیسٹ کرائیں اور جن کا کرونا ٹیسٹ منفی آئے، صرف انہیں واپس لایا جائے۔

لیکن کچھ دن بعد ہی اس پالیسی کو بدلنا پڑا تھا۔ کیوں کہ ہزاروں افراد کرونا وائرس کے ٹیسٹ کرانا چاہ رہے تھے۔ لیکن امریکہ اور یورپ میں مقیم لوگوں کے ٹیسٹ نہیں ہو پا رہے تھے۔

ادھر پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وطن واپسی کے خواہش مند بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب تک 63 ہزار کے قریب پاکستانی ہمارے پاس رجسٹر ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تیسرے مرحلے میں ہفتہ وار سات ہزار پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کی کوشش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں گزشتہ کئی دنوں سے تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کرونا کا شکار ہونے والے 80 فی صد مریض لوکل ٹرانسمیشن کے ذریعے متاثر ہوئے ہیں۔ جب کہ 20 فی صد مریض ایسے ہیں جو بیرون ملک سے پاکستان آئے ہیں۔

'کرونا وائرس پھیلنے کا ڈر ذہنوں پر حاوی ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:58 0:00

پاکستان میں وبا پھیلنے کے ابتدائی دنوں میں یہ شرح اس کے بالکل الٹ تھی اور 78 فی صد کیسز بیرون ملک سے آنے والوں میں رپورٹ ہو رہے تھے۔

بیرون ملک سے واپس آنے کے خواہش مند پاکستانی کن حالات سے دوچار ہیں؟ اس بارے میں سوئیڈن سے آنے والے ندیم احمد نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی واپسی کا نہیں سوچ رہے۔ لیکن وہ لوگ جن کی ملازمتیں نہیں رہیں یا پھر جو چھٹیوں میں واپس اپنے گھر آنا چاہتے ہیں، وہ زیادہ متاثر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایئر پورٹس پر کسی قسم کی احتیاط نہیں کی جا رہی۔ ایک فلائٹ کے جانے کے بعد اسی لاؤنج میں مزید مسافر آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ جراثیم کش ادویات کا ہر وقت چھڑکاؤ کرنا ممکن نہیں۔

ندیم احمد کا کہنا تھا کہ پاکستانی لاکھوں روپے دے کر وطن واپس آنا چاہ رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد کرونا سے متاثر ہو چکی ہے۔ ان لوگوں کے لیے دوہری مصیبت یہ ہے کہ غیر ملکی ہونے کی وجہ سے ان پاکستانیوں کو بیرونِ ممالک میں محدود سہولیات دستیاب ہوتی ہیں۔

نوٹ: دو مسافروں کی درخواست پر ان کا نام ظاہر نہیں کیا جا رہا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG