رسائی کے لنکس

logo-print

کسی ملک سے جنگ نہیں کریں گے، ایرانی صدر


ایران کے صدر حسن روحانی۔ فائل فوٹو

ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ ایران کسی بھی ملک کے خلاف جنگ نہیں کرے گا۔

ایرانی صدر کا یہ بیان امریکہ کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں ایک ہزار مزید فوجی بھیجنے کے اعلان کے ایک روز بعد آیا ہے۔ امریکہ کے قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شیناہین نے امریکی فوجیوں کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدام ایران کے طرف سے خطرے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

خلیج اومان میں جاپان کے دو آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی شدت اختیار گئی ہے اور امریکہ نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ ایران نے کیا ہے۔

آج پینٹاگان نے اپنے دعوے کی تصدیق کے طور پر چند تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ ان میں سے ایک تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ بقول پینٹاگان، ایران کے انقلابی گارڈز ایک آئل ٹینکر کی جانب سے بارودی سرنگ ہٹا رہے ہی، جب کہ دوسری تصویر میں یہ بارودی سرنگ جہاز کے ایک اور حصے میں نصب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایک اور تصویر میں دونوں میں سے ایک آئل ٹینکر میں ایک بڑا سوراخ دکھایا گیا ہے اور پینٹاگان کا کہنا ہے کہ یہ سوراخ ایک اور بارودی سرنگ کے پھٹنے سے ہوا۔

تاہم ایران کے صدر حسن روحانی نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کسی بھی ملک پر حملہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایران کو دنیا بھر میں الگ تھلگ کرنے کی کوششیں کر رہا ہے لیکن وہ اس میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔

ادھر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار فوجی تعینات کرنے سے باز رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی طرف سے یہ اقدام ایران کو جنگ پر اکسانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

آج منگل کے روز رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے روسی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ روس، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مسلسل خبردار کرتا رہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جان بوجھ کر کشیدگی بڑھانے سے باز رہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG