رسائی کے لنکس

logo-print

تباہ ہونے والے مسافر طیارے کا ایک پائلٹ کاک پٹ میں نہیں تھا: رپورٹ


بلیک باکس کا تجزیہ پیرس میں کیا جارہا ہے جہاں حکام حادثے سے کچھ دیر قبل پائلٹ کے آخری الفاظ سننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فرانس میں دو روز قبل گر کر تباہ ہونے والے جرمن مسافر طیارے کے واقعے کی تحقیقات سے آگاہ ایک تفتیش کار نے کہا ہے کہ جہاز کی بلندی تواتر سے کم ہونے سے قبل بظاہر ایک پائلٹ کاک پٹ سے نکلا تھا اور واپس اپنی جگہ پر آنے میں ناکام رہا۔

امریکی اخبار "دی نیویارک ٹائمز" کی خبر کے مطابق کاک پٹ وائس ریکارڈ کے تجزیے کی معلومات سے جانکاری رکھنے والے تفتیش کار نے بتایا کہ " (کاک پٹ سے) باہر کھڑا شخص ہلکی دستک دے رہا تھا لیکن اسے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اور پھر اس نے زور سے دروازہ کھٹکھٹایا لیکن پھر بھی کوئی جواب نہ ملا، کبھی بھی کوئی جواب نہیں آیا۔"

ان کے بقول یہ بھی سنا جا سکتا ہے کہ وہ دروازہ توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

منگل کو اسپین کے شہر بارسلونا سے جرمن شہر ڈوسلڈورف جاتے ہوئے فرانس کے پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس پر سوار تمام 150 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ایئربس اے-320 کی تباہی کی تحقیقات کرنے والے حکام نے بتایا تھا کہ انھیں جائے حادثہ سے "بلیک باکس" مل گیا تھا۔

فرانس کی ہوابازی کی سکیورٹی کے عہدیدار ریمی جوئتے نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ "ہم ایک قابل استعمال آڈیو فائل حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ طیارے کی تباہی کی وجوہات کا نتیجہ اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہو گا۔

بلیک باکس کا تجزیہ پیرس میں کیا جا رہا ہے جہاں حکام حادثے سے کچھ دیر قبل پائلٹ کے آخری الفاظ سننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ریمی نے کہا کہ " تفصیل سے آڈیو فائل کا جائزہ لیا جائے گا، جو بھی اور آوازیں اس میں ہیں ان کا بھی اور یہ کام چند دنوں کا کام ہے۔"

قبل ازیں بدھ کو فرانس کے صدر فرانسواں اولاں، جرمن چانسلر آنگیلا مرخیل اور اسپین کے وزیراعظم ماریانو راخوئے جائے حادثہ قریب قائم امدادی کارروائیوں کے لیے بنائی گئی عارضی جگہ کا دورہ کیا۔

فرانس کی ہوابازی کے شعبے کا گزشتہ 15 سالوں میں یہ بدترین حادثہ تھا۔

صدر اولاں نے عزم ظاہر کیا کہ فرانسیسی تفتیش کار اس حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے سر توڑ کوشش کریں گے۔

انھوں نے جرمن چانسلر اور ہسپانوی وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ" یقین رکھیے۔۔ہم سب پتا لگائیں گے اور ہم اس تباہی کے تمام حالات پر روشنی ڈالیں گے۔

طیارے کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں اکثریت جرمنی اور اسپین کے شہریوں کی تھی۔

XS
SM
MD
LG