رسائی کے لنکس

logo-print

ایران: پاسدران انقلاب کا امریکی 'ڈرون' گرانے کا دعویٰ


فائل فوٹو

ایران کی جانب سے خلیج میں ایک امریکی ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے پاسدران انقلاب کی ویب سائٹ 'سپاہ نیوز' کا حوالہ دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جاسوسی پر مامور ایک امریکی ڈرون کو جنوبی ایران کے علاقے 'ہرمزگان' میں گرایا گیا ہے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی، ارنا نے بھی ان اطلاعات کو درست قرار دیا ہے، جس کے مطابق آر کیو 4، گلوبل ہاک نامی ڈرون کو گرایا گیا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بین الاقوامی فضائی حدود میں امریکی نیوی کے ایک ڈرون طیارے کے تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس سے قبل، امریکی فوج کی سینٹرل کمان کے ترجمان نے بدھ کے روز کسی امریکی طیارے یا ڈرون نے اس علاقے میں اڑان بھرنے کی تردید کی تھی۔

حکام کے مطابق، گرایا جانے والا ڈرون 24 گھنٹے سے بھی زائد مسلسل پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ زمین سے دس میل کی بلندی پر بھی پرواز کر سکتا ہے۔

امریکی فوجی حکام نے تصدیق کی تھی کہ حالیہ دنوں میں ایران نے امریکی ڈرون طیارے گرانے کی ایک کوشش کی تھی جب کہ ایران نواز حوثی باغیوں نے 6 جون کو ایک ڈرون طیارہ مار گرایا تھا۔

ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدرار نے بدھ کو واضح کیا تھا کہ ایران اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہر کوشش کو ناکام بنائے گا۔

ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی، تسنیم پر سپریم نیشنل کونسل کے سیکرٹری کا ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’’ہماری فضائی حدود سرخ لکیر کی مانند ہے، جو بھی اس کی خلاف ورزی کرے گا ایران اس کا بھرپور جواب دے گا۔‘‘

ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات کشیدگی کی نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں، امریکہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے جواب میں ایران نے یورینیم کی افزودگی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب گزشتہ سال امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ یکطرفہ طور پر ایران کے ساتھ 2015ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے الگ ہو گئے تھے۔ رواں ماہ کے آغاز پر امریکہ نے ایران سے تیل درآمد کرنے والے آٹھ ممالک کا استثنٰی بھی ختم کر دیا تھا۔

امریکہ کا یہ موقف ہے کہ ایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے اور اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھا رہا ہے جب کہ وہ خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے۔

ایران ان امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر زور دیتا آیا ہے۔

خطے میں کشیدگی کے باعث امریکہ نے جنگی بیڑے اور فوجی بھی مشرق وسطیٰ بھیج دیے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG